<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:09:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی میں 0.37 فیصد اضافہ، چکن، گیس، پٹرول اور ڈیزل سمیت 13 اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283610/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران، حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) پر مبنی افراطِ زر (مہنگائی) میں 0.37 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مرغی کے گوشت (10.46 فیصد)، ایل پی جی (5.61 فیصد)، کیلے (3.85 فیصد)، پٹرول (3.06 فیصد) اور ڈیزل (1.84 فیصد) کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ دیگر اشیاء جن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ان میں لہسن (1.23 فیصد)، گائے کا گوشت (0.66 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.65 فیصد)، ماش کی دال (0.51 فیصد)، لان کا کپڑا (0.43 فیصد)، گڑ (0.30 فیصد) اور سرسوں کا تیل (0.24 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق  ہفتہ وار بنیاد پر چند اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 10.04 فیصد، انڈوں میں 8.13 فیصد، پیاز میں 6.08 فیصد اور آلو کی قیمت میں 5.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 51 اشیاء میں سے 13 اشیاء (یعنی 25.49 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ ، 11 اشیاء (21.57 فیصد) کی قیمتوں میں کمی اور 27 اشیاء (52.96 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سالانہ بنیاد پر حساس قیمتوں کے اشاریے  میں 4.70 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ گیس چارجز (پہلی سہ ماہی) میں 29.85 فیصد، گندم کے آٹے میں 26.13 فیصد، بجلی کے نرخوں (پہلی سہ ماہی) میں 17.33 فیصد اور ایل پی جی میں 16.89 فیصد دیکھا گیا۔ دیگر اشیاء جن کی قیمتوں میں سال بھر کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، ان میں سرخ مرچ پاؤڈر (15.20 فیصد)، گائے کا گوشت (12.36 فیصد)، ایندھن کی لکڑی (11.40 فیصد)، خشک دودھ (10.16 فیصد)، بکرے کا گوشت (9.32 فیصد)، ٹماٹر (9.02 فیصد)، گڑ (8.51 فیصد) اور ٹوٹا باسمتی چاول (6.18 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پر چند اہم اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی جن میں آلو کی قیمت میں 53.76 فیصد، پیاز میں 26.10 فیصد، انڈوں میں 24.93 فیصد، لہسن میں 22.25 فیصد، مرغی میں 21.70 فیصد اور چنے کی دال میں 21.37 فیصد کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پسا ہوا نمک 12.52 فیصد اور مسور کی دال 10.71 فیصد سستی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم آمدنی والے طبقے (جن کی ماہانہ آمدنی 17,732 روپے تک ہے) کے لیے حساس قیمتوں کا اشاریہ بغیر کسی تبدیلی کے 323.48 پوائنٹس پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہانہ آمدنی کے مختلف طبقات کے لیے حساس قیمتوں کے اشاریے میں مختلف تناسب سے اضافہ دیکھا گیا۔ 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ کمانے والوں کیلئے ای پی آئی میں 0.09 فیصد اضافہ ہوا جو 325.20 پوائنٹس سے بڑھ کر 325.48 پوائنٹس ہو گیا۔ اسی طرح 22,889 سے 29,517 روپے آمدنی والے طبقے کیلئے یہ اشاریہ 345.76 پوائنٹس سے بڑھ کر 346.32 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ 29,518 سے 44,175 روپے ماہانہ کمانے والے گروپ کے لیے مہنگائی میں 0.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ان کا انڈیکس 332.19 سے بڑھ کر 333.05 پوائنٹس ہو گیا جبکہ 44,175 روپے اور اس سے زائد آمدنی والے طبقے کے لیے ایس پی آئی میں 0.53 فیصد کا سب سے نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 331.23 پوائنٹس سے بڑھ کر 333 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>5 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران، حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) پر مبنی افراطِ زر (مہنگائی) میں 0.37 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ مرغی کے گوشت (10.46 فیصد)، ایل پی جی (5.61 فیصد)، کیلے (3.85 فیصد)، پٹرول (3.06 فیصد) اور ڈیزل (1.84 فیصد) کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ دیگر اشیاء جن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ان میں لہسن (1.23 فیصد)، گائے کا گوشت (0.66 فیصد)، بکرے کا گوشت (0.65 فیصد)، ماش کی دال (0.51 فیصد)، لان کا کپڑا (0.43 فیصد)، گڑ (0.30 فیصد) اور سرسوں کا تیل (0.24 فیصد) شامل ہیں۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق  ہفتہ وار بنیاد پر چند اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں 10.04 فیصد، انڈوں میں 8.13 فیصد، پیاز میں 6.08 فیصد اور آلو کی قیمت میں 5.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مجموعی طور پر 51 اشیاء میں سے 13 اشیاء (یعنی 25.49 فیصد) کی قیمتوں میں اضافہ ، 11 اشیاء (21.57 فیصد) کی قیمتوں میں کمی اور 27 اشیاء (52.96 فیصد) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>تاہم سالانہ بنیاد پر حساس قیمتوں کے اشاریے  میں 4.70 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر نمایاں اضافہ گیس چارجز (پہلی سہ ماہی) میں 29.85 فیصد، گندم کے آٹے میں 26.13 فیصد، بجلی کے نرخوں (پہلی سہ ماہی) میں 17.33 فیصد اور ایل پی جی میں 16.89 فیصد دیکھا گیا۔ دیگر اشیاء جن کی قیمتوں میں سال بھر کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، ان میں سرخ مرچ پاؤڈر (15.20 فیصد)، گائے کا گوشت (12.36 فیصد)، ایندھن کی لکڑی (11.40 فیصد)، خشک دودھ (10.16 فیصد)، بکرے کا گوشت (9.32 فیصد)، ٹماٹر (9.02 فیصد)، گڑ (8.51 فیصد) اور ٹوٹا باسمتی چاول (6.18 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پر چند اہم اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی جن میں آلو کی قیمت میں 53.76 فیصد، پیاز میں 26.10 فیصد، انڈوں میں 24.93 فیصد، لہسن میں 22.25 فیصد، مرغی میں 21.70 فیصد اور چنے کی دال میں 21.37 فیصد کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پسا ہوا نمک 12.52 فیصد اور مسور کی دال 10.71 فیصد سستی ہوئی۔</p>
<p>کم آمدنی والے طبقے (جن کی ماہانہ آمدنی 17,732 روپے تک ہے) کے لیے حساس قیمتوں کا اشاریہ بغیر کسی تبدیلی کے 323.48 پوائنٹس پر برقرار رہا۔</p>
<p>تاہم ماہانہ آمدنی کے مختلف طبقات کے لیے حساس قیمتوں کے اشاریے میں مختلف تناسب سے اضافہ دیکھا گیا۔ 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ کمانے والوں کیلئے ای پی آئی میں 0.09 فیصد اضافہ ہوا جو 325.20 پوائنٹس سے بڑھ کر 325.48 پوائنٹس ہو گیا۔ اسی طرح 22,889 سے 29,517 روپے آمدنی والے طبقے کیلئے یہ اشاریہ 345.76 پوائنٹس سے بڑھ کر 346.32 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ 29,518 سے 44,175 روپے ماہانہ کمانے والے گروپ کے لیے مہنگائی میں 0.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ان کا انڈیکس 332.19 سے بڑھ کر 333.05 پوائنٹس ہو گیا جبکہ 44,175 روپے اور اس سے زائد آمدنی والے طبقے کے لیے ایس پی آئی میں 0.53 فیصد کا سب سے نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو 331.23 پوائنٹس سے بڑھ کر 333 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283610</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2026 12:41:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/07123154d7d1a6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/07123154d7d1a6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
