<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے پیچھے امریکی فوج کا ہاتھ ہوسکتا ہے، امریکی تحقیقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283578/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خبر رساں ادارے رائٹرز کو دو امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ہفتے کو ایران میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہونے والے مبینہ حملے کی ذمہ دار ممکنہ طور پر امریکی افواج تھیں جس میں درجنوں بچے جاں بحق ہوئے۔ تاہم تفتیش کار ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے اور نہ ہی ان کی تحقیقات مکمل ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز اس تحقیقات کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کرنے میں ناکام رہا، بشمول اس کے کہ کن شواہد کی بنیاد پر یہ ابتدائی اندازہ لگایا گیا، کس قسم کا اسلحہ (گولہ بارود) استعمال ہوا، اس کا ذمہ دار کون تھا یا امریکہ نے اس اسکول کو نشانہ کیوں بنایا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ امریکی فوج اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے جنہوں نے حساس فوجی معاملات پر بات کرنے کیلئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا کہ نئے شواہد سامنے آ سکتے ہیں جو اس واقعے میں امریکا کو ذمہ داری سے بری قرار دیں اور کسی دوسرے فریق کی ذمہ داری کی نشاندہی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز یہ معلوم نہ کرسکا کہ یہ تحقیقات مزید کتنا عرصہ جاری رہیں گی یا تفتیش مکمل ہونے سے قبل امریکی تفتیش کار کس قسم کے شواہد کی تلاش میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے اسکول کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے ہی دن نشانہ بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے سفیر، علی بحرینی نے بتایا کہ اس حملے میں 150 طالبات شہید ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں کرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون نے رائٹرز کے سوالات کو امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ  کی طرف بھیج دیا، جس کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز کا کہنا تھا کہ چونکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس پر تبصرہ کرنا نامناسب ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس نے اس تحقیقات پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ محکمہ جنگ فی الحال اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے لیکن شہریوں اور بچوں کو ایرانی حکومت نشانہ بناتی ہے، امریکہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران جب ہیگسیتھ سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کی تحقیقات کررہے ہیں، ہم یقیناً کبھی بھی سویلین (شہری) اہداف کو نشانہ نہیں بناتے لیکن ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے کہا کہ اگر یہ ہمارا حملہ ہوتا تو محکمہ جنگ اس کی تحقیقات کر رہا ہوتا اور میں آپ کے سوال کا رخ ان کی جانب موڑوں گا۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار اور مشترکہ منصوبہ بندی سے براہِ راست واقفیت رکھنے والے ایک ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکی افواج نے اب تک ایران میں اپنے حملوں کو جغرافیائی لحاظ سے اور اہداف کی نوعیت کے مطابق تقسیم کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس وقت اسرائیل مغربی ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس (میزائل داغنے کے مقامات) کو نشانہ بنا رہا تھا، عین اسی وقت امریکہ جنوبی حصے میں انہی جیسے اہداف کے ساتھ ساتھ بحری تنصیبات پر بھی حملے کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کو اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے کہا کہ اس حملے کی تحقیقات کی ذمہ داری ان افواج پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ کارروائی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر جاں بحق ہونے والی طالبات کے جنازوں کے مناظر دکھائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے چھوٹے تابوت ایرانی پرچموں میں لپٹے ہوئے تھے، جنہیں ایک ٹرک سے اتار کر سوگواروں کے ایک بڑے ہجوم کے ہاتھوں سے گزارتے ہوئے قبرستان کی جانب لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت کسی اسکول،اسپتال یا کسی بھی دوسری سویلین عمارت کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم  تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس حملے میں امریکہ کا ملوث ہونا ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی دہائیوں پر محیط امریکی تاریخ میں شہری ہلاکتوں کے بدترین واقعات میں سے ایک ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خبر رساں ادارے رائٹرز کو دو امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی فوجی تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ہفتے کو ایران میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر ہونے والے مبینہ حملے کی ذمہ دار ممکنہ طور پر امریکی افواج تھیں جس میں درجنوں بچے جاں بحق ہوئے۔ تاہم تفتیش کار ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے اور نہ ہی ان کی تحقیقات مکمل ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>رائٹرز اس تحقیقات کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کرنے میں ناکام رہا، بشمول اس کے کہ کن شواہد کی بنیاد پر یہ ابتدائی اندازہ لگایا گیا، کس قسم کا اسلحہ (گولہ بارود) استعمال ہوا، اس کا ذمہ دار کون تھا یا امریکہ نے اس اسکول کو نشانہ کیوں بنایا ہوگا۔</p>
