<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>علاقائی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پیٹرولیم کے ذخائر تسلی بخش ہیں، حکومت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283517/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں۔ یہ بیان کابینہ کی  کمیٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین اور ہنگامی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تشکیل دی گئی  پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں ہوا، جس کا مقصد توانائی کی فراہمی کی صورتحال کا تخمینہ لگانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات بشمول پیٹرول، ڈیزل، ہوائی جہاز کے ایندھن اور ایل پی جی  کے ذخائر، کھپت کے رجحانات اور ان کی دستیابی کے دنوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں عالمی تیل کی منڈیوں کی صورتحال بشمول قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مال برداری  اور انشورنس کے اخراجات اور بحری راستوں کی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بین الاقوامی توانائی کی صورتحال غیر مستحکم ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز  کے گرد منڈلانے والی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی کی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارکان کو ایل این جی  اور ایل پی جی مارکیٹ کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ طویل مدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کی درآمد پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا اہم حصہ ہے، تاہم علاقائی بحری راستوں میں تعطل عالمی لاجسٹکس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سرحد پار سے آنے والی ایل پی جی کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ ملک میں اس کی دستیابی برقرار رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے سپلائی کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور متبادل راستوں کی تلاش شامل ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضرورت پڑنے پر اضافی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے دوست ممالک اور علاقائی سپلائرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی رابطے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جن میں بحیرہ احمر  اور خلیجی خطے کی بندرگاہوں کے ذریعے ممکنہ انتظامات شامل ہیں، تاکہ ریفائنریوں کا کام جاری رہے اور سپلائی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر ہنگامی منصوبہ بندی کے تحت کمیٹی نے توانائی کی بچت کے ان اقدامات کا بھی جائزہ لیا جن کا مقصد مارکیٹ کی صورتحال کو مستحکم رکھتے ہوئے طلب کو کنٹرول کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے متعلقہ حکام کو پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور غیر قانونی فروخت روکنے کی ہدایت کی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور دیا، تاکہ ملکی ذخائر کا تحفظ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اگلے اجلاس میں شرکت کریں گے، تاکہ حتمی سمری اور  نیشنل ایکشن پلان پر مشاورت کی جا سکے۔ اس اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر تحفظ خوراک رانا تنویر حسین، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں۔ یہ بیان کابینہ کی  کمیٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین اور ہنگامی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تشکیل دی گئی  پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں ہوا، جس کا مقصد توانائی کی فراہمی کی صورتحال کا تخمینہ لگانا تھا۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات بشمول پیٹرول، ڈیزل، ہوائی جہاز کے ایندھن اور ایل پی جی  کے ذخائر، کھپت کے رجحانات اور ان کی دستیابی کے دنوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے۔</p>
<p>اجلاس میں عالمی تیل کی منڈیوں کی صورتحال بشمول قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مال برداری  اور انشورنس کے اخراجات اور بحری راستوں کی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بین الاقوامی توانائی کی صورتحال غیر مستحکم ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز  کے گرد منڈلانے والی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی کی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>ارکان کو ایل این جی  اور ایل پی جی مارکیٹ کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ طویل مدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کی درآمد پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا اہم حصہ ہے، تاہم علاقائی بحری راستوں میں تعطل عالمی لاجسٹکس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سرحد پار سے آنے والی ایل پی جی کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے، تاکہ ملک میں اس کی دستیابی برقرار رہے۔</p>
<p>کمیٹی نے سپلائی کی حفاظت کو مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور متبادل راستوں کی تلاش شامل ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضرورت پڑنے پر اضافی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے دوست ممالک اور علاقائی سپلائرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی رابطے جاری ہیں۔</p>
<p>ایندھن کے حصول کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جن میں بحیرہ احمر  اور خلیجی خطے کی بندرگاہوں کے ذریعے ممکنہ انتظامات شامل ہیں، تاکہ ریفائنریوں کا کام جاری رہے اور سپلائی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>وسیع تر ہنگامی منصوبہ بندی کے تحت کمیٹی نے توانائی کی بچت کے ان اقدامات کا بھی جائزہ لیا جن کا مقصد مارکیٹ کی صورتحال کو مستحکم رکھتے ہوئے طلب کو کنٹرول کرنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے متعلقہ حکام کو پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور غیر قانونی فروخت روکنے کی ہدایت کی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور دیا، تاکہ ملکی ذخائر کا تحفظ کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اگلے اجلاس میں شرکت کریں گے، تاکہ حتمی سمری اور  نیشنل ایکشن پلان پر مشاورت کی جا سکے۔ اس اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر تحفظ خوراک رانا تنویر حسین، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283517</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 20:14:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/042005510599b2b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1018" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/042005510599b2b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
