<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: عالمی کاروباری دنیا میں ہلچل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283612/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے دنیا بھر کے کاروبار کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اہم خام مال کی فراہمی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے اور خوراک سے لے کر گاڑیوں کے پرزوں تک اشیا کی ترسیل کیلئے اہم تجارتی راستوں کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتے تنازع نے مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والی فضائی اور بحری نقل وحمل کی بڑی گزرگاہوں کو مفلوج کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تیل کی کل رسد کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، وہاں شپنگ تقریباً تھم گئی ہے کیونکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ڈرون حملے شروع کردیے ہیں۔ خلیج کے مصروف ترین فضائی راستے بھی اب سنسان ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ کردیا ہے جس سے ان کے منافع کے مارجن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے جبکہ پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کیلئے مہنگائی کی ایک نئی لہر کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرانکس بنانے والے ادارے اور این ویڈیا کے اہم شراکت دار فاکس کون کے چیئرمین ینگ لیو نے جمعہ کو خبردار کیا کہ اگر یہ اثرات طویل عرصے تک برقرار رہے، تو ہر کوئی انہیں محسوس کرنا شروع کردے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلے ہفتے کے حملوں سے پہلے ہی کمپنیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھیں کیونکہ امریکہ کی جانب سے درآمدات پر عائد بھاری محصولات نے اخراجات میں اضافہ کیا، سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا اور صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صارفین کیلئے پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ایک اور بڑا دھکا ہے، جمعہ کو ملک بھر میں ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت 3.32 ڈالر فی گیلن رہی، جو ایک ہفتہ قبل 2.98 ڈالر تھی۔ برینٹ کروڈ کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں تاہم یہ اب بھی 2022 کی ان سطحوں سے کم ہیں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی مشروبات بنانے والی کمپنی کمپاری کے سی ای او سائمن ہنٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ جب بھی آپ تیل یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھتے ہیں، تو اس کا اثر ہر صنعت اور ہر کمپنی پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطالوی مشروبات بنانے والی کمپنی کیمپاری کے سی ای او سائمن ہنٹ نے اس ہفتے کمپنی کے مالیاتی نتائج کے اعلان کے بعد رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ تیل یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھتے ہیں، تو اس کا سلسلہ وار اثر  نیچے تک ہر کمپنی اور ہر صنعت پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ کے زخم ابھی تازہ: 2022 کے بحران سے نکلنے کی کوششیں جاری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ میں جو ابھی تک 2022 کے توانائی بحران کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، کیمیکلز جیسی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی صنعتوں کے لیے یہ معاشی تکلیف انتہائی شدید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن معاشی ادارے آئی ڈبلیو نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچتی ہے تو اس سے جرمنی کی معیشت کو رواں سال جی ڈی پی کے 0.3 فیصد اور اگلے سال 0.6 فیصد کا نقصان ہوسکتا ہے۔ دو سالوں کے دوران معاشی پیداوار میں ہونے والا یہ نقصان تقریباً 40 ارب یورو (46 ارب ڈالر) بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیمپاری کے سی ای او سائمن ہنٹ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے توانائی کی قیمتوں میں بڑے اضافے سے بچنے کے لیے کچھ طویل مدتی معاہدے کر رکھے ہیں۔ دوسری جانب، صارفین کی ضروریات کی اشیاء بنانے والی مشہور کمپنی ریکٹ بینکیزر کی سی ایف او شینن آئزن ہارٹ نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ فرم نے 2026 کے لیے اپنی تیل اور گیس کی قیمتوں کے رسک کا تقریباً 55 فیصد حصہ پہلے ہی  ہیج کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یونیڈن جو کیمیکلز، آٹو اور زراعت سمیت فرانس کی توانائی پر منحصر بڑی صنعتوں کی نمائندگی کرتی ہے نے خبردار کیا ہے کہ کچھ کمپنیوں نے ابھی سے اپنی پیداوار میں کٹوتی شروع کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یورپ میں گیس کی قیمتوں پر اس کے فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں جہاں اسپاٹ پرائس میں 80 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اسی لیے کچھ جگہوں پر پیداوار روک دی گئی ہے یا اس کی رفتار سست کر دی گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر لائنز کے حصص کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ یورپی بجٹ ایئر لائن وز ایئر  جس نے قیمتوں کو ہیج کر رکھا ہے نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ مالی سال 2026 کے لیے اس کے خالص منافع میں تقریباً 50 ملین یورو (58 ملین ڈالر) کی کمی کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلومینیم، ہیلیم اور سلفر کی فراہمی میں مشکلات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحری مال برداری میں خلل نے سلفر جیسے مخصوص صنعتی خام مال کو متاثر کیا ہے اور ایلومینیم تیار کرنے والے بڑے اداروں کو فورس میجر (ناگزیر حالات) کی شقیں نافذ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شپنگ کمپنیوں اور انشورنس فراہم کرنے والے اداروں نے اس تنازع کے جواب میں اپنی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری ایلومینیم پلانٹ قاتلم نے اسی ہفتے اپنا کام بند کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ’ایلومینیم بحرین‘ نے کہا ہے کہ اس نے اپنی ترسیل روک دی ہے اور ’فورس میجر‘ کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دھات کی نقل و حمل کرنے سے قاصر ہے۔ عالمی سطح پر ایلومینیم کی کل رسد کا تقریباً 8 فیصد خلیجی خطے سے آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میٹل ایکسچینج  میں ایلومینیم کی قیمتوں میں اس خبر کے بعد زبردست اضافہ ہوا، جبکہ یورپ اور امریکہ میں اس کی ’فزیکل پریمیم‘ (فوری دستیابی کی قیمت) کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ طویل تنازع مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہونے والے سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے کلیدی خام مال کی فراہمی میں خلل ڈال سکتا ہے، جس میں ہیلیم بھی شامل ہے۔ ہیلیم چِپ سازی  کے لیے ناگزیر ہے اور اس کا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایمازون کے کچھ ڈیٹا سینٹرز کو پہنچنے والے نقصان نے ٹیکنالوجی کی سپلائی چین اور خطے میں بڑی ٹیک کمپنیوں  کی توسیع کی رفتار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی کساد بازاری کا لائحہ عمل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورگن اسٹینلے  نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافہ معاشی کساد بازاری کے خطرے کو جنم دے سکتا ہے جبکہ گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا عارضی طور پر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنا عالمی معاشی ترقی کی رفتار کو 0.4 فیصد تک سست کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ تنازع کتنا طویل ہوتا ہے جو کہ فی الحال انتہائی غیر یقینی ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے کسی طویل اور مہنگی جنگ کا حصہ بننا نہیں چاہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بارکلیز  میں یورپی ایکویٹی اسٹریٹجی کے سربراہ، ایمانوئل کاؤ نے کہا کہ آپ واقعی یہ نہیں چاہیں گے کہ یہ سلسلہ بہت طویل چلے۔ اگر یہ چند ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہتا ہے، تو یقیناً کمپنیوں کے منافع کے تخمینوں میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی آٹو ڈسٹری بیوٹر انچ کیپ کا کہنا ہے کہ اس تنازع کی وجہ سے جاپان سے یورپ جانے والی ترسیلات میں ہفتوں کی تاخیر ہوسکتی ہے جبکہ آن لائن ٹریول ایجنٹ لو ہالیڈیز  مارکیٹ میں پھیلی بے یقینی اور سفری افراتفری کے باعث لندن میں اپنا آئی پی او فی الحال ملتوی کرنے کی تیاری کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کے سب سے بڑے بجلی پیدا کرنے والے ادارے آر ڈبلیو ای کے سی ای او مارکس کریبر نے کہا ہے کہ توانائی ایک بار پھر دنیا بھر میں شہ سرخیوں پر حاوی ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریبر نے مزید کہا کہ گیس اور تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، اہم تجارتی بحری راستے جغرافیائی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور پالیسی ساز رسد کے خطرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے دنیا بھر کے کاروبار کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اہم خام مال کی فراہمی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے اور خوراک سے لے کر گاڑیوں کے پرزوں تک اشیا کی ترسیل کیلئے اہم تجارتی راستوں کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</strong></p>
