<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی جہاز ڈبونے والی امریکی آبدوز میں 3 آسٹریلوی اہلکار موجود تھے، وزیراعظم انتھونی البانیز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283588/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے جمعہ کو کہا ہے کہ تین آسٹریلوی دفاعی اہلکار اس امریکی آبدوز میں موجود تھے جس نے بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو ٹارپیڈو حملے سے تباہ کر دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان اہلکاروں نے اس حملے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ رواں ہفتے سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب کیا گیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے جب امریکا نے کسی دشمن بحری جہاز کو ٹارپیڈو کے ذریعے غرق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کے حکام کے مطابق ڈوبنے والے جہاز سے 87 ملاحوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتھونی البانیز نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلوی اہلکار امریکی آبدوز میں تربیتی پروگرام کے تحت موجود تھے۔ یہ تربیت آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان دفاعی معاہدے اوکس کے تحت دی جا رہی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد آسٹریلیا کو جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں حاصل کرنے اور انہیں تیار کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی آسٹریلوی فوجی اہلکار نے ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ ان کے بقول یہ طویل عرصے سے جاری تیسرے ممالک کے درمیان تعاون کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا امریکا کا قریبی اتحادی ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں براہ راست فوجی کردار ادا نہیں کرے گا۔ البتہ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جمعرات کو امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ خلیجی شہروں پر بھی دوبارہ بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے جمعہ کو کہا ہے کہ تین آسٹریلوی دفاعی اہلکار اس امریکی آبدوز میں موجود تھے جس نے بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کو ٹارپیڈو حملے سے تباہ کر دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان اہلکاروں نے اس حملے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔</strong></p>
<p>یہ حملہ رواں ہفتے سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب کیا گیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے جب امریکا نے کسی دشمن بحری جہاز کو ٹارپیڈو کے ذریعے غرق کیا ہے۔</p>
<p>سری لنکا کے حکام کے مطابق ڈوبنے والے جہاز سے 87 ملاحوں کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔</p>
<p>انتھونی البانیز نے اسکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلوی اہلکار امریکی آبدوز میں تربیتی پروگرام کے تحت موجود تھے۔ یہ تربیت آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان دفاعی معاہدے اوکس کے تحت دی جا رہی ہے۔ اس معاہدے کا مقصد آسٹریلیا کو جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں حاصل کرنے اور انہیں تیار کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی آسٹریلوی فوجی اہلکار نے ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ ان کے بقول یہ طویل عرصے سے جاری تیسرے ممالک کے درمیان تعاون کا حصہ ہے۔</p>
<p>آسٹریلیا امریکا کا قریبی اتحادی ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں براہ راست فوجی کردار ادا نہیں کرے گا۔ البتہ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
<p>دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جمعرات کو امریکا اور اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ خلیجی شہروں پر بھی دوبارہ بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283588</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 14:34:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/061432356264e15.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/061432356264e15.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
