<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 16:34:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 16:34:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ای سی پی: فروری میں ساڑھے 3 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 87 ہزار سے متجاوز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے فروری میں 3,444 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 87 ہزار 49 ہوگئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے مطابق نئی رجسٹریشنز میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا حصہ 59 فیصد  اور سنگل ممبر کمپنیوں کا حصہ 38 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ بقیہ 3 فیصد پبلک ان لسٹڈ کمپنیوں، غیر منافع بخش تنظیموں ، لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنرشپس اور غیر ملکی کمپنیوں پر مشتمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاری مستحکم رہی جہاں 82 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کو بین الاقوامی شیئر ہولڈنگ (حصص) حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین 44 کمپنیوں میں شرکت کے ساتھ سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر ابھرا جس کے بعد امریکہ نے 7 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پالاؤ اور جرمنی کے سرمایہ کاروں نے تین تین کمپنیوں میں شرکت کی، جبکہ مصر، برطانیہ، آسٹریلیا، افغانستان، یمن اور انڈونیشیا نے دو دو کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ آذربائیجان، نائیجیریا، اردن، کینیڈا، سویڈن، ڈنمارک، فلپائن، ترکیہ ، پرتگال،بلجیم اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے مزید بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی توجہ کے مراکز کان کنی اور معدنیات ، تجارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے رہے جو پاکستان کے قدرتی وسائل، تجارتی منڈیوں اور وسعت پاتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں برقرار بین الاقوامی دلچسپی کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی سطح پر پنجاب 1,696 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہا، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 656، سندھ میں 555، خیبر پختونخوا میں 317، گلگت بلتستان میں 174 اور بلوچستان میں 46 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ جاتی لحاظ سے آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبے ترقی کے اہم محرکات رہے جن میں 723 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد ٹریڈنگ  میں 531، سروسز  میں 434 اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور کنسٹرکشن میں 323 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر متعدد شعبوں میں بھی کاروبار کا پھیلاؤ دیکھا گیا جن میں سیاحت اور ٹرانسپورٹ (194)، خوراک اور مشروبات (165)، تعلیم (107)، کان کنی اور معدنیات (79)، ٹیکسٹائل (69)، مارکیٹنگ اور اشتہارات (64)، کیمیکلز (58)، ادویات سازی (58)، کارپوریٹ زرعی فارمنگ (57)، صحت عامہ (56)، انجینئرنگ (52)، کاسمیٹکس (50)، مواصلات (44)، ایندھن اور توانائی (42)، لاجنگ/رہائش (37) اور آٹو الائیڈ انڈسٹریز (35) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے فروری میں 3,444 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 87 ہزار 49 ہوگئی ہیں۔</strong></p>
<p>ایس ای سی پی کے مطابق نئی رجسٹریشنز میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا حصہ 59 فیصد  اور سنگل ممبر کمپنیوں کا حصہ 38 فیصد رہا۔</p>
<p>جمعہ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ بقیہ 3 فیصد پبلک ان لسٹڈ کمپنیوں، غیر منافع بخش تنظیموں ، لمیٹڈ لائبلٹی پارٹنرشپس اور غیر ملکی کمپنیوں پر مشتمل تھا۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاری مستحکم رہی جہاں 82 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کو بین الاقوامی شیئر ہولڈنگ (حصص) حاصل ہوئی۔</p>
<p>چین 44 کمپنیوں میں شرکت کے ساتھ سرمایہ کاری کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر ابھرا جس کے بعد امریکہ نے 7 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔</p>
<p>پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پالاؤ اور جرمنی کے سرمایہ کاروں نے تین تین کمپنیوں میں شرکت کی، جبکہ مصر، برطانیہ، آسٹریلیا، افغانستان، یمن اور انڈونیشیا نے دو دو کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ آذربائیجان، نائیجیریا، اردن، کینیڈا، سویڈن، ڈنمارک، فلپائن، ترکیہ ، پرتگال،بلجیم اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کی گئی۔</p>
<p>ایس ای سی پی نے مزید بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی توجہ کے مراکز کان کنی اور معدنیات ، تجارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے رہے جو پاکستان کے قدرتی وسائل، تجارتی منڈیوں اور وسعت پاتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں برقرار بین الاقوامی دلچسپی کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
<p>صوبائی سطح پر پنجاب 1,696 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست رہا، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 656، سندھ میں 555، خیبر پختونخوا میں 317، گلگت بلتستان میں 174 اور بلوچستان میں 46 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔</p>
<p>شعبہ جاتی لحاظ سے آئی ٹی اور ای کامرس کے شعبے ترقی کے اہم محرکات رہے جن میں 723 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد ٹریڈنگ  میں 531، سروسز  میں 434 اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور کنسٹرکشن میں 323 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔</p>
<p>دیگر متعدد شعبوں میں بھی کاروبار کا پھیلاؤ دیکھا گیا جن میں سیاحت اور ٹرانسپورٹ (194)، خوراک اور مشروبات (165)، تعلیم (107)، کان کنی اور معدنیات (79)، ٹیکسٹائل (69)، مارکیٹنگ اور اشتہارات (64)، کیمیکلز (58)، ادویات سازی (58)، کارپوریٹ زرعی فارمنگ (57)، صحت عامہ (56)، انجینئرنگ (52)، کاسمیٹکس (50)، مواصلات (44)، ایندھن اور توانائی (42)، لاجنگ/رہائش (37) اور آٹو الائیڈ انڈسٹریز (35) شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283581</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 12:42:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0612404660c09e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0612404660c09e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
