<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ٹیکسٹائل صنعت نے حفاظتی اقدامات کی درخواست کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283572/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ اگلے 60 سے 90 دنوں میں ٹیکسٹائل برآمد کنندگان اپنے آرڈر بکس اور مارکیٹ پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ یہ مطالبہ سیکرٹری تجارت کو ارسال کیے گئے خط میں کیا گیا، جس کا عنوان تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور ٹیکسٹائل برآمدات پر اثر۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیکسٹائل کونسل(پی ٹی سی) کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ خلیج فارس میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی شپنگ میں رکاوٹ پاکستان کی توانائی کی سیکیورٹی اور برآمدی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ چونکہ پاکستان توانائی کی درآمدات میں اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کسی طویل رکاوٹ سے صنعتی سرگرمیاں، برآمدی مسابقت اور سپلائی چین مستحکم رہنا متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت قومی برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتی ہے اور صنعتی ملازمتوں کا اہم حصہ سہارا دیتی ہے۔ اس لیے توانائی کی سپلائی میں خلل، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی شپنگ و انشورنس فیسیں اس شعبے پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں بتایا گیا کہ آر ایل این جی ٹیکسٹائل پروسیسنگ کے لیے بنیادی صنعتی ایندھن ہے اور کسی بھی سپلائی میں رکاوٹ مہنگے متبادل یا پیداوار میں کمی پر مجبور کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک بڑھنے سے ڈیزل، فرنس آئل اور بجلی کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی، جس سے کاروباری لاگت مزید بڑھ جائے گی۔ پاکستان کی خام مال اور کیمیکلز کی درآمدات بھی ہرمز کے راستے سے گزرتی ہیں، اور کسی بھی رکاوٹ سے پیداوار شیڈول متاثر ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی سی نے حکومت کو سفارش کی کہ سعودی آرامکو اور سعودی وزارت توانائی سے رابطہ کیا جائے تاکہ پاکستان کو ریڈ سی پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترجیحی خریداری میں شامل کیا جائے، جو ہرمز کو مکمل طور پر بائی پاس کرے۔ مزید برآں کپیک پاور پلانٹ لیوی ختم کرنے، برآمدی صنعت کے لیے ایل این جی کی ترجیحی فراہمی یقینی بنانے، جنگی خطرے کے لیے مخصوص انشورنس فنڈ قائم کرنے اور اسٹوریج و سپلائی چین کے متبادل منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد انور نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی رکاوٹ وقتی نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کی طویل مدتی کمزوریوں کو بڑھانے والی ہے، اور حکومت کے پاس محدود مگر اہم موقع موجود ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کر کے اگلے 60 سے 90 دنوں میں برآمدات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ اگلے 60 سے 90 دنوں میں ٹیکسٹائل برآمد کنندگان اپنے آرڈر بکس اور مارکیٹ پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ یہ مطالبہ سیکرٹری تجارت کو ارسال کیے گئے خط میں کیا گیا، جس کا عنوان تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور ٹیکسٹائل برآمدات پر اثر۔</strong></p>
<p>پاکستان ٹیکسٹائل کونسل(پی ٹی سی) کے چیئرمین فواد انور نے کہا کہ خلیج فارس میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی شپنگ میں رکاوٹ پاکستان کی توانائی کی سیکیورٹی اور برآمدی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ چونکہ پاکستان توانائی کی درآمدات میں اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، کسی طویل رکاوٹ سے صنعتی سرگرمیاں، برآمدی مسابقت اور سپلائی چین مستحکم رہنا متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت قومی برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتی ہے اور صنعتی ملازمتوں کا اہم حصہ سہارا دیتی ہے۔ اس لیے توانائی کی سپلائی میں خلل، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی شپنگ و انشورنس فیسیں اس شعبے پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔</p>
<p>خط میں بتایا گیا کہ آر ایل این جی ٹیکسٹائل پروسیسنگ کے لیے بنیادی صنعتی ایندھن ہے اور کسی بھی سپلائی میں رکاوٹ مہنگے متبادل یا پیداوار میں کمی پر مجبور کر سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک بڑھنے سے ڈیزل، فرنس آئل اور بجلی کی قیمتیں بھی متاثر ہوں گی، جس سے کاروباری لاگت مزید بڑھ جائے گی۔ پاکستان کی خام مال اور کیمیکلز کی درآمدات بھی ہرمز کے راستے سے گزرتی ہیں، اور کسی بھی رکاوٹ سے پیداوار شیڈول متاثر ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پی ٹی سی نے حکومت کو سفارش کی کہ سعودی آرامکو اور سعودی وزارت توانائی سے رابطہ کیا جائے تاکہ پاکستان کو ریڈ سی پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترجیحی خریداری میں شامل کیا جائے، جو ہرمز کو مکمل طور پر بائی پاس کرے۔ مزید برآں کپیک پاور پلانٹ لیوی ختم کرنے، برآمدی صنعت کے لیے ایل این جی کی ترجیحی فراہمی یقینی بنانے، جنگی خطرے کے لیے مخصوص انشورنس فنڈ قائم کرنے اور اسٹوریج و سپلائی چین کے متبادل منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی جائے۔</p>
<p>فواد انور نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی رکاوٹ وقتی نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کی طویل مدتی کمزوریوں کو بڑھانے والی ہے، اور حکومت کے پاس محدود مگر اہم موقع موجود ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کر کے اگلے 60 سے 90 دنوں میں برآمدات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283572</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Mar 2026 10:02:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/06095846b6bc400.webp" type="image/webp" medium="image" height="541" width="780">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/06095846b6bc400.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
