<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس ای سی پی کی سرمایہ کاروں کے لیے ریفرل پروگرام شروع کرنے کی تجویز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283542/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کی غرض سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریفرل انسنٹیو پروگرامز متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت پہلے سے موجود سرمایہ کار نئے کلائنٹس کو سیکیورٹیز بروکرز کے پاس بھیج سکیں گے (یعنی ان کا حوالہ دے سکیں گے)۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ مجوزہ منظم ریفرل پروگرام سیکیورٹیز بروکرز (لائسنسنگ اینڈ آپریشنز) ریگولیشنز، 2016’ میں ترامیم کے ذریعے متعارف کرائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے ایک کانسیپٹ پیپر (تصوراتی دستاویز) بھی شائع کردی ہے جس میں متعلقہ ریگولیٹری ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ فریم ورک کے تحت بروکرز کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ اپنے موجودہ کلائنٹس (یعنی ریفررز) کو منظم ریفرل پروگراموں کے ذریعے نئے سرمایہ کار متعارف کروانے کے لیے شامل کریں۔ یہ پروگرام شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایس ای سی پی کی جانب سے وضع کردہ واضح شرائط و ضوابط کے تحت کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان پروگرامز کے تحت دی جانے والی مراعات نان کیش ہوں گی، جیسے کہ کمیشن میں رعایت، ٹریڈنگ کریڈٹس یا اسی طرح کے دیگر فوائد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں مزید کہا گیا ہے یہ مراعات ریفر کرنے والے اور نئے کلائنٹ، دونوں کے لیے محدود اور وقت کے تعین  کے ساتھ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکرز کے لیے یہ بھی لازمی ہوگا کہ وہ ریفرل پروگرام کی ذمہ داریوں، فوائد اور شرائط کی واضح وضاحت کریں جب کہ اس اسکیم کے تحت پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے تنازعات کو حل کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے بتایا کہ ریفرل انسنٹیو پروگرامز بین الاقوامی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر رائج ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، ہانگ کانگ، ملائیشیا اور سنگاپور شامل ہیں۔ ایسے پروگرام عام طور پر سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ٹریڈنگ کوپنز، کمیشن کی معافی اور ریوارڈ پوائنٹس جیسی مراعات فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ اس کے مجوزہ فریم ورک کا مقصد مناسب ریگولیٹری نگرانی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنانا ہے۔ اس اقدام سے نئے کلائنٹس کی شمولیت میں مدد ملنے اور کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد  میں اضافے کی بھی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی نے اسٹیک ہولڈرز کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ کانسپٹ پیپر پر اس کی اشاعت کے 15 دن کے اندر اپنی رائے فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کی غرض سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریفرل انسنٹیو پروگرامز متعارف کرانے کی تجویز دی ہے۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت پہلے سے موجود سرمایہ کار نئے کلائنٹس کو سیکیورٹیز بروکرز کے پاس بھیج سکیں گے (یعنی ان کا حوالہ دے سکیں گے)۔</strong></p>
<p>جمعرات کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ مجوزہ منظم ریفرل پروگرام سیکیورٹیز بروکرز (لائسنسنگ اینڈ آپریشنز) ریگولیشنز، 2016’ میں ترامیم کے ذریعے متعارف کرائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے ایک کانسیپٹ پیپر (تصوراتی دستاویز) بھی شائع کردی ہے جس میں متعلقہ ریگولیٹری ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔</p>
<p>مجوزہ فریم ورک کے تحت بروکرز کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ اپنے موجودہ کلائنٹس (یعنی ریفررز) کو منظم ریفرل پروگراموں کے ذریعے نئے سرمایہ کار متعارف کروانے کے لیے شامل کریں۔ یہ پروگرام شفافیت اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایس ای سی پی کی جانب سے وضع کردہ واضح شرائط و ضوابط کے تحت کام کریں گے۔</p>
<p>ان پروگرامز کے تحت دی جانے والی مراعات نان کیش ہوں گی، جیسے کہ کمیشن میں رعایت، ٹریڈنگ کریڈٹس یا اسی طرح کے دیگر فوائد۔</p>
<p>نوٹس میں مزید کہا گیا ہے یہ مراعات ریفر کرنے والے اور نئے کلائنٹ، دونوں کے لیے محدود اور وقت کے تعین  کے ساتھ ہوں گی۔</p>
<p>بروکرز کے لیے یہ بھی لازمی ہوگا کہ وہ ریفرل پروگرام کی ذمہ داریوں، فوائد اور شرائط کی واضح وضاحت کریں جب کہ اس اسکیم کے تحت پیدا ہونے والے کسی بھی قسم کے تنازعات کو حل کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر ہوگی۔</p>
<p>ایس ای سی پی نے بتایا کہ ریفرل انسنٹیو پروگرامز بین الاقوامی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر رائج ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، ہانگ کانگ، ملائیشیا اور سنگاپور شامل ہیں۔ ایسے پروگرام عام طور پر سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ٹریڈنگ کوپنز، کمیشن کی معافی اور ریوارڈ پوائنٹس جیسی مراعات فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ اس کے مجوزہ فریم ورک کا مقصد مناسب ریگولیٹری نگرانی اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنانا ہے۔ اس اقدام سے نئے کلائنٹس کی شمولیت میں مدد ملنے اور کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد  میں اضافے کی بھی توقع ہے۔</p>
<p>ایس ای سی پی نے اسٹیک ہولڈرز کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ کانسپٹ پیپر پر اس کی اشاعت کے 15 دن کے اندر اپنی رائے فراہم کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283542</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Mar 2026 12:23:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/051203210ff531a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/051203210ff531a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
