<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی پہلی مقامی الیکٹرک گاڑی کی موسمِ گرما میں لانچنگ متوقع، قیمت 10 لاکھ سے کم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283586/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہے جس کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم ہوگی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے مقامی ہوٹل میں سمیڈا کے ڈائریکٹر مشہود خان کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سی ای او حماد علی منصور نے اعلان کیا کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی ملکی پروڈکشن لائنز سے بن کر باہر نکلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میڈ ان پاکستان الیکٹرک گاڑی کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لاہور میں قائم کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس گاڑی کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم رکھی جائے گی۔ یہ اقدام موٹر سائیکل (ٹو وہیلر) مالکان کو گاڑی (فور وہیلر) پر منتقل ہونے میں مدد دینے کی ایک کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ڈی بی کے چیف نے مزید کہا کہ یہ گاڑی ایک بار چارج کرنے پر 180 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکے گی جو اسے روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے ایک عملی اور بہترین انتخاب بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماد علی منصور نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنارہی ہے، اس اقدام کا مقصد عام عوام کے لیے گاڑیوں کی خریداری کو آسان بنانا اور مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بڑی آٹوموبائل کمپنیوں کی دیرینہ اجارہ داری اب مؤثر طریقے سے ختم ہورہی ہے اور مزید دو سے تین کمپنیوں نے ملک میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای ڈی بی چیف کے مطابق آئندہ آٹو پالیسی کے تحت وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مقامی آٹو سیکٹر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو صنعتی خود انحصاری کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی کا اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“حماد علی منصور نے بتایا کہ میڈ ان پاکستان گاڑیوں کو عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کے منصوبے بھی تیار ہیں جس کے لیے 100 ارب روپے کی برآمدی مراعات مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم نے ملک بھر میں ای بائیکس اور ای رکشوں کو سستا بنانے کے لیے ایک سبسڈی پلان کی بھی خاکہ بندی کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا مشہود خان کا خیال تھا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل اس کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی کامیابی پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایس ایم ایز اس وقت تقریباً ڈھائی کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں اور برآمدات میں تقریباً 2.8 ارب روپے کا حصہ ڈال رہے ہیں جو انہیں ملک کے لیے ایک متحرک معاشی قوت بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل، مالی وسائل تک رسائی اور برآمدی سہولیات کے ذریعے، پاکستان کے ایس ایم یز عالمی سطح کے حریف بن سکتے ہیں جو روزگار کی فراہمی، معاشی ترقی اور طویل مدتی معاشی استحکام کا باعث بنیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی پہلی مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہے جس کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم ہوگی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔</strong></p>
<p>کراچی کے مقامی ہوٹل میں سمیڈا کے ڈائریکٹر مشہود خان کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سی ای او حماد علی منصور نے اعلان کیا کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی ملکی پروڈکشن لائنز سے بن کر باہر نکلے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میڈ ان پاکستان الیکٹرک گاڑی کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لاہور میں قائم کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس گاڑی کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم رکھی جائے گی۔ یہ اقدام موٹر سائیکل (ٹو وہیلر) مالکان کو گاڑی (فور وہیلر) پر منتقل ہونے میں مدد دینے کی ایک کوشش ہے۔</p>
<p>ای ڈی بی کے چیف نے مزید کہا کہ یہ گاڑی ایک بار چارج کرنے پر 180 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکے گی جو اسے روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے ایک عملی اور بہترین انتخاب بناتا ہے۔</p>
<p>حماد علی منصور نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنارہی ہے، اس اقدام کا مقصد عام عوام کے لیے گاڑیوں کی خریداری کو آسان بنانا اور مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بڑی آٹوموبائل کمپنیوں کی دیرینہ اجارہ داری اب مؤثر طریقے سے ختم ہورہی ہے اور مزید دو سے تین کمپنیوں نے ملک میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔</p>
<p>ای ڈی بی چیف کے مطابق آئندہ آٹو پالیسی کے تحت وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مقامی آٹو سیکٹر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو صنعتی خود انحصاری کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی کا اشارہ ہے۔</p>
<p>“حماد علی منصور نے بتایا کہ میڈ ان پاکستان گاڑیوں کو عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کے منصوبے بھی تیار ہیں جس کے لیے 100 ارب روپے کی برآمدی مراعات مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم نے ملک بھر میں ای بائیکس اور ای رکشوں کو سستا بنانے کے لیے ایک سبسڈی پلان کی بھی خاکہ بندی کردی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا مشہود خان کا خیال تھا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل اس کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی کامیابی پر منحصر ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایس ایم ایز اس وقت تقریباً ڈھائی کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کر رہے ہیں اور برآمدات میں تقریباً 2.8 ارب روپے کا حصہ ڈال رہے ہیں جو انہیں ملک کے لیے ایک متحرک معاشی قوت بناتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل، مالی وسائل تک رسائی اور برآمدی سہولیات کے ذریعے، پاکستان کے ایس ایم یز عالمی سطح کے حریف بن سکتے ہیں جو روزگار کی فراہمی، معاشی ترقی اور طویل مدتی معاشی استحکام کا باعث بنیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283586</guid>
      <pubDate>Sat, 07 Mar 2026 11:58:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/06140732e0c4a66.webp" type="image/webp" medium="image" height="464" width="620">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/06140732e0c4a66.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
