<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات، 100 انڈیکس میں 2.3 فیصد کی بڑی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283574/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیجی خطے میں جاری تنازع کی شدت میں اضافے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں جمعہ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2.3 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز نسبتاً مثبت ہوا اور کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس مختصر وقت کے لیے بلند ترین سطح 161,435.83 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلد ہی فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس نے ابتدائی برتری کو ختم کردیا اور انڈیکس منفی زون میں چلا گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 157,072.64 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3,714.57 پوائنٹس یا 2.30 فیصد کی کمی سے 157,496.10 پوائنٹس پربند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ نوٹ میں کہا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں مندی کا سیشن دیکھا گیا کیونکہ غیر یقینی کا شکار سرمایہ کاروں نے ہفتہ وار تعطیلات سے قبل حصص کی فروخت کو ترجیح دی، اس کی وجہ یہ خوف ہے کہ امریکہ اور ایران کا تنازع ایک طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے مزید بتایا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس کو نیچے گرانے میں سب سے زیادہ منفی کردار یو بی ایل، ایف ایف سی، لک، ایچ یو بی سی، ایم ای بی ایل، ایس وائے ایس، اوجی ڈی سی اور بی اے ایف ایل نے ادا کیا جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,124 پوائنٹس کی کمی کا باعث بن کر مارکیٹ پر بوجھ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 5,433.46 پوائنٹس یا 3.49 فیصد کے نمایاں اضافے سے 161,210.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی گئی اور وہ گزشتہ چھ سالوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار مندی کی جانب گامزن رہیں۔ دوسری جانب، عالمی منڈیوں کے لیے اس ہنگامہ خیز ہفتے میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ تین سالوں کا سب سے بڑا اضافہ متوقع ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے کہ ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ توقع سے زیادہ طویل کھینچ سکتی ہے، نقد رقم کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تسلسل سے افراطِ زر (مہنگائی) کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشے نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے، جس کے باعث اب وہ بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے (ہاکش پالیسی) کی توقع کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے باعث امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز اس ہفتے تقریباً 18 بیسس پوائنٹس بڑھ گئی ہیں جو قریباً ایک سال میں سب سے بڑا اضافہ ہے جبکہ امریکی ڈالر بھی 16 ماہ میں اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے اثرات اب تک سب سے زیادہ تیل کی قیمتوں پر پڑے ہیں، جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز اس وقت تقریباً 83 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہو رہے ہیں جبکہ صرف ایک ہفتہ قبل یہ قیمت تقریباً 69 ڈالر تک گر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے کے آغاز میں امریکی خام تیل بھی بڑھ کر 20 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں عالمی بینچ مارکس اس ہفتے 15 فیصد سے زائد اضافے کی جانب گامزن ہیں، جو فروری 2022 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس آخری اطلاعات تک 0.4 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ ہورہا تھا اور ہفتے کے دوران 6.6 فیصد گرنے کے راستے پر ہے جو مارچ 2020 کے بعد اس کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نِکی انڈیکس 0.5 فیصد نیچے رہا اور ہفتہ وار 6.5 فیصد کے بھاری نقصان کی جانب رواں تھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس بھی چھ سال میں سب سے بڑے ہفتہ وار زوال کی راہ پر تھا، اور 10.5 فیصد کی تیز گراوٹ دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے مارکیٹ کی شدید مندی نے حتیٰ کہ ہائی فلائی ٹیک اسٹاکس اور کوسپی جیسے نمایاں انڈیکسز کو بھی نیچے کھینچ دیا، کیونکہ سرمایہ کار منافع بک کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں ہوئے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے جلد بازی میں ایکشن لے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈآلر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.40 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسے کا معمولی اضافہ، جو مارکیٹ میں نرمی اور محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو آل شیئرز انڈیکس پر ٹریڈنگ کا حجم گزشتہ سیشن کے 723.88 ملین سے کم ہو کر 363.14 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص (شیئرز) کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.18 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 23.11 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 36.92 ملین شیئرز کے ساتھ حجم میں سرفہرست رہی ، اس کے بعد سینرجیکو پی کے 22.42 ملین حصص اور یونٹی فوڈز لمیٹڈ 19.05 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز مجموعی طور پر 468 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 105 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 311 میں کمی اور 52 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/06141702e2ef669.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/06141702e2ef669.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیجی خطے میں جاری تنازع کی شدت میں اضافے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان غالب رہا جس کے نتیجے میں جمعہ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2.3 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز نسبتاً مثبت ہوا اور کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس مختصر وقت کے لیے بلند ترین سطح 161,435.83 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔</p>
