<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود برقرار رکھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283585/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے پیر 09 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا امکان ہے، یہ رواں کیلنڈر سال کا دوسرا مانیٹری پالیسی اجلاس ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے جمعہ کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’تیزی سے بدلتے عالمی حالات کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے اپنے گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں بھی بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کے اندازوں کے برعکس تھا جہاں شرح سود میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت نے مارکیٹوں کو درہم برہم کر دیا جس کے باعث تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں اور دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل  کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرشرح سود برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ے ایچ ایل  کے مطابق اسٹیٹ بینک پالیسی میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی حالات کس رخ پر جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والے تنازع نے خام تیل کی قیمتوں کو پہلے ہی اوپر پہنچا دیا ہے، جو کہ اگر برقرار رہیں تو پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر شدید بوجھ ڈال سکتی ہیں کیونکہ پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہیڈ لائن انفلیشن (بنیادی مہنگائی) میں بھی براہِ راست تقریباً 0.4 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ بالواسطہ اثرات اس سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں جو کنزیومر پرائس انڈیکس کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے مزید اوپر لے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خلیجی ممالک  سے آنے والی ترسیلاتِ زر جو پاکستان کی کل آمدنی کا تقریباً 50 سے 55 فیصد بنتی ہیں، مختصر مدت کے لیے کچھ سہارا فراہم کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر سمندر پار پاکستانی احتیاطی تدبیر کے طور پر گھر پیسے بھیجنے کی شرح میں اضافہ کر سکتے ہیں جبکہ آنے والے عید سیزن سے ان میں مزید اضافہ ہوگا جو درآمدی مہنگائی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایچ ایل نے اپنے سروے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل مارکیٹ کا رجحان ’اسٹیٹس کو‘ (شرحِ سود برقرار رکھنے) کے حق میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمارے سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 96 فیصد شرکاء پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں کر رہے جبکہ صرف 4 فیصد کے خیال میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) کی کمی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کے خیالات کا اظہار ایک اور بروکریج ہاؤس، ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے جمعہ کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق پچھلے سروے کے برعکس، جہاں 80 فیصد لوگ شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہے تھے، اب خطے میں جنگ جیسی صورتحال کی وجہ سے 92 فیصد لوگ کوئی تبدیلی نہ ہونے کی توقع کررہے ہیں، اس صورتحال نے گزشتہ 2 سے 3 ہفتوں میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 25 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، کیونکہ اس علاقائی جنگ کے مقامی مہنگائی پر پڑنے والے اثرات جو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کی ممکنہ قلت کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، ابھی پوری طرح واضح ہونا باقی ہیں۔ تاہم اگر یہ کشیدہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے، تو اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے مارکیٹ کے رجحان میں اس تبدیلی کی وجہ علاقائی کشیدگی، تیل اور ایل پی جی  کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مہنگائی پر اثرات اور کرنسی کی قدر میں ممکنہ کمی کے خدشات کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے پیر 09 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا امکان ہے، یہ رواں کیلنڈر سال کا دوسرا مانیٹری پالیسی اجلاس ہوگا۔</strong></p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے جمعہ کو جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’تیزی سے بدلتے عالمی حالات کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>مرکزی بینک نے اپنے گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں بھی بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کے اندازوں کے برعکس تھا جہاں شرح سود میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔</p>
<p>اے ایچ ایل نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت نے مارکیٹوں کو درہم برہم کر دیا جس کے باعث تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں اور دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>اے ایچ ایل  کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرشرح سود برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ے ایچ ایل  کے مطابق اسٹیٹ بینک پالیسی میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ جغرافیائی سیاسی حالات کس رخ پر جارہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والے تنازع نے خام تیل کی قیمتوں کو پہلے ہی اوپر پہنچا دیا ہے، جو کہ اگر برقرار رہیں تو پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر شدید بوجھ ڈال سکتی ہیں کیونکہ پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>تخمینہ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہیڈ لائن انفلیشن (بنیادی مہنگائی) میں بھی براہِ راست تقریباً 0.4 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ بالواسطہ اثرات اس سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں جو کنزیومر پرائس انڈیکس کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف سے مزید اوپر لے جائیں گے۔</p>
<p>دوسری جانب خلیجی ممالک  سے آنے والی ترسیلاتِ زر جو پاکستان کی کل آمدنی کا تقریباً 50 سے 55 فیصد بنتی ہیں، مختصر مدت کے لیے کچھ سہارا فراہم کر سکتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر سمندر پار پاکستانی احتیاطی تدبیر کے طور پر گھر پیسے بھیجنے کی شرح میں اضافہ کر سکتے ہیں جبکہ آنے والے عید سیزن سے ان میں مزید اضافہ ہوگا جو درآمدی مہنگائی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔</p>
<p>اے ایچ ایل نے اپنے سروے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے قبل مارکیٹ کا رجحان ’اسٹیٹس کو‘ (شرحِ سود برقرار رکھنے) کے حق میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمارے سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 96 فیصد شرکاء پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں کر رہے جبکہ صرف 4 فیصد کے خیال میں شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) کی کمی ہوسکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح کے خیالات کا اظہار ایک اور بروکریج ہاؤس، ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے جمعہ کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کیا۔ ٹاپ لائن کے مطابق پچھلے سروے کے برعکس، جہاں 80 فیصد لوگ شرحِ سود میں کمی کی توقع کر رہے تھے، اب خطے میں جنگ جیسی صورتحال کی وجہ سے 92 فیصد لوگ کوئی تبدیلی نہ ہونے کی توقع کررہے ہیں، اس صورتحال نے گزشتہ 2 سے 3 ہفتوں میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں 25 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، کیونکہ اس علاقائی جنگ کے مقامی مہنگائی پر پڑنے والے اثرات جو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس کی ممکنہ قلت کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، ابھی پوری طرح واضح ہونا باقی ہیں۔ تاہم اگر یہ کشیدہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے، تو اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے مارکیٹ کے رجحان میں اس تبدیلی کی وجہ علاقائی کشیدگی، تیل اور ایل پی جی  کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مہنگائی پر اثرات اور کرنسی کی قدر میں ممکنہ کمی کے خدشات کو قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283585</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 14:00:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/06135839b32a394.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/06135839b32a394.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
