<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے باعث سپلائی متاثر، بھارت میں گھریلو گیس مہنگی کر دی گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283626/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی متاثر ہونے اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھارتی کمپنیوں نے تقریباً ایک سال میں پہلی بار مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، جو زیادہ تر کھانا پکانے کے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے، کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنر اور ایل پی جی فروخت کرنے والی کمپنی ہے، نے اپنی ویب سائٹ کے مطابق دہلی میں 14.2 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ کر کے اسے 913 روپے (9.93 ڈالر) کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ریفائنرز انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی ہم آہنگ انداز میں قیمتوں میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، جو دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا بڑا درآمد کنندہ ہے، نے گزشتہ سال 33.15 ملین میٹرک ٹن ککنگ گیس استعمال کی، جو پروپین اور بیوٹین کے آمیزے پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں سے تقریباً دو تہائی کھپت درآمدات کے ذریعے پوری کی گئی، جبکہ ان درآمدات میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی ایل پی جی کا حصہ 85 سے 90 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے جمعہ کے روز ریفائنرز کو ہدایت دی کہ ملک میں ککنگ گیس کی کسی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے ایل پی جی کی پیداوار بڑھائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی کمپنیوں نے 19 کلوگرام کے کمرشل ایل پی جی سلنڈرز کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جو زیادہ تر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں استعمال ہوتے ہیں، اور انہیں 1,768.50 روپے سے بڑھا کر 1,883 روپے کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی متاثر ہونے اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھارتی کمپنیوں نے تقریباً ایک سال میں پہلی بار مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، جو زیادہ تر کھانا پکانے کے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے، کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔</strong></p>
<p>انڈین آئل کارپوریشن، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنر اور ایل پی جی فروخت کرنے والی کمپنی ہے، نے اپنی ویب سائٹ کے مطابق دہلی میں 14.2 کلوگرام کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 7 فیصد اضافہ کر کے اسے 913 روپے (9.93 ڈالر) کر دیا ہے۔</p>
<p>سرکاری ریفائنرز انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی ہم آہنگ انداز میں قیمتوں میں اضافہ کیا۔</p>
<p>بھارت، جو دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا بڑا درآمد کنندہ ہے، نے گزشتہ سال 33.15 ملین میٹرک ٹن ککنگ گیس استعمال کی، جو پروپین اور بیوٹین کے آمیزے پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں سے تقریباً دو تہائی کھپت درآمدات کے ذریعے پوری کی گئی، جبکہ ان درآمدات میں مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی ایل پی جی کا حصہ 85 سے 90 فیصد تک ہے۔</p>
<p>بھارت نے جمعہ کے روز ریفائنرز کو ہدایت دی کہ ملک میں ککنگ گیس کی کسی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے ایل پی جی کی پیداوار بڑھائی جائے۔</p>
<p>بھارتی کمپنیوں نے 19 کلوگرام کے کمرشل ایل پی جی سلنڈرز کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جو زیادہ تر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں استعمال ہوتے ہیں، اور انہیں 1,768.50 روپے سے بڑھا کر 1,883 روپے کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283626</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2026 22:43:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/072239390ad8360.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/072239390ad8360.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
