<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:33:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:33:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا ایرانی عملے کو وطن واپس نہ بھیجے، امریکا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283618/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمہ خارجہ کے ایک مراسلے کے مطابق امریکہ سری لنکا کی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس ہفتے ڈبوئے گئے ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کے بچ جانے والے عملے اور سری لنکا کی تحویل میں موجود دوسرے ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس بوشہر کے عملے کو ایران واپس نہ بھیجے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کو جمعہ کو دکھائی جانے والی امریکی محکمہ خارجہ کی داخلی مراسلے کے مطابق، امریکہ سری لنکا کی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس ہفتے ڈبوئے گئے ایرانی جنگی جہاز کے بچ جانے والے عملے اور سری لنکا کی تحویل میں موجود دوسرے ایرانی جہاز کے عملے کو وطن واپس نہ بھیجے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو امریکی آبدوز نے سری لنکا کے جنوبی ساحلی شہر گال سے تقریباً 19 ناٹیکل میل دور بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو ڈبو دیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید ہوگئے۔ اس کارروائی نے واشنگٹن کی ایرانی بحریہ کے خلاف جاری مہم کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو سری لنکا نے آئی آر آئی ایس بوشہر کے 208 عملے کے ارکان کو اتارنا شروع کیا۔ یہ بحری معاون جہاز سری لنکا کے خصوصی اقتصادی زون میں پھنس گیا تھا تاہم اس کی سمندری حدود سے باہر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈیسانائیکے نے کہا کہ ان کی ریاست کی یہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ذمہ داری ہے کہ وہ عملے کو پناہ دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ  کے مراسلے کے مطابق کولمبو میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور جین ہاویل نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ نہ تو بوشہر کے عملے اور نہ ہی ڈینا کے بچ جانے والے 32 ارکان کو ایران واپس بھیجا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے فی الحال تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ صدر ڈیسانائیکے کے دفتر اور سری لنکا کی وزارتِ خارجہ کے نمائندے بھی فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمہ خارجہ کے ایک مراسلے کے مطابق امریکہ سری لنکا کی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس ہفتے ڈبوئے گئے ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کے بچ جانے والے عملے اور سری لنکا کی تحویل میں موجود دوسرے ایرانی بحری جہاز آئی آر آئی ایس بوشہر کے عملے کو ایران واپس نہ بھیجے۔</strong></p>
<p>رائٹرز کو جمعہ کو دکھائی جانے والی امریکی محکمہ خارجہ کی داخلی مراسلے کے مطابق، امریکہ سری لنکا کی حکومت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس ہفتے ڈبوئے گئے ایرانی جنگی جہاز کے بچ جانے والے عملے اور سری لنکا کی تحویل میں موجود دوسرے ایرانی جہاز کے عملے کو وطن واپس نہ بھیجے۔</p>
<p>بدھ کو امریکی آبدوز نے سری لنکا کے جنوبی ساحلی شہر گال سے تقریباً 19 ناٹیکل میل دور بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو ڈبو دیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید ہوگئے۔ اس کارروائی نے واشنگٹن کی ایرانی بحریہ کے خلاف جاری مہم کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>جمعرات کو سری لنکا نے آئی آر آئی ایس بوشہر کے 208 عملے کے ارکان کو اتارنا شروع کیا۔ یہ بحری معاون جہاز سری لنکا کے خصوصی اقتصادی زون میں پھنس گیا تھا تاہم اس کی سمندری حدود سے باہر تھا۔</p>
<p>سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈیسانائیکے نے کہا کہ ان کی ریاست کی یہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ذمہ داری ہے کہ وہ عملے کو پناہ دے۔</p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ  کے مراسلے کے مطابق کولمبو میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور جین ہاویل نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ نہ تو بوشہر کے عملے اور نہ ہی ڈینا کے بچ جانے والے 32 ارکان کو ایران واپس بھیجا جائے۔</p>
<p>اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے فی الحال تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ صدر ڈیسانائیکے کے دفتر اور سری لنکا کی وزارتِ خارجہ کے نمائندے بھی فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283618</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2026 15:26:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/071520378a432e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/071520378a432e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