<p>بڑھتے تنازع نے مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والی فضائی اور بحری نقل وحمل کی بڑی گزرگاہوں کو مفلوج کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تیل کی کل رسد کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، وہاں شپنگ تقریباً تھم گئی ہے کیونکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ڈرون حملے شروع کردیے ہیں۔ خلیج کے مصروف ترین فضائی راستے بھی اب سنسان ہوچکے ہیں۔</p>
<p>تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ کردیا ہے جس سے ان کے منافع کے مارجن کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے جبکہ پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کیلئے مہنگائی کی ایک نئی لہر کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔</p>
<p>دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرانکس بنانے والے ادارے اور این ویڈیا کے اہم شراکت دار فاکس کون کے چیئرمین ینگ لیو نے جمعہ کو خبردار کیا کہ اگر یہ اثرات طویل عرصے تک برقرار رہے، تو ہر کوئی انہیں محسوس کرنا شروع کردے گا۔</p>
<p>پچھلے ہفتے کے حملوں سے پہلے ہی کمپنیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھیں کیونکہ امریکہ کی جانب سے درآمدات پر عائد بھاری محصولات نے اخراجات میں اضافہ کیا، سپلائی چین کو درہم برہم کر دیا اور صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔</p>
<p>امریکی صارفین کیلئے پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ایک اور بڑا دھکا ہے، جمعہ کو ملک بھر میں ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت 3.32 ڈالر فی گیلن رہی، جو ایک ہفتہ قبل 2.98 ڈالر تھی۔ برینٹ کروڈ کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں تاہم یہ اب بھی 2022 کی ان سطحوں سے کم ہیں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔</p>
<p>اطالوی مشروبات بنانے والی کمپنی کمپاری کے سی ای او سائمن ہنٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ جب بھی آپ تیل یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھتے ہیں، تو اس کا اثر ہر صنعت اور ہر کمپنی پر پڑتا ہے۔</p>
<p>اطالوی مشروبات بنانے والی کمپنی کیمپاری کے سی ای او سائمن ہنٹ نے اس ہفتے کمپنی کے مالیاتی نتائج کے اعلان کے بعد رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ تیل یا گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھتے ہیں، تو اس کا سلسلہ وار اثر  نیچے تک ہر کمپنی اور ہر صنعت پر پڑتا ہے۔</p>
<p><strong>یورپ کے زخم ابھی تازہ: 2022 کے بحران سے نکلنے کی کوششیں جاری</strong></p>
<p>یورپ میں جو ابھی تک 2022 کے توانائی بحران کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، کیمیکلز جیسی توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی صنعتوں کے لیے یہ معاشی تکلیف انتہائی شدید ہے۔</p>
<p>جرمن معاشی ادارے آئی ڈبلیو نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچتی ہے تو اس سے جرمنی کی معیشت کو رواں سال جی ڈی پی کے 0.3 فیصد اور اگلے سال 0.6 فیصد کا نقصان ہوسکتا ہے۔ دو سالوں کے دوران معاشی پیداوار میں ہونے والا یہ نقصان تقریباً 40 ارب یورو (46 ارب ڈالر) بنتا ہے۔</p>
<p>کیمپاری کے سی ای او سائمن ہنٹ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے توانائی کی قیمتوں میں بڑے اضافے سے بچنے کے لیے کچھ طویل مدتی معاہدے کر رکھے ہیں۔ دوسری جانب، صارفین کی ضروریات کی اشیاء بنانے والی مشہور کمپنی ریکٹ بینکیزر کی سی ایف او شینن آئزن ہارٹ نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ فرم نے 2026 کے لیے اپنی تیل اور گیس کی قیمتوں کے رسک کا تقریباً 55 فیصد حصہ پہلے ہی  ہیج کر لیا ہے۔</p>
<p>لیکن یونیڈن جو کیمیکلز، آٹو اور زراعت سمیت فرانس کی توانائی پر منحصر بڑی صنعتوں کی نمائندگی کرتی ہے نے خبردار کیا ہے کہ کچھ کمپنیوں نے ابھی سے اپنی پیداوار میں کٹوتی شروع کردی ہے۔</p>