<p>جلد ہی فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس نے ابتدائی برتری کو ختم کردیا اور انڈیکس منفی زون میں چلا گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 157,072.64 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3,714.57 پوائنٹس یا 2.30 فیصد کی کمی سے 157,496.10 پوائنٹس پربند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ نوٹ میں کہا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں مندی کا سیشن دیکھا گیا کیونکہ غیر یقینی کا شکار سرمایہ کاروں نے ہفتہ وار تعطیلات سے قبل حصص کی فروخت کو ترجیح دی، اس کی وجہ یہ خوف ہے کہ امریکہ اور ایران کا تنازع ایک طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے مزید بتایا ہے کہ کے ایس ای 100 انڈیکس کو نیچے گرانے میں سب سے زیادہ منفی کردار یو بی ایل، ایف ایف سی، لک، ایچ یو بی سی، ایم ای بی ایل، ایس وائے ایس، اوجی ڈی سی اور بی اے ایف ایل نے ادا کیا جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 2,124 پوائنٹس کی کمی کا باعث بن کر مارکیٹ پر بوجھ ڈالا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 5,433.46 پوائنٹس یا 3.49 فیصد کے نمایاں اضافے سے 161,210.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی گئی اور وہ گزشتہ چھ سالوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار مندی کی جانب گامزن رہیں۔ دوسری جانب، عالمی منڈیوں کے لیے اس ہنگامہ خیز ہفتے میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ تین سالوں کا سب سے بڑا اضافہ متوقع ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے کہ ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ توقع سے زیادہ طویل کھینچ سکتی ہے، نقد رقم کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔</p>
<p>توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تسلسل سے افراطِ زر (مہنگائی) کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشے نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے، جس کے باعث اب وہ بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے (ہاکش پالیسی) کی توقع کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کے باعث امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز اس ہفتے تقریباً 18 بیسس پوائنٹس بڑھ گئی ہیں جو قریباً ایک سال میں سب سے بڑا اضافہ ہے جبکہ امریکی ڈالر بھی 16 ماہ میں اپنی سب سے بڑی ہفتہ وار بڑھوتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>جنگ کے اثرات اب تک سب سے زیادہ تیل کی قیمتوں پر پڑے ہیں، جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز اس وقت تقریباً 83 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہو رہے ہیں جبکہ صرف ایک ہفتہ قبل یہ قیمت تقریباً 69 ڈالر تک گر گئی تھی۔</p>
<p>اس ہفتے کے آغاز میں امریکی خام تیل بھی بڑھ کر 20 ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا۔</p>
<p>دونوں عالمی بینچ مارکس اس ہفتے 15 فیصد سے زائد اضافے کی جانب گامزن ہیں، جو فروری 2022 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس آخری اطلاعات تک 0.4 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ ہورہا تھا اور ہفتے کے دوران 6.6 فیصد گرنے کے راستے پر ہے جو مارچ 2020 کے بعد اس کی سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہوگی۔</p>
<p>جاپان کا نِکی انڈیکس 0.5 فیصد نیچے رہا اور ہفتہ وار 6.5 فیصد کے بھاری نقصان کی جانب رواں تھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس بھی چھ سال میں سب سے بڑے ہفتہ وار زوال کی راہ پر تھا، اور 10.5 فیصد کی تیز گراوٹ دیکھی گئی۔</p>
<p>اس ہفتے مارکیٹ کی شدید مندی نے حتیٰ کہ ہائی فلائی ٹیک اسٹاکس اور کوسپی جیسے نمایاں انڈیکسز کو بھی نیچے کھینچ دیا، کیونکہ سرمایہ کار منافع بک کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں ہوئے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے جلد بازی میں ایکشن لے رہے تھے۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈآلر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.40 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسے کا معمولی اضافہ، جو مارکیٹ میں نرمی اور محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>جمعہ کو آل شیئرز انڈیکس پر ٹریڈنگ کا حجم گزشتہ سیشن کے 723.88 ملین سے کم ہو کر 363.14 ملین رہ گیا۔</p>
<p>حصص (شیئرز) کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.18 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 23.11 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 36.92 ملین شیئرز کے ساتھ حجم میں سرفہرست رہی ، اس کے بعد سینرجیکو پی کے 22.42 ملین حصص اور یونٹی فوڈز لمیٹڈ 19.05 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔</p>
<p>جمعے کے روز مجموعی طور پر 468 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 105 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 311 میں کمی اور 52 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/06141702e2ef669.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/06141702e2ef669.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283574</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 20:51:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/061018434026f2c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/061018434026f2c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