<p>امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ امریکی فوج اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔</p>
<p>حکام نے جنہوں نے حساس فوجی معاملات پر بات کرنے کیلئے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی، یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا کہ نئے شواہد سامنے آ سکتے ہیں جو اس واقعے میں امریکا کو ذمہ داری سے بری قرار دیں اور کسی دوسرے فریق کی ذمہ داری کی نشاندہی کریں۔</p>
<p>رائٹرز یہ معلوم نہ کرسکا کہ یہ تحقیقات مزید کتنا عرصہ جاری رہیں گی یا تفتیش مکمل ہونے سے قبل امریکی تفتیش کار کس قسم کے شواہد کی تلاش میں ہیں۔</p>
<p>جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے اسکول کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے ہی دن نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p>جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایران کے سفیر، علی بحرینی نے بتایا کہ اس حملے میں 150 طالبات شہید ہوئیں۔</p>
<p>رائٹرز آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں کرسکا۔</p>
<p>پینٹاگون نے رائٹرز کے سوالات کو امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ  کی طرف بھیج دیا، جس کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز کا کہنا تھا کہ چونکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس پر تبصرہ کرنا نامناسب ہو گا۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس نے اس تحقیقات پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے رائٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ محکمہ جنگ فی الحال اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے لیکن شہریوں اور بچوں کو ایرانی حکومت نشانہ بناتی ہے، امریکہ نہیں۔</p>
<p>بدھ کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران جب ہیگسیتھ سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کی تحقیقات کررہے ہیں، ہم یقیناً کبھی بھی سویلین (شہری) اہداف کو نشانہ نہیں بناتے لیکن ہم اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔</p>
<p>روبیو نے کہا کہ اگر یہ ہمارا حملہ ہوتا تو محکمہ جنگ اس کی تحقیقات کر رہا ہوتا اور میں آپ کے سوال کا رخ ان کی جانب موڑوں گا۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار اور مشترکہ منصوبہ بندی سے براہِ راست واقفیت رکھنے والے ایک ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکی افواج نے اب تک ایران میں اپنے حملوں کو جغرافیائی لحاظ سے اور اہداف کی نوعیت کے مطابق تقسیم کر رکھا ہے۔</p>
<p>جس وقت اسرائیل مغربی ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس (میزائل داغنے کے مقامات) کو نشانہ بنا رہا تھا، عین اسی وقت امریکہ جنوبی حصے میں انہی جیسے اہداف کے ساتھ ساتھ بحری تنصیبات پر بھی حملے کررہا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کو اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان روینہ شمداسانی نے کہا کہ اس حملے کی تحقیقات کی ذمہ داری ان افواج پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ کارروائی کی ہے۔</p>
<p>منگل کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر جاں بحق ہونے والی طالبات کے جنازوں کے مناظر دکھائے گئے۔</p>
<p>ان کے چھوٹے تابوت ایرانی پرچموں میں لپٹے ہوئے تھے، جنہیں ایک ٹرک سے اتار کر سوگواروں کے ایک بڑے ہجوم کے ہاتھوں سے گزارتے ہوئے قبرستان کی جانب لے جایا گیا۔</p>
<p>بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت کسی اسکول،اسپتال یا کسی بھی دوسری سویلین عمارت کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم  تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>اگر اس حملے میں امریکہ کا ملوث ہونا ثابت ہو جاتا ہے، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی دہائیوں پر محیط امریکی تاریخ میں شہری ہلاکتوں کے بدترین واقعات میں سے ایک ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283578</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 12:18:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0612003843b81fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0612003843b81fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
