<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:52:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:52:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمدات میں تاخیر کی گنجائش نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283620/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برآمدات کو بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لینا ہمیشہ ایک اچھا خیال ہوتا ہے، خاص طور پر جب معیشت نازک صورتحال کا شکار ہو اور بیرونی مالی ذخائر کم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وزارتِ تجارت میں منعقدہ حالیہ مشاورتی سیشن کو محض ایک معمول کی صنعتی ملاقات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، جہاں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے سامنے اپنے تحفظات اور شکایات پیش کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ وہی پرانے ڈھانچہ جاتی مسائل سالہا سال سے مسلسل سامنے آ رہے ہیں، اور اصل کہانی یہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پرگمیا ، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل، پی ٹی ای اے اور دیگر تنظیموں کے نمائندے کوئی نئے مطالبات لے کر نہیں آئے تھے۔ انہوں نے ان پیشگی ٹیکسوں کی نشاندہی کی جو آمدن حاصل ہونے سے پہلے ہی نقد رقم کے بہاؤ  کو شدید متاثر کرتے ہیں، بجلی و گیس کے بڑھے ہوئے نرخ جو عالمی مسابقت کو ختم کر دیتے ہیں، التوا کا شکار ریفنڈز جو ورکنگ کیپیٹل کو پھنسا دیتے ہیں، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت محدود قرضے اور پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں جو طویل مدتی منصوبہ بندی کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ یہ کوئی معمولی نوعیت کی رکاوٹیں نہیں ہیں، بلکہ یہ برآمدات کے پورے نظام کی بنیاد پر ضرب لگاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت اس بات پر ہے کہ یہ فہرست کتنی جانی پہچانی ہے۔ پاکستان دہائیوں سے برآمدات کی کمزور کارکردگی کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادائیگیوں کے توازن  کا ہر بحران برآمدات بڑھانے کے نئے وعدوں کو جنم دیتا ہے۔ حال ہی میں ڈیفالٹ کے قریب پہنچنے کے خطرے نے، جس کی وجہ سے سخت معاشی استحکام کے اقدامات اور شدید سکڑاؤ والی پالیسیاں  نافذ کرنا پڑیں، بیرونی آمدنی پر توجہ مزید مرکوز کر دینی چاہیے تھی۔ اس کے باوجود، گفتگو ابھی تک رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے محض ان کی شناخت تک ہی محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیشگی ٹیکسوں کا نفاذ اور پھر ریفنڈز میں تاخیر، درحقیقت نقد رقم کی دستیابی  پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان، خاص طور پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے شعبے میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں آرڈرز پورے کرنے کے لیے ملکی سطح پر رائج بلند شرحِ سود پر مزید قرض لینا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے ماحول میں جہاں توانائی اخراجات پہلے ہی علاقائی حریفوں سے زیادہ ہیں، یہ صورتحال اس نقصان کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ صنعتی شعبے کا اپنے علاقائی ہم عصروں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ محض لفظی نہیں ہے۔ بنگلہ دیش، ویتنام اور یہاں تک کہ بھارت بھی اپنی برآمدی سہولیات کو پیش گوئی  اور لاگت کے نظم و ضبط کے ساتھ ترتیب دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان قلیل مدتی ریلیف کے اعلانات اور پھر بعد میں ایسی ترامیم کے درمیان جھولتا رہتا ہے جو اس ریلیف کے اثر کو ختم کر دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی پر پابندیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ جب ورکنگ کیپٹل (کاروباری سرمائے) تک رسائی محدود ہو، تو برآمد کنندگان نہ تو بڑے آرڈرز حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اعتماد کے ساتھ نئی منڈیوں کی تلاش کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی ایل سیز کو بیک ٹو بیک ایل سیز کے لیے بطور ضمانت  یکساں طور پر قبول کرنے کی تجویز بظاہر تکنیکی ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی دور رس ہیں۔ اگر کمرشل بینک اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار یا غیر مستقل مزاج رہیں، تو برآمد کنندگان پیداوار اور مارکیٹنگ پر توجہ دینے کے بجائے انتظامی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں ہی الجھے رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں وہ خاموش رکاوٹ ہیں جو برآمدات کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ برآمدی معاہدے  مہینوں پہلے طے پاتے ہیں، جن میں قیمتوں کا تعین خام مال کی لاگت، توانائی کے نرخوں اور ٹیکس کے ڈھانچے کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ جب ان عوامل میں اچانک تبدیلی آتی ہے، تو منافع کا مارجن ختم ہو جاتا ہے۔ طویل مدتی خریدار ’اعتبار اور تسلسل‘ تلاش کرتے ہیں؛ پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال انہیں بدظن کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت کی جانب سے تجاویز کو فوری، بجٹ سے منسلک اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تقسیم کرنے کی یقین دہانی خوش آئند ہے۔ تکنیکی کمیٹیوں کی تشکیل حکومتی ارادے کی عکاسی کرتی ہے، لیکن جس چیز کی کمی ہے وہ ہے ’عمل درآمد کا ٹائم فریم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ گہرا خدشہ تزویراتی جمود کا ہے۔ پاکستان کی برآمدی آمدنی اس کی آبادی اور صنعتی بنیاد کے مقابلے میں اب بھی انتہائی معمولی ہے، جیسا کہ وزیرِ تجارت نے بھی ذکر کیا، ٹیکسٹائل کی مکمل طور پر مربوط  سپلائی چین رکھنے کے باوجود، ملک اس صلاحیت کو مستقل تنوع یا مسلسل ترقی میں تبدیل نہیں کر سکا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو مستحکم رکھنے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زراب بھی غیر متناسب اور ضرورت سے زیادہ کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بدستور کمزور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے تناظر میں برآمدات محض ایک شعبہ جاتی ہدف نہیں، بلکہ یہ معاشی خودمختاری کی بنیاد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر تجارت کے انداز تبدیل ہورہے ہیں۔ ممالک دوطرفہ معاہدوں، سپلائی چین کی ازسرِ نو ترتیب اور مخصوص شعبوں میں شراکت داریوں کو اس رفتار سے آگے بڑھا رہے ہیں جو حالیہ برسوں میں نہیں دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تزویراتی تجارتی پالیسی  اب قومی منصوبہ بندی کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ اس پس منظر میں، ریفنڈز، کریڈٹ کی حد اور ان کے استعمال کی مدت پر پاکستان میں ہونے والی بار بار کی بحثیں تکلیف دہ حد تک چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ وہ انتظامی رکاوٹیں ہیں جنہیں بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں اضافے کے لیے بلند بانگ نعروں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے وزارتِ تجارت، اسٹیٹ بینک، ٹیکس حکام اور توانائی کے ریگولیٹرز کے درمیان منظم ہم آہنگی درکار ہے۔ اس کے لیے ایسی پالیسی استحکام کی ضرورت ہے جس کی پیمائش سہ ماہیوں کے بجائے سالوں میں کی جائے۔ اس کے لیے برآمد کنندگان کو مالیاتی نظام کے لیے کیش فلو بفر کے بجائے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے تخلیق کار کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت کی نازک صورتحال بارہا بے نقاب ہوچکی ہے۔ ہر بحران اسی اعتراف کو جنم دیتا ہے کہ برآمدات کا بڑھنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نعرے بازی اور پختہ عزم کے درمیان فرق صرف اسی صورت میں نظر آئے گا جب وزارت کے اس اجلاس میں بیان کردہ رکاوٹیں ختم ہونا شروع ہوں گی۔ تب تک، برآمدات میں تیزی کے حوالے سے پرامیدی ایک حقیقت پسندانہ ہدف کے بجائے محض ایک خواہش ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برآمدات کو بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لینا ہمیشہ ایک اچھا خیال ہوتا ہے، خاص طور پر جب معیشت نازک صورتحال کا شکار ہو اور بیرونی مالی ذخائر کم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وزارتِ تجارت میں منعقدہ حالیہ مشاورتی سیشن کو محض ایک معمول کی صنعتی ملاقات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، جہاں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان نے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے سامنے اپنے تحفظات اور شکایات پیش کیں۔</strong></p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ وہی پرانے ڈھانچہ جاتی مسائل سالہا سال سے مسلسل سامنے آ رہے ہیں، اور اصل کہانی یہی ہے۔</p>
<p>پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، پرگمیا ، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل، پی ٹی ای اے اور دیگر تنظیموں کے نمائندے کوئی نئے مطالبات لے کر نہیں آئے تھے۔ انہوں نے ان پیشگی ٹیکسوں کی نشاندہی کی جو آمدن حاصل ہونے سے پہلے ہی نقد رقم کے بہاؤ  کو شدید متاثر کرتے ہیں، بجلی و گیس کے بڑھے ہوئے نرخ جو عالمی مسابقت کو ختم کر دیتے ہیں، التوا کا شکار ریفنڈز جو ورکنگ کیپیٹل کو پھنسا دیتے ہیں، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت محدود قرضے اور پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں جو طویل مدتی منصوبہ بندی کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ یہ کوئی معمولی نوعیت کی رکاوٹیں نہیں ہیں، بلکہ یہ برآمدات کے پورے نظام کی بنیاد پر ضرب لگاتی ہیں۔</p>
<p>حیرت اس بات پر ہے کہ یہ فہرست کتنی جانی پہچانی ہے۔ پاکستان دہائیوں سے برآمدات کی کمزور کارکردگی کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادائیگیوں کے توازن  کا ہر بحران برآمدات بڑھانے کے نئے وعدوں کو جنم دیتا ہے۔ حال ہی میں ڈیفالٹ کے قریب پہنچنے کے خطرے نے، جس کی وجہ سے سخت معاشی استحکام کے اقدامات اور شدید سکڑاؤ والی پالیسیاں  نافذ کرنا پڑیں، بیرونی آمدنی پر توجہ مزید مرکوز کر دینی چاہیے تھی۔ اس کے باوجود، گفتگو ابھی تک رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے محض ان کی شناخت تک ہی محدود ہے۔</p>
<p>پیشگی ٹیکسوں کا نفاذ اور پھر ریفنڈز میں تاخیر، درحقیقت نقد رقم کی دستیابی  پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان، خاص طور پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے شعبے میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں آرڈرز پورے کرنے کے لیے ملکی سطح پر رائج بلند شرحِ سود پر مزید قرض لینا پڑتا ہے۔</p>
<p>ایسے ماحول میں جہاں توانائی اخراجات پہلے ہی علاقائی حریفوں سے زیادہ ہیں، یہ صورتحال اس نقصان کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ صنعتی شعبے کا اپنے علاقائی ہم عصروں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ محض لفظی نہیں ہے۔ بنگلہ دیش، ویتنام اور یہاں تک کہ بھارت بھی اپنی برآمدی سہولیات کو پیش گوئی  اور لاگت کے نظم و ضبط کے ساتھ ترتیب دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان قلیل مدتی ریلیف کے اعلانات اور پھر بعد میں ایسی ترامیم کے درمیان جھولتا رہتا ہے جو اس ریلیف کے اثر کو ختم کر دیتی ہیں۔</p>
