<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کرکے پالیسی بورڈ کے افعال وزارت خزانہ کو منتقل کئے جائینگے، محمد اورنگزیب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283533/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو کہا کہ حکومت نئے فنانس ایکٹ 2026 کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 میں ترامیم کرے گی تاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس پالیسی بورڈ کے افعال کو ایف بی آر سے وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی دفتر منتقل کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا کہ حکومت نے وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی دفتر قائم کیا ہے تاکہ مالیاتی پالیسیوں کا خود مختار تجزیہ اور ترقی ممکن ہو سکے اور ایف بی آر کے محصولات کی انتظامیہ اور پالیسی سازی کے افعال میں واضح تفریق قائم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس پالیسی دفتر کے قیام کے بعد ایف بی آر کے پالیسی بورڈ کے افعال غیر ضروری ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ایف بی آر ایکٹ 2007 کے سیکشن 6 اور بورڈ کے حوالے سے دیگر تمام شقیں ختم کرنے کی تجویز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی ار کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے ٹیکس پالیسی دفتر ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی بورڈ اب غیر ضروری ہو جائے گا اور ایف بی آر کے افعال صرف انتظامی اور آپریشنل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر طلحہ محمود نے اعتراض کیا کہ ٹیکس پالیسی ایک تکنیکی شعبہ ہے اور اسے ایف بی آر کے رکن کی سربراہی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایف بی آر افسران کے منفی رویے اور ٹیکس کے حوالے سے بدعنوانی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کے اثاثوں کی جانچ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس مشینری میں بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ تمام سرکاری ملازمین، بشمول ایف بی آر افسران، اپنی آمدنی اور اثاثے حکومت کو ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کے تحت سیکرٹری ریونیو ڈویژن کو بی ایس-21 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تعیناتی اور تبادلے کے اختیارات دیے جائیں گے تاکہ انتظامی تسلسل اور قانونی وضاحت کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو کہا کہ حکومت نئے فنانس ایکٹ 2026 کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایکٹ 2007 میں ترامیم کرے گی تاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹیکس پالیسی بورڈ کے افعال کو ایف بی آر سے وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی دفتر منتقل کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آگاہ کیا کہ حکومت نے وزارت خزانہ میں ٹیکس پالیسی دفتر قائم کیا ہے تاکہ مالیاتی پالیسیوں کا خود مختار تجزیہ اور ترقی ممکن ہو سکے اور ایف بی آر کے محصولات کی انتظامیہ اور پالیسی سازی کے افعال میں واضح تفریق قائم ہو۔</p>
<p>ٹیکس پالیسی دفتر کے قیام کے بعد ایف بی آر کے پالیسی بورڈ کے افعال غیر ضروری ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ایف بی آر ایکٹ 2007 کے سیکشن 6 اور بورڈ کے حوالے سے دیگر تمام شقیں ختم کرنے کی تجویز ہے۔</p>
<p>ایف بی ار کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے بتایا کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے ٹیکس پالیسی دفتر ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی بورڈ اب غیر ضروری ہو جائے گا اور ایف بی آر کے افعال صرف انتظامی اور آپریشنل ہوں گے۔</p>
<p>سینیٹر طلحہ محمود نے اعتراض کیا کہ ٹیکس پالیسی ایک تکنیکی شعبہ ہے اور اسے ایف بی آر کے رکن کی سربراہی میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایف بی آر افسران کے منفی رویے اور ٹیکس کے حوالے سے بدعنوانی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان کے اثاثوں کی جانچ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کرے۔</p>
<p>اس کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس مشینری میں بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ تمام سرکاری ملازمین، بشمول ایف بی آر افسران، اپنی آمدنی اور اثاثے حکومت کو ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔</p>
<p>چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ ایف بی آر ایکٹ میں ترمیم کے تحت سیکرٹری ریونیو ڈویژن کو بی ایس-21 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تعیناتی اور تبادلے کے اختیارات دیے جائیں گے تاکہ انتظامی تسلسل اور قانونی وضاحت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283533</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Mar 2026 11:06:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0511031775e8d58.webp" type="image/webp" medium="image" height="483" width="925">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0511031775e8d58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
