<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملکی معیشت کا مستقبل کیا ہوگا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283537/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) یعنی مہنگائی کی شرح فروری میں بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ جنوری کی 5.8 فیصد شرح کے مقابلے میں 1.2 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم، یہ شرح اب بھی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس ہدف کے مطابق ہے جو ایک سال سے زائد عرصے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے 16 دسمبر 2025 سے ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے جو کہ 5 مئی 2025 سے نافذ العمل 11 فیصد کی شرح میں 0.5 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 3.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا جس نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ 9 مارچ 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اگلے اجلاس میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں 100 سے 200 بیسس پوائنٹس تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ متوقع اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے اصرار پر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش گوئی کی تائید گزشتہ سال دسمبر میں جاری کیے گئے اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں دی گئی وجوہات سے بھی ہوتی ہے جس میں کہا گیا تھا: سالانہ بنیادوں پر ہیڈلائن مہنگائی دسمبر میں کم ہو کر 5.6 فیصد رہ گئی جو نومبر میں 6.1 فیصد تھی۔ یہ کمی خوراک کی قیمتوں میں اعتدال کے باعث آئی، اگرچہ گندم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ بجلی کے نرخوں میں موافق بیس ایفیکٹ کے ختم ہونے کا اثر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مالی سال 2025 کے دوران مسلسل کمی کے بعد، بنیادی مہنگائی مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں تقریباً 7.4 فیصد کی سطح پر برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم صارفین اور کاروباری حضرات کی مہنگائی کی توقعات میں تسلسل کے ساتھ کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات مسلسل حکومت کے مالیاتی اعدادوشمار (جی ایف ایس) میں ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی کی کمی کو اجاگر کر رہے ہیں، جسے آئی ایم ایف بھی اپنی رپورٹ میں تسلیم کرتا ہے اور کہا ہے کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے سے متعلق شعبوں کے لیے دستیاب ماخذ ڈیٹا میں اہم خامیاں ابھی بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معیشت کے پیداواری شعبے، خاص طور پر بڑی صنعتیں، مسلسل ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا یہ نکتہ بالکل درست ہے کہ پاکستان میں شرحِ سود علاقائی اوسط سے دوگنی ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں ان کی مصنوعات دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی اور غیر مسابقتی ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2025) میں بڑی صنعتوں  کی شرحِ نمو 4.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ شرح منفی 1.8 فیصد تھی۔ صنعتی شعبے نے اس شرحِ نمو کو چیلنج کیا ہے اور اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر حالیہ مہینوں میں 150 سے زائد فیکٹریوں کی بندش، دیگر یونٹس کی اپنی پوری صلاحیت سے کم پیداوار، اور کئی کثیر القومی کمپنیوں  کے پاکستان سے انخلاء کا حوالہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے ڈیٹا کے مطابق، سب سے زیادہ اضافہ متفرق اشیاء میں دیکھا گیا (جن کا انڈیکس 368.85 سے بڑھ کر 381.22 ہو گیا)۔ یہ دعویٰ حیران کن ہے، کیونکہ مہنگائی کے مجموعی حساب میں اس شعبے کا وزن  صرف 4.87 فیصد ہے۔ اس کے برعکس ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور ایندھن کا شعبہ دوسرے نمبر پر رہا (انڈیکس 257.56 سے بڑھ کر 262.35 ہوا) جبکہ مہنگائی کے پیمانے میں اس کا وزن 23.63 فیصد کے ساتھ کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری میں ٹرانسپورٹ اخراجات میں (ماہانہ بنیادوں پر) کمی نوٹ کی گئی، تاہم حکومت اور خاص طور پر عوام کیلئے جو بات سب سے زیادہ تشویشناک ہونی چاہیے، وہ خلیجی ریاستوں سے ایندھن کی سپلائی کا منقطع ہونا (بدترین صورت میں) یا اس کی شدید قلت (کم از کم صورت میں) ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا رک جانا ہے، اگرچہ وزیراعظم نے کسی بھی بحران سے نمٹنے اور بروقت حفاظتی اقدامات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایک خریدار کے طور پر ہمارے پاس انتخاب کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں یہ جائز تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ کا ہماری معیشت پر ایک اور منفی اثر ترسیلاتِ زر  میں کمی کی صورت میں پڑے گا۔ جولائی تا فروری 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، یہ وہ اضافہ ہے جس نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک بار پھر بڑھنا شروع ہو گیا ہے جو مالی سال 25-2024 (جولائی تا جنوری) کے 564 ملین ڈالر پلس (سرپلس) سے گر کر رواں سال کے اسی عرصے میں 1,074 ملین ڈالر منفی (خسارے) تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زرمیں کمی جو کہ پاکستان کی کل ترسیلات کا تقریباً 50 سے 51 فیصد بنتی ہیں، غیر ملکی زرمبادلہ  ذخائر میں شدید کمی کا باعث بنے گی، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملک کا انحصار بیرونی قرضوں پر مزید بڑھ جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات انتہائی گہرے ہوں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میں مزید شدت آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) یعنی مہنگائی کی شرح فروری میں بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ جنوری کی 5.8 فیصد شرح کے مقابلے میں 1.2 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم، یہ شرح اب بھی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس ہدف کے مطابق ہے جو ایک سال سے زائد عرصے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی نے 16 دسمبر 2025 سے ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے جو کہ 5 مئی 2025 سے نافذ العمل 11 فیصد کی شرح میں 0.5 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</strong></p>
