<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی سینیٹ کا ٹرمپ کے ایران سے متعلق جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش مسترد کرنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283519/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سینیٹ بدھ کے روز ایک ایسی قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ یہ ووٹنگ اس تنازع کی کانگریس میں پہلی بڑی آزمائش سمجھی جا رہی ہے، جس کا آغاز قانون سازوں کی واضح منظوری کے بغیر ہوا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین اور ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کی جانب سے پیش کیے گئے دو جماعتی اقدام کے تحت امریکی افواج کو ایران کے خلاف جاری دشمنی سے دستبردار ہونا ہوگا، جب تک کہ کانگریس اس فوجی مہم کی باقاعدہ منظوری نہ دے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایوانِ بالا میں ریپبلکنز کو 47 کے مقابلے میں 53 نشستوں کی برتری اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کے صدارتی فیصلے کی وسیع حمایت کے باعث اس قرارداد کے مسترد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ووٹنگ ایسے وقت ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتا ہوا تنازع پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت تہران کی کئی اعلیٰ شخصیات شہید ہو چکی ہیں، جبکہ ایرانی حملوں اور کویت میں ایک امریکی اڈے پر ڈرون حملے میں امریکی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فضائی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کانگریس کو غیر آئینی طور پر نظرانداز کیا، اور ان کے بقول انتظامیہ جنگ کے حوالے سے بدلتے ہوئے مؤقف پیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے انتظامیہ کے حکام کی خفیہ بریفنگ کے بعد اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ”میں یوں کہوں گا کہ اس کمرے میں کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ امریکا کو ایران سے کسی فوری خطرے کا سامنا تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکنز کی بڑی تعداد اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم کچھ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر جنگ پھیلتی ہے یا طویل ہوتی ہے تو ان کی حمایت کمزور پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر لنڈسے گراہم، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور ایران کے خلاف سخت موقف کے حامی رہے ہیں، نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ ”ایران سے آنے والے سڑک کنارے بموں نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں امریکیوں کو معذور اور ہلاک کیا ہے۔“&lt;br&gt;انہوں نے کہا کہ ”جب وہ ’امریکا کی موت‘ کہتے ہیں تو اس کا مطلب رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اسے مزید آگے نہیں بڑھنے دیا اور انہیں مزید میزائل بنانے کی اجازت نہیں دی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قرارداد کی منظوری کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم چار مزید ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت درکار ہوگی، بشرطیکہ تمام ارکان ووٹنگ میں حصہ لیں۔ تاہم پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹر مین پہلے ہی اس کی مخالفت کا اعلان کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ قرارداد سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظور بھی ہو جائے، جہاں اسی نوعیت کی ایک قرارداد پر جمعرات کو ووٹنگ متوقع ہے، تو بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں، اور کانگریس کو اس فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جو بظاہر حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث مختلف ممالک اپنی پھنسے ہوئے شہریوں کے انخلا کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ بحران امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بھڑکا، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، جس کے بعد خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی اور ریاض جیسے شہر، جو طویل عرصے سے خطے کی بدامنی سے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے تھے، اب اس پھیلتے ہوئے تنازع کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانگریس میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات پر جاری بحث دراصل اس فوجی مہم کے دائرہ کار اور دورانیے سے متعلق وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے حکام نے اس ہفتے خفیہ بریفنگز میں قانون سازوں کو بتایا کہ یہ آپریشن کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کے لیے کانگریس سے اضافی فنڈز بھی درکار ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں جماعتوں کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون جلد ہی ہنگامی فنڈز کی درخواست کر سکتا ہے تاکہ ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے اور فوجی کارروائی کو جاری رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قرارداد 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت پیش کی گئی ہے، جو ویتنام جنگ کے بعد منظور کیا گیا تھا، اور اس کے تحت کانگریس کو فوجی کارروائیوں پر ووٹنگ کا اختیار حاصل ہے جبکہ بغیر اجازت جنگ کو 60 دن تک محدود کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموکریٹس تسلیم کرتے ہیں کہ اس قرارداد کی کامیابی کے امکانات کم ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے معاملے پر قانون سازوں کو عوامی طور پر مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سینیٹ بدھ کے روز ایک ایسی قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ یہ ووٹنگ اس تنازع کی کانگریس میں پہلی بڑی آزمائش سمجھی جا رہی ہے، جس کا آغاز قانون سازوں کی واضح منظوری کے بغیر ہوا تھا۔</strong></p>