<p>ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی پر پابندیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ جب ورکنگ کیپٹل (کاروباری سرمائے) تک رسائی محدود ہو، تو برآمد کنندگان نہ تو بڑے آرڈرز حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اعتماد کے ساتھ نئی منڈیوں کی تلاش کر سکتے ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی ایل سیز کو بیک ٹو بیک ایل سیز کے لیے بطور ضمانت  یکساں طور پر قبول کرنے کی تجویز بظاہر تکنیکی ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی دور رس ہیں۔ اگر کمرشل بینک اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار یا غیر مستقل مزاج رہیں، تو برآمد کنندگان پیداوار اور مارکیٹنگ پر توجہ دینے کے بجائے انتظامی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں ہی الجھے رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں وہ خاموش رکاوٹ ہیں جو برآمدات کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔ برآمدی معاہدے  مہینوں پہلے طے پاتے ہیں، جن میں قیمتوں کا تعین خام مال کی لاگت، توانائی کے نرخوں اور ٹیکس کے ڈھانچے کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ جب ان عوامل میں اچانک تبدیلی آتی ہے، تو منافع کا مارجن ختم ہو جاتا ہے۔ طویل مدتی خریدار ’اعتبار اور تسلسل‘ تلاش کرتے ہیں؛ پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال انہیں بدظن کر دیتی ہے۔</p>
<p>وزیرِ تجارت کی جانب سے تجاویز کو فوری، بجٹ سے منسلک اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تقسیم کرنے کی یقین دہانی خوش آئند ہے۔ تکنیکی کمیٹیوں کی تشکیل حکومتی ارادے کی عکاسی کرتی ہے، لیکن جس چیز کی کمی ہے وہ ہے ’عمل درآمد کا ٹائم فریم۔</p>
<p>زیادہ گہرا خدشہ تزویراتی جمود کا ہے۔ پاکستان کی برآمدی آمدنی اس کی آبادی اور صنعتی بنیاد کے مقابلے میں اب بھی انتہائی معمولی ہے، جیسا کہ وزیرِ تجارت نے بھی ذکر کیا، ٹیکسٹائل کی مکمل طور پر مربوط  سپلائی چین رکھنے کے باوجود، ملک اس صلاحیت کو مستقل تنوع یا مسلسل ترقی میں تبدیل نہیں کر سکا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کو مستحکم رکھنے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زراب بھی غیر متناسب اور ضرورت سے زیادہ کردار ادا کر رہی ہیں جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بدستور کمزور ہے۔</p>
<p>ایسے تناظر میں برآمدات محض ایک شعبہ جاتی ہدف نہیں، بلکہ یہ معاشی خودمختاری کی بنیاد ہیں۔</p>
<p>عالمی سطح پر تجارت کے انداز تبدیل ہورہے ہیں۔ ممالک دوطرفہ معاہدوں، سپلائی چین کی ازسرِ نو ترتیب اور مخصوص شعبوں میں شراکت داریوں کو اس رفتار سے آگے بڑھا رہے ہیں جو حالیہ برسوں میں نہیں دیکھی گئی۔</p>
<p>تزویراتی تجارتی پالیسی  اب قومی منصوبہ بندی کا مرکزی حصہ بن چکی ہے۔ اس پس منظر میں، ریفنڈز، کریڈٹ کی حد اور ان کے استعمال کی مدت پر پاکستان میں ہونے والی بار بار کی بحثیں تکلیف دہ حد تک چھوٹی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ وہ انتظامی رکاوٹیں ہیں جنہیں بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>برآمدات میں اضافے کے لیے بلند بانگ نعروں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے وزارتِ تجارت، اسٹیٹ بینک، ٹیکس حکام اور توانائی کے ریگولیٹرز کے درمیان منظم ہم آہنگی درکار ہے۔ اس کے لیے ایسی پالیسی استحکام کی ضرورت ہے جس کی پیمائش سہ ماہیوں کے بجائے سالوں میں کی جائے۔ اس کے لیے برآمد کنندگان کو مالیاتی نظام کے لیے کیش فلو بفر کے بجائے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے تخلیق کار کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>معیشت کی نازک صورتحال بارہا بے نقاب ہوچکی ہے۔ ہر بحران اسی اعتراف کو جنم دیتا ہے کہ برآمدات کا بڑھنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>نعرے بازی اور پختہ عزم کے درمیان فرق صرف اسی صورت میں نظر آئے گا جب وزارت کے اس اجلاس میں بیان کردہ رکاوٹیں ختم ہونا شروع ہوں گی۔ تب تک، برآمدات میں تیزی کے حوالے سے پرامیدی ایک حقیقت پسندانہ ہدف کے بجائے محض ایک خواہش ہی رہے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283620</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2026 15:46:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0715322358c4d54.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0715322358c4d54.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
