<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:57:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:57:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کا بحران پاکستان کو آٹو پارٹس کی فراہمی میں خلل ڈال سکتا ہے، انڈس موٹر کی وارننگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283545/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیوں کی اسمبلنگ کرنے والی کمپنی، انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی بحران (جیو پولیٹیکل کرائسز) درآمد شدہ آٹو پارٹس کی سپلائی میں خلل ڈال سکتا ہے جس سے ملک کے آٹوموبائل سیکٹر میں پیداواری دورانیہ (پروڈکشن ٹائم لائنز) متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز جس نے حبکو کی انتظامیہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی، نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹو میکر (گاڑیاں بنانے والی کمپنی) کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث آنے والے ہفتوں میں سپلائی چین کے چیلنجز پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انتظامیہ کو مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران کے باعث درآمدی پرزہ جات کی فراہمی میں رکاوٹوں اور تاخیر کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ لاجسٹک مسائل، فریٹ  اخراجات میں اضافہ اور شپنگ میں تاخیر سے سپلائی کے مقررہ وقت پر دباؤ آنے کا امکان ہے، تاہم اس کے وسیع تر اثرات آئندہ مہینے تک واضح ہوسکتے ہیں، جس کے پیش نظر مؤثر بحران مینجمنٹ انتہائی اہم ہو جائے گی، حالانکہ کچھ رکاوٹیں ناگزیر رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا آٹو سیکٹر درآمد شدہ، مکمل طور پر  الگ کردہ (سی کے ڈی) کٹس اور اجزاء پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاسدارانِ انقلاب  نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں جو کہ دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے اور وہاں سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو میزائلوں یا بھٹکے ہوئے ڈرونز سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران انڈس موٹر کی انتظامیہ نے بتایا کہ نئے ماڈلز اور مصنوعات میں تبدیلیاں پائپ لائن میں (یعنی تیاری کے مراحل میں) ہیں۔ ٹاپ لائن کی رپورٹ کے مطابق تاہم، جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث ابھی تک ان کے لیے کوئی ٹائم لائن (وقت) مقرر نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس موٹر کو امید ہے کہ حکومتِ پاکستان گاڑیوں کے دیگر زمروں کے لیے ٹیکس کے ڈھانچے کو منطقی  بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خاص طور پر، اس وقت کچھ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ممکنہ منفی اثرات کو کم کرنے اور پورے سیکٹر میں توازن  برقرار رکھنے کے لیے اس شرح کو کم کر کے تقریباً 18 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کو معاشی استحکام، بینکوں سے فنانسنگ کی مستحکم شرحِ سود اور کنٹرول شدہ مہنگائی کے باعث پاکستان میں گاڑیوں کی طلب میں بتدریج اضافے کی توقع ہے، اگرچہ خلیجی خطے میں حالیہ جغرافیائی سیاسی تناؤ غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں آٹو میکر انتظامیہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے عین مطابق ایک واضح اور مارکیٹ پر مبنی آٹو پالیسی 31-2026 کی حمایت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی حکومت پر زور دیتی ہے کہ آٹو فنانسنگ (بینکوں سے گاڑیوں کے قرضوں) کی حدود میں نرمی کی جائے، ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں، خاص طور پر سی کے ڈی یونٹس پر ردوبدل کیا جائے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے مناسب قوانین وضع کیے جائیں تاکہ منصفانہ مقابلے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیوں کی اسمبلنگ کرنے والی کمپنی، انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی بحران (جیو پولیٹیکل کرائسز) درآمد شدہ آٹو پارٹس کی سپلائی میں خلل ڈال سکتا ہے جس سے ملک کے آٹوموبائل سیکٹر میں پیداواری دورانیہ (پروڈکشن ٹائم لائنز) متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز جس نے حبکو کی انتظامیہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی، نے بدھ کو اپنی رپورٹ میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔</p>
<p>آٹو میکر (گاڑیاں بنانے والی کمپنی) کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باعث آنے والے ہفتوں میں سپلائی چین کے چیلنجز پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انتظامیہ کو مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران کے باعث درآمدی پرزہ جات کی فراہمی میں رکاوٹوں اور تاخیر کا خدشہ ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ لاجسٹک مسائل، فریٹ  اخراجات میں اضافہ اور شپنگ میں تاخیر سے سپلائی کے مقررہ وقت پر دباؤ آنے کا امکان ہے، تاہم اس کے وسیع تر اثرات آئندہ مہینے تک واضح ہوسکتے ہیں، جس کے پیش نظر مؤثر بحران مینجمنٹ انتہائی اہم ہو جائے گی، حالانکہ کچھ رکاوٹیں ناگزیر رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا آٹو سیکٹر درآمد شدہ، مکمل طور پر  الگ کردہ (سی کے ڈی) کٹس اور اجزاء پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا پاسدارانِ انقلاب  نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی افواج آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں جو کہ دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے اور وہاں سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو میزائلوں یا بھٹکے ہوئے ڈرونز سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>اس دوران انڈس موٹر کی انتظامیہ نے بتایا کہ نئے ماڈلز اور مصنوعات میں تبدیلیاں پائپ لائن میں (یعنی تیاری کے مراحل میں) ہیں۔ ٹاپ لائن کی رپورٹ کے مطابق تاہم، جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث ابھی تک ان کے لیے کوئی ٹائم لائن (وقت) مقرر نہیں کی گئی ہے۔</p>
<p>انڈس موٹر کو امید ہے کہ حکومتِ پاکستان گاڑیوں کے دیگر زمروں کے لیے ٹیکس کے ڈھانچے کو منطقی  بنائے گی۔</p>
<p>ٹاپ لائن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خاص طور پر، اس وقت کچھ گاڑیوں پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ممکنہ منفی اثرات کو کم کرنے اور پورے سیکٹر میں توازن  برقرار رکھنے کے لیے اس شرح کو کم کر کے تقریباً 18 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کمپنی کو معاشی استحکام، بینکوں سے فنانسنگ کی مستحکم شرحِ سود اور کنٹرول شدہ مہنگائی کے باعث پاکستان میں گاڑیوں کی طلب میں بتدریج اضافے کی توقع ہے، اگرچہ خلیجی خطے میں حالیہ جغرافیائی سیاسی تناؤ غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرے گا۔</p>
<p>مزید برآں آٹو میکر انتظامیہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے عین مطابق ایک واضح اور مارکیٹ پر مبنی آٹو پالیسی 31-2026 کی حمایت کرتی ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی حکومت پر زور دیتی ہے کہ آٹو فنانسنگ (بینکوں سے گاڑیوں کے قرضوں) کی حدود میں نرمی کی جائے، ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں، خاص طور پر سی کے ڈی یونٹس پر ردوبدل کیا جائے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے مناسب قوانین وضع کیے جائیں تاکہ منصفانہ مقابلے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283545</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Mar 2026 13:57:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/05134117878fb25.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/05134117878fb25.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