<p>مئی 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 3.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا جس نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ 9 مارچ 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اگلے اجلاس میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں 100 سے 200 بیسس پوائنٹس تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ متوقع اضافہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے اصرار پر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اس پیش گوئی کی تائید گزشتہ سال دسمبر میں جاری کیے گئے اسٹیٹ بینک کے مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں دی گئی وجوہات سے بھی ہوتی ہے جس میں کہا گیا تھا: سالانہ بنیادوں پر ہیڈلائن مہنگائی دسمبر میں کم ہو کر 5.6 فیصد رہ گئی جو نومبر میں 6.1 فیصد تھی۔ یہ کمی خوراک کی قیمتوں میں اعتدال کے باعث آئی، اگرچہ گندم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ بجلی کے نرخوں میں موافق بیس ایفیکٹ کے ختم ہونے کا اثر تھا۔</p>
<p>اسی دوران کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مالی سال 2025 کے دوران مسلسل کمی کے بعد، بنیادی مہنگائی مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں تقریباً 7.4 فیصد کی سطح پر برقرار رہی۔</p>
<p>تاہم صارفین اور کاروباری حضرات کی مہنگائی کی توقعات میں تسلسل کے ساتھ کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ ماہرین اقتصادیات مسلسل حکومت کے مالیاتی اعدادوشمار (جی ایف ایس) میں ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی کی کمی کو اجاگر کر رہے ہیں، جسے آئی ایم ایف بھی اپنی رپورٹ میں تسلیم کرتا ہے اور کہا ہے کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے سے متعلق شعبوں کے لیے دستیاب ماخذ ڈیٹا میں اہم خامیاں ابھی بھی موجود ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی معیشت کے پیداواری شعبے، خاص طور پر بڑی صنعتیں، مسلسل ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا یہ نکتہ بالکل درست ہے کہ پاکستان میں شرحِ سود علاقائی اوسط سے دوگنی ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں ان کی مصنوعات دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی اور غیر مسابقتی ہوجاتی ہیں۔</p>
<p>تاہم، سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2025) میں بڑی صنعتوں  کی شرحِ نمو 4.8 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ شرح منفی 1.8 فیصد تھی۔ صنعتی شعبے نے اس شرحِ نمو کو چیلنج کیا ہے اور اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر حالیہ مہینوں میں 150 سے زائد فیکٹریوں کی بندش، دیگر یونٹس کی اپنی پوری صلاحیت سے کم پیداوار، اور کئی کثیر القومی کمپنیوں  کے پاکستان سے انخلاء کا حوالہ دیا ہے۔</p>
<p>ادارہ شماریات کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے ڈیٹا کے مطابق، سب سے زیادہ اضافہ متفرق اشیاء میں دیکھا گیا (جن کا انڈیکس 368.85 سے بڑھ کر 381.22 ہو گیا)۔ یہ دعویٰ حیران کن ہے، کیونکہ مہنگائی کے مجموعی حساب میں اس شعبے کا وزن  صرف 4.87 فیصد ہے۔ اس کے برعکس ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور ایندھن کا شعبہ دوسرے نمبر پر رہا (انڈیکس 257.56 سے بڑھ کر 262.35 ہوا) جبکہ مہنگائی کے پیمانے میں اس کا وزن 23.63 فیصد کے ساتھ کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>فروری میں ٹرانسپورٹ اخراجات میں (ماہانہ بنیادوں پر) کمی نوٹ کی گئی، تاہم حکومت اور خاص طور پر عوام کیلئے جو بات سب سے زیادہ تشویشناک ہونی چاہیے، وہ خلیجی ریاستوں سے ایندھن کی سپلائی کا منقطع ہونا (بدترین صورت میں) یا اس کی شدید قلت (کم از کم صورت میں) ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا رک جانا ہے، اگرچہ وزیراعظم نے کسی بھی بحران سے نمٹنے اور بروقت حفاظتی اقدامات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایک خریدار کے طور پر ہمارے پاس انتخاب کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔</p>
<p>مزید برآں یہ جائز تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جاری جنگ کا ہماری معیشت پر ایک اور منفی اثر ترسیلاتِ زر  میں کمی کی صورت میں پڑے گا۔ جولائی تا فروری 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، یہ وہ اضافہ ہے جس نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سنبھالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک بار پھر بڑھنا شروع ہو گیا ہے جو مالی سال 25-2024 (جولائی تا جنوری) کے 564 ملین ڈالر پلس (سرپلس) سے گر کر رواں سال کے اسی عرصے میں 1,074 ملین ڈالر منفی (خسارے) تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زرمیں کمی جو کہ پاکستان کی کل ترسیلات کا تقریباً 50 سے 51 فیصد بنتی ہیں، غیر ملکی زرمبادلہ  ذخائر میں شدید کمی کا باعث بنے گی، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملک کا انحصار بیرونی قرضوں پر مزید بڑھ جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات انتہائی گہرے ہوں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میں مزید شدت آئے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283537</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Mar 2026 11:42:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0511205158d7a9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0511205158d7a9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
