<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درپیش توانائی کا بحران: اہم چیلنجز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283590/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ کے اثرات نے پورے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان کی رسد بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے تیل اور گیس کی سپلائی بری طرح محدود ہو کر رہ گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں توانائی کا ایک بحران تیزی سے جنم لے رہا ہے، یہ ابھی صرف آغاز ہے اور آگے چل کر انتہائی سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ کل تک، ڈیزل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں، جبکہ پیٹرول کی قیمتیں 100 ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ رہی تھیں۔ یہ سب اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت اب بھی 80 ڈالر کی رینج میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ملک کے پاس پٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 3 سے 4 ہفتوں اور خام تیل کا قریباً 10 دنوں کا ذخیرہ موجود ہے لیکن ریٹیل کی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قلت اس سے کہیں پہلے ظاہر ہوسکتی ہے۔ شمالی علاقوں میں پیٹرول پمپوں نے ابھی سے سپلائی کی راشننگ (مقررہ مقدار میں فراہمی) شروع کردی ہے۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں شدید اضافے کی توقع کے پیشِ نظر، ڈیلرز جارحانہ انداز میں خریداری کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اسٹاک ذخیرہ کر رہے ہیں۔ اس چیلنج یا صورتحال سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق نظرِ ثانی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر اضافے پر غور کررہی ہے۔ اسے ایسا کرنا تو چاہیے لیکن پہلا اضافہ جلد کیا جانا ضروری ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ ساتھ ہی حکومت شاید اس کا تمام تر بوجھ صارفین پر منتقل نہ کرے کیونکہ یہ بہت زیادہ گراں گزرے گا۔ حکومت پٹرولیم لیوی میں کمی کرسکتی ہے اور خام تیل و پٹرولیم مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کو یا تو ختم کرسکتی ہے یا پھر اسے فیصد کے بجائے روپوں میں فکس کر سکتی ہے۔ حکومت جو بھی فیصلہ کرے، اسے زیادہ وقت نہیں لگانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں سے متعلق (فوری) فیصلہ پٹرولیم کی فوری قلت کو ٹالنے اور مالیاتی اثرات کو محدود کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو وسیع تر توانائی کے شعبے میں قلت ناگزیر ہوجائے گی۔ قطر نے پہلے ہی اپنی آر ایل این جی  کی فراہمی روک دی ہے۔ پٹرولیم اور خام تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ معطل ہو چکا ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کچھ کارگو متبادل راستوں سے پہنچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی شعبے، بالخصوص بجلی کے سیکٹر میں قلت کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایئر کنڈیشنر کی زیادہ طلب اور آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث اگلے چند ہفتوں میں پنجاب کو کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت مقامی گیس اور خام تیل کی فراہمی میں درست طور پر اضافہ کر رہی ہے، جسے پہلے آر ایل این جی کی وافر درآمدات کی وجہ سے کم کر دیا گیا تھا۔ تاہم، یہ اقدامات طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ درآمدی کوئلہ بھی اس کمی کو مکمل طور پر پورا کرنے کے قابل نہیں ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والے ہفتوں میں ریفائنریوں کی استعدادِ کار بڑھانے کے باوجود پٹرولیم کی فراہمی محدود ہوسکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو انتظامی اقدامات کے ذریعے طلب میں کمی لانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہفتہ وار کام کے دن کم کر کے چار کیے جا سکتے ہیں اور عید کی چھٹیوں میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ بعض کاروباری اداروں اور تعلیمی اداروں کے لیے گھر سے کام کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے، یہ اقدامات قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ملکر پٹرولیم کی طلب کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ کہ حکومت کو صنعتوں کے لیے توانائی کی مناسب فراہمی یقینی بنانی چاہیے، کیونکہ بعض شعبوں کو گیس کی فراہمی میں پہلے ہی کٹوتی کی جارہی ہے۔ حکومت کو فرنس آئل پر لیوی کم کرنی چاہیے اور صنعتوں کو اسے متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ فرنس آئل کی برآمد پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور یہ سپلائی مقامی صنعتوں کی طرف موڑ دینی چاہیے۔ اس اقدام سے ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال میں ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔ مہنگائی کا دباؤ اور شرحِ تبادلہ (ڈالر کی قیمت) میں ممکنہ تبدیلیاں اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اس بحران کو انتہائی احتیاط سے سنبھالنا ہوگا جس کا آغاز توانائی کی قیمتوں میں بروقت ردّ و بدل اور طلب کو قابو میں رکھنے کے اقدامات سے ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران جنگ کے اثرات نے پورے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث نہ صرف تیل اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان کی رسد بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے تیل اور گیس کی سپلائی بری طرح محدود ہو کر رہ گئی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان میں توانائی کا ایک بحران تیزی سے جنم لے رہا ہے، یہ ابھی صرف آغاز ہے اور آگے چل کر انتہائی سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ کل تک، ڈیزل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں، جبکہ پیٹرول کی قیمتیں 100 ڈالر کی سطح کے قریب پہنچ رہی تھیں۔ یہ سب اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت اب بھی 80 ڈالر کی رینج میں ہے۔</p>
<p>اگرچہ ملک کے پاس پٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 3 سے 4 ہفتوں اور خام تیل کا قریباً 10 دنوں کا ذخیرہ موجود ہے لیکن ریٹیل کی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قلت اس سے کہیں پہلے ظاہر ہوسکتی ہے۔ شمالی علاقوں میں پیٹرول پمپوں نے ابھی سے سپلائی کی راشننگ (مقررہ مقدار میں فراہمی) شروع کردی ہے۔ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں شدید اضافے کی توقع کے پیشِ نظر، ڈیلرز جارحانہ انداز میں خریداری کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اسٹاک ذخیرہ کر رہے ہیں۔ اس چیلنج یا صورتحال سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق نظرِ ثانی کی جائے۔</p>
<p>حکومت قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر اضافے پر غور کررہی ہے۔ اسے ایسا کرنا تو چاہیے لیکن پہلا اضافہ جلد کیا جانا ضروری ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ ساتھ ہی حکومت شاید اس کا تمام تر بوجھ صارفین پر منتقل نہ کرے کیونکہ یہ بہت زیادہ گراں گزرے گا۔ حکومت پٹرولیم لیوی میں کمی کرسکتی ہے اور خام تیل و پٹرولیم مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کو یا تو ختم کرسکتی ہے یا پھر اسے فیصد کے بجائے روپوں میں فکس کر سکتی ہے۔ حکومت جو بھی فیصلہ کرے، اسے زیادہ وقت نہیں لگانا چاہیے۔</p>
<p>قیمتوں سے متعلق (فوری) فیصلہ پٹرولیم کی فوری قلت کو ٹالنے اور مالیاتی اثرات کو محدود کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو وسیع تر توانائی کے شعبے میں قلت ناگزیر ہوجائے گی۔ قطر نے پہلے ہی اپنی آر ایل این جی  کی فراہمی روک دی ہے۔ پٹرولیم اور خام تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ معطل ہو چکا ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کچھ کارگو متبادل راستوں سے پہنچ سکتے ہیں۔</p>
<p>توانائی شعبے، بالخصوص بجلی کے سیکٹر میں قلت کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایئر کنڈیشنر کی زیادہ طلب اور آر ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث اگلے چند ہفتوں میں پنجاب کو کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت مقامی گیس اور خام تیل کی فراہمی میں درست طور پر اضافہ کر رہی ہے، جسے پہلے آر ایل این جی کی وافر درآمدات کی وجہ سے کم کر دیا گیا تھا۔ تاہم، یہ اقدامات طلب پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ درآمدی کوئلہ بھی اس کمی کو مکمل طور پر پورا کرنے کے قابل نہیں ہو سکے گا۔</p>
<p>آنے والے ہفتوں میں ریفائنریوں کی استعدادِ کار بڑھانے کے باوجود پٹرولیم کی فراہمی محدود ہوسکتی ہے۔ اس لیے حکومت کو انتظامی اقدامات کے ذریعے طلب میں کمی لانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہفتہ وار کام کے دن کم کر کے چار کیے جا سکتے ہیں اور عید کی چھٹیوں میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ بعض کاروباری اداروں اور تعلیمی اداروں کے لیے گھر سے کام کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے، یہ اقدامات قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ملکر پٹرولیم کی طلب کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری بات یہ کہ حکومت کو صنعتوں کے لیے توانائی کی مناسب فراہمی یقینی بنانی چاہیے، کیونکہ بعض شعبوں کو گیس کی فراہمی میں پہلے ہی کٹوتی کی جارہی ہے۔ حکومت کو فرنس آئل پر لیوی کم کرنی چاہیے اور صنعتوں کو اسے متبادل ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ فرنس آئل کی برآمد پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور یہ سپلائی مقامی صنعتوں کی طرف موڑ دینی چاہیے۔ اس اقدام سے ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p>اس صورتحال میں ایک جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں۔ مہنگائی کا دباؤ اور شرحِ تبادلہ (ڈالر کی قیمت) میں ممکنہ تبدیلیاں اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اس بحران کو انتہائی احتیاط سے سنبھالنا ہوگا جس کا آغاز توانائی کی قیمتوں میں بروقت ردّ و بدل اور طلب کو قابو میں رکھنے کے اقدامات سے ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283590</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 15:09:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/061507543dabf8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/061507543dabf8c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
