<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:25:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:25:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے خدشات، اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283554/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز  کے ایک سروے کے مطابق توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک پیر کو ہونے والے پالیسی ریویو میں  شرح سود کو برقرار رکھے گا، کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور علاقائی کشیدگی مہنگائی کے منظر نامے کو دھندلا رہی ہیں اور شرح سود میں کمی کی گنجائش کو محدود کررہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے میں شامل تمام 10 تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے 2024 کے وسط سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 11.5 فیصد پوائنٹس کمی کی ہے، جو کہ 22 فیصد کی ریکارڈ بلند ترین سطح سے شروع ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل کے خطرات کو جنم دیا ہے جس نے تیل اور گیس کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے درآمدی بل اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح اوسطاً 6 فیصد سے 8 فیصد کے درمیان رہے گی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اسے مزید اوپر دھکیل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے کے ڈی  سیکیورٹیز کے تجزیہ کار محمد علوی نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں ہی پالیسی ریٹ کے رخ کا تعین کریں گی۔ مالی سال 2026  کی دوسری ششماہی کے دوران مہنگائی کی شرح اوسطاً 7 فیصد کے قریب رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی ایندھن پر پاکستان کا بہت زیادہ انحصار اسے عالمی قیمتوں میں ہونے والے اچانک اتار چڑھاؤ کے سامنے کمزور بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس کیپیٹل  کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھاتا ہے اور روپے پر دباؤ ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقاص غنی کا کہنا تھا کہ خام تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافہ مہنگائی میں تقریباً 0.5 فیصد اضافہ کرتا ہے۔ فروری میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو جنوری کے 5.8 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مہنگائی کی توقعات کو کنٹرول کرنے کے لیے مثبت رئیل انٹرسٹ ریٹ  کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم معاشی ترقی کی رفتار بڑھنے اور درآمدات کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی وجہ سے اس سال چند ماہ کے لیے مہنگائی اس کے 5 فیصد سے 7 فیصد کے ہدف سے تجاوز کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے گزشتہ ماہ رائٹرز کو بتایا کہ پالیسی سازوں کی تمام تر توجہ درمیانی مدت میں قیمتوں کے استحکام  پر مرکوز ہے، باوجود اس کے کہ مالی سال 2026 میں معیشت کے 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس معاشی نمو کو مقامی طلب میں اضافے اور ماضی میں شرح سود میں کی گئی نرمی سے مدد مل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی خطرات، بشمول تیل کی بلند قیمتیں، روپے پر دباؤ اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ شرح سود میں مزید کمی کے کسی بھی فیصلے میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رائٹرز  کے ایک سروے کے مطابق توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک پیر کو ہونے والے پالیسی ریویو میں  شرح سود کو برقرار رکھے گا، کیونکہ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور علاقائی کشیدگی مہنگائی کے منظر نامے کو دھندلا رہی ہیں اور شرح سود میں کمی کی گنجائش کو محدود کررہی ہیں۔</strong></p>
<p>سروے میں شامل تمام 10 تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔</p>
<p>مرکزی بینک نے 2024 کے وسط سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 11.5 فیصد پوائنٹس کمی کی ہے، جو کہ 22 فیصد کی ریکارڈ بلند ترین سطح سے شروع ہوئی تھی۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل کے خطرات کو جنم دیا ہے جس نے تیل اور گیس کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے درآمدی بل اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح اوسطاً 6 فیصد سے 8 فیصد کے درمیان رہے گی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اسے مزید اوپر دھکیل سکتا ہے۔</p>
<p>اے کے ڈی  سیکیورٹیز کے تجزیہ کار محمد علوی نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں ہی پالیسی ریٹ کے رخ کا تعین کریں گی۔ مالی سال 2026  کی دوسری ششماہی کے دوران مہنگائی کی شرح اوسطاً 7 فیصد کے قریب رہ سکتی ہے۔</p>
<p>درآمدی ایندھن پر پاکستان کا بہت زیادہ انحصار اسے عالمی قیمتوں میں ہونے والے اچانک اتار چڑھاؤ کے سامنے کمزور بنا دیتا ہے۔</p>
<p>جے ایس کیپیٹل  کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ تجارتی خسارے کو بڑھاتا ہے اور روپے پر دباؤ ڈالتا ہے۔</p>
<p>وقاص غنی کا کہنا تھا کہ خام تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافہ مہنگائی میں تقریباً 0.5 فیصد اضافہ کرتا ہے۔ فروری میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 7 فیصد ریکارڈ کی گئی جو جنوری کے 5.8 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مہنگائی کی توقعات کو کنٹرول کرنے کے لیے مثبت رئیل انٹرسٹ ریٹ  کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم معاشی ترقی کی رفتار بڑھنے اور درآمدات کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی وجہ سے اس سال چند ماہ کے لیے مہنگائی اس کے 5 فیصد سے 7 فیصد کے ہدف سے تجاوز کر سکتی ہے۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے گزشتہ ماہ رائٹرز کو بتایا کہ پالیسی سازوں کی تمام تر توجہ درمیانی مدت میں قیمتوں کے استحکام  پر مرکوز ہے، باوجود اس کے کہ مالی سال 2026 میں معیشت کے 3.75 فیصد سے 4.75 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس معاشی نمو کو مقامی طلب میں اضافے اور ماضی میں شرح سود میں کی گئی نرمی سے مدد مل رہی ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی خطرات، بشمول تیل کی بلند قیمتیں، روپے پر دباؤ اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ شرح سود میں مزید کمی کے کسی بھی فیصلے میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283554</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Mar 2026 15:42:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/051529393f4afee.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/051529393f4afee.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