<p>ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یورپ میں گیس کی قیمتوں پر اس کے فوری اثرات مرتب ہوئے ہیں جہاں اسپاٹ پرائس میں 80 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے اور مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ اسی لیے کچھ جگہوں پر پیداوار روک دی گئی ہے یا اس کی رفتار سست کر دی گئی ہے۔“</p>
<p>ایئر لائنز کے حصص کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ یورپی بجٹ ایئر لائن وز ایئر  جس نے قیمتوں کو ہیج کر رکھا ہے نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ مالی سال 2026 کے لیے اس کے خالص منافع میں تقریباً 50 ملین یورو (58 ملین ڈالر) کی کمی کر دے گی۔</p>
<p><strong>ایلومینیم، ہیلیم اور سلفر کی فراہمی میں مشکلات</strong></p>
<p>بحری مال برداری میں خلل نے سلفر جیسے مخصوص صنعتی خام مال کو متاثر کیا ہے اور ایلومینیم تیار کرنے والے بڑے اداروں کو فورس میجر (ناگزیر حالات) کی شقیں نافذ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شپنگ کمپنیوں اور انشورنس فراہم کرنے والے اداروں نے اس تنازع کے جواب میں اپنی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>قطری ایلومینیم پلانٹ قاتلم نے اسی ہفتے اپنا کام بند کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ ’ایلومینیم بحرین‘ نے کہا ہے کہ اس نے اپنی ترسیل روک دی ہے اور ’فورس میجر‘ کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دھات کی نقل و حمل کرنے سے قاصر ہے۔ عالمی سطح پر ایلومینیم کی کل رسد کا تقریباً 8 فیصد خلیجی خطے سے آتا ہے۔</p>
<p>لندن میٹل ایکسچینج  میں ایلومینیم کی قیمتوں میں اس خبر کے بعد زبردست اضافہ ہوا، جبکہ یورپ اور امریکہ میں اس کی ’فزیکل پریمیم‘ (فوری دستیابی کی قیمت) کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے حکام نے متنبہ کیا ہے کہ طویل تنازع مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہونے والے سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے کلیدی خام مال کی فراہمی میں خلل ڈال سکتا ہے، جس میں ہیلیم بھی شامل ہے۔ ہیلیم چِپ سازی  کے لیے ناگزیر ہے اور اس کا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایمازون کے کچھ ڈیٹا سینٹرز کو پہنچنے والے نقصان نے ٹیکنالوجی کی سپلائی چین اور خطے میں بڑی ٹیک کمپنیوں  کی توسیع کی رفتار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p><strong>معاشی کساد بازاری کا لائحہ عمل</strong></p>
<p>مورگن اسٹینلے  نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافہ معاشی کساد بازاری کے خطرے کو جنم دے سکتا ہے جبکہ گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا عارضی طور پر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنا عالمی معاشی ترقی کی رفتار کو 0.4 فیصد تک سست کر سکتا ہے۔</p>
<p>بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ یہ تنازع کتنا طویل ہوتا ہے جو کہ فی الحال انتہائی غیر یقینی ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے کسی طویل اور مہنگی جنگ کا حصہ بننا نہیں چاہیں گے۔</p>
<p>بارکلیز  میں یورپی ایکویٹی اسٹریٹجی کے سربراہ، ایمانوئل کاؤ نے کہا کہ آپ واقعی یہ نہیں چاہیں گے کہ یہ سلسلہ بہت طویل چلے۔ اگر یہ چند ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہتا ہے، تو یقیناً کمپنیوں کے منافع کے تخمینوں میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔</p>
<p>برطانوی آٹو ڈسٹری بیوٹر انچ کیپ کا کہنا ہے کہ اس تنازع کی وجہ سے جاپان سے یورپ جانے والی ترسیلات میں ہفتوں کی تاخیر ہوسکتی ہے جبکہ آن لائن ٹریول ایجنٹ لو ہالیڈیز  مارکیٹ میں پھیلی بے یقینی اور سفری افراتفری کے باعث لندن میں اپنا آئی پی او فی الحال ملتوی کرنے کی تیاری کررہا ہے۔</p>
<p>جرمنی کے سب سے بڑے بجلی پیدا کرنے والے ادارے آر ڈبلیو ای کے سی ای او مارکس کریبر نے کہا ہے کہ توانائی ایک بار پھر دنیا بھر میں شہ سرخیوں پر حاوی ہو رہی ہے۔</p>
<p>کریبر نے مزید کہا کہ گیس اور تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، اہم تجارتی بحری راستے جغرافیائی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور پالیسی ساز رسد کے خطرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283612</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2026 14:13:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/07133845cfebb17.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/07133845cfebb17.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