<p>ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین اور ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کی جانب سے پیش کیے گئے دو جماعتی اقدام کے تحت امریکی افواج کو ایران کے خلاف جاری دشمنی سے دستبردار ہونا ہوگا، جب تک کہ کانگریس اس فوجی مہم کی باقاعدہ منظوری نہ دے دے۔</p>
<p>تاہم، ایوانِ بالا میں ریپبلکنز کو 47 کے مقابلے میں 53 نشستوں کی برتری اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کے صدارتی فیصلے کی وسیع حمایت کے باعث اس قرارداد کے مسترد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ ووٹنگ ایسے وقت ہو رہی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے پھیلتا ہوا تنازع پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت تہران کی کئی اعلیٰ شخصیات شہید ہو چکی ہیں، جبکہ ایرانی حملوں اور کویت میں ایک امریکی اڈے پر ڈرون حملے میں امریکی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔</p>
<p>ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فضائی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کانگریس کو غیر آئینی طور پر نظرانداز کیا، اور ان کے بقول انتظامیہ جنگ کے حوالے سے بدلتے ہوئے مؤقف پیش کر رہی ہے۔</p>
<p>ڈیموکریٹ سینیٹر ٹم کین نے انتظامیہ کے حکام کی خفیہ بریفنگ کے بعد اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ”میں یوں کہوں گا کہ اس کمرے میں کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ امریکا کو ایران سے کسی فوری خطرے کا سامنا تھا۔“</p>
<p>ریپبلکنز کی بڑی تعداد اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم کچھ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر جنگ پھیلتی ہے یا طویل ہوتی ہے تو ان کی حمایت کمزور پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>سینیٹر لنڈسے گراہم، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور ایران کے خلاف سخت موقف کے حامی رہے ہیں، نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ ”ایران سے آنے والے سڑک کنارے بموں نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں امریکیوں کو معذور اور ہلاک کیا ہے۔“<br>انہوں نے کہا کہ ”جب وہ ’امریکا کی موت‘ کہتے ہیں تو اس کا مطلب رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اسے مزید آگے نہیں بڑھنے دیا اور انہیں مزید میزائل بنانے کی اجازت نہیں دی۔“</p>
<p>اس قرارداد کی منظوری کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم چار مزید ریپبلکن سینیٹرز کی حمایت درکار ہوگی، بشرطیکہ تمام ارکان ووٹنگ میں حصہ لیں۔ تاہم پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹر مین پہلے ہی اس کی مخالفت کا اعلان کر چکے ہیں۔</p>
<p>اگر یہ قرارداد سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں سے منظور بھی ہو جائے، جہاں اسی نوعیت کی ایک قرارداد پر جمعرات کو ووٹنگ متوقع ہے، تو بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں، اور کانگریس کو اس فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جو بظاہر حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث مختلف ممالک اپنی پھنسے ہوئے شہریوں کے انخلا کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ بحران امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بھڑکا، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے، جس کے بعد خلیجی خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔</p>
<p>دبئی اور ریاض جیسے شہر، جو طویل عرصے سے خطے کی بدامنی سے نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے تھے، اب اس پھیلتے ہوئے تنازع کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔</p>
<p>کانگریس میں ٹرمپ کے جنگی اختیارات پر جاری بحث دراصل اس فوجی مہم کے دائرہ کار اور دورانیے سے متعلق وسیع تر خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>انتظامیہ کے حکام نے اس ہفتے خفیہ بریفنگز میں قانون سازوں کو بتایا کہ یہ آپریشن کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے اور اس کے لیے کانگریس سے اضافی فنڈز بھی درکار ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>دونوں جماعتوں کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون جلد ہی ہنگامی فنڈز کی درخواست کر سکتا ہے تاکہ ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے اور فوجی کارروائی کو جاری رکھا جا سکے۔</p>
<p>یہ قرارداد 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت پیش کی گئی ہے، جو ویتنام جنگ کے بعد منظور کیا گیا تھا، اور اس کے تحت کانگریس کو فوجی کارروائیوں پر ووٹنگ کا اختیار حاصل ہے جبکہ بغیر اجازت جنگ کو 60 دن تک محدود کیا جاتا ہے۔</p>
<p>ڈیموکریٹس تسلیم کرتے ہیں کہ اس قرارداد کی کامیابی کے امکانات کم ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے معاملے پر قانون سازوں کو عوامی طور پر مؤقف اختیار کرنے پر مجبور کرنا ناگزیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283519</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 22:10:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0421520536908c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0421520536908c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
