<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:53:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شدید پیشہ ورانہ تھکن کا پھیلتا رجحان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283508/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تھکا ہوا، نڈھال، بے جان، علیل، ساکت، بے حس، چڑچڑا، بے چین، ماؤف، پھنسا ہوا، جکڑا ہوا، یہ وہ الفاظ ہیں جو میں آج کل ملنے والے زیادہ تر پیشہ ور افراد سے سنتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں: ”دباؤ حد سے زیادہ ہے“، ” میں زیادہ تر وقت چڑچڑا محسوس کرتا ہوں“، ”میں توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ذہن خالی ہو جاتا ہے“، ” میری توانائی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے“، ”ہر چیز ایک مشقت بن کر رہ گئی ہے“۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیانات ہر سطح پر سننے کو مل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہم جنریشن زیڈ کے اسٹریس کی شکایات کی بات کر رہے ہیں، وہیں درمیانی اور اعلیٰ انتظامیہ برن آؤٹ ( شدید پیشہ ورانہ تھکن کا پھیلتا رجحان) کا ذکر کر رہی ہے۔ یہ صورتِ حال گویا ایک وبا کی طرح ہے جو تشویشناک حد تک لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیولپمنٹ ڈائمنشن انٹرنیشنل کی لیڈرشپ فورکاسٹ 2025 اسٹڈی کچھ تلخ حقائق سامنے لاتی ہے۔ لیڈرز میں اسٹریس تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں 71 فیصد نے بتایا کہ موجودہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کے اسٹریس لیول میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ شرح 2022 کے 63 فیصد کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے آنے والے افراد اینزائٹی کا شکار ہیں۔ مڈل مینجمنٹ اپنے ماتحت بغاوتی رویوں اور اوپر سے بڑھتے دباؤ کے درمیان پس رہی ہے۔ جبکہ سینئر لیڈرز کم وسائل میں زیادہ نتائج دینے کے بوجھ تلے دب کر ٹوٹ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ڈی آئی رپورٹ کے مطابق لیڈرز برن آؤٹ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ 71 فیصد اسٹریس کا شکار لیڈرز میں سے 54 فیصد کو خدشہ ہے کہ وہ برن آؤٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں جذباتی تھکن، کام سے لاتعلقی اور پیشہ ورانہ کارکردگی میں کمی شامل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال کو مزید خراب بناتے ہوئے، 40 فیصد افراد نے اس کے نتیجے میں قیادت کے کردار کو مکمل طور پر چھوڑنے پر غور کیا ہے، جبکہ کم اسٹریس رکھنے والے لیڈرز میں یہ شرح صرف 20 فیصد ہے۔ اس کی ایک وجہ حالیہ عرصے میں نسبتاً کم عمر سی-سوئٹ لیڈرز(اعلیٰ انتظامی قیادت) میں اچانک دل کے دوروں اور دیگر بیماریوں سے متعلق خبروں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرا تصور کیجیے کہ اگر سینئر لیڈرز خود ہی لاتعلقی اور ناسازیِ صحت کا شکار ہوں تو اُن کے ساتھ کام کرنے والوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اُن کا برن آؤٹ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اسے ایک کارپوریٹ ہیلتھ شاک کے طور پر لیا جائے، جس کا سنجیدگی سے سامنا اور تدارک کیا جائے۔ یہ اُن بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے کمپنیوں کو پیداواری نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں، اور جن کا بوجھ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتیں۔ جس طرح ادارے مشینوں کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں، اسی طرح انہیں اپنے ملازمین کی جذباتی صحت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اس سلسلے میں چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحلہ نمبر 1: ثقافتی نبض (دی کلچرل پلس)&lt;br&gt;میری کوچنگ پریکٹس میں بہت سے لوگ پیشہ ورانہ کوچنگ کے لیے آتے ہیں، مگر بات کرتے کرتے انہیں جذباتی مدد کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان کی کمپنی نے اُن کے لیے کسی مہارت کی نشاندہی کی ہوتی ہے جسے بہتر بنانا ہوتا ہے، مگر جب سیشن شروع ہوتے ہیں تو کوچی اپنے مسائل بھی بیان کرنا چاہتا ہے۔ ایک جملہ جو میں آج کل بار بار سنتا ہوں وہ ہے: ”دباؤ حد سے زیادہ ہے“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ اپنے شعبے کے ماحول، میٹنگز کے انداز اور دفتر کی مجموعی ثقافت پر بات کرتے ہیں۔ ابتدا میں وہ ہچکچاتے ہیں، کہیں کہنا بھی چاہتے ہیں اور کہیں نہیں بھی، مگر آخرکار بات کر ہی دیتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ تر کمپنیوں میں نفسیاتی تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ملازمین کھل کر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں خود کو غیر محفوظ اور زیرِ نگرانی محسوس ہوتا ہے۔ وہ ”اسپیک اپ“ سیشنز کے نتائج دیکھ چکے ہیں، اس لیے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خاموشی آہستہ آہستہ جذباتی گھٹن میں بدل جاتی ہے، جو اُن کی کارکردگی کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ یاد رہے، یہ صرف مقامی کمپنیوں کی بات نہیں—ملٹی نیشنل ادارے بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ یہی جذباتی دباؤ آگے چل کر مایوسی، چڑچڑاہٹ اور باہمی تنازعات کو جنم دیتا ہے، اور یوں ایک ایسی فضا تشکیل پاتی ہے جسے عموماً “ٹاکسک کلچر” کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حل &lt;a href="/trends/1"&gt;#1&lt;/a&gt;: ثقافتی جائزہ ( کلچرل اسیسمنٹ)&lt;br&gt;اداروں کو ہر تین ماہ بعد اپنی تنظیم کی جذباتی صحت کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ سروے عام آرگنائزیشن اینگیجمنٹ سروے سے مختلف ہوتا ہے؛ یہ ایک ” پلس ٹیسٹر“ ہے۔ سوالات صرف نفسیاتی تحفظ، اسٹریس کی سطح، جذباتی مدد وغیرہ تک محدود ہوں۔ یہ سروے ڈیجیٹل اور گمنام ہو سکتا ہے۔ اس کے نتائج کمپنیوں کو یہ جانچنے میں مدد دیں گے کہ ادارے کی جذباتی صحت کیسی ہے۔ مختلف اسکورز یہ بتائیں گے کہ دباؤ معمولی ہے، تناؤ ہے یا برن آؤٹ کی سطح پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحلہ &lt;a href="/trends/2"&gt;#2&lt;/a&gt;: لوگوں سے رابطہ&lt;br&gt;اداروں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ سروے کے نتائج کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اگر جذباتی دباؤ کو نظرانداز کیا جائے تو یہ پیداواری صلاحیت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لائن مینیجرز کو اپنی ٹیم اور شعبے کے جذباتی خطرات کو سمجھنا ہوگا۔ سروے کے نتائج پر لائن مینیجرز کے ردِعمل جانچنے کے لیے گہرائی میں انٹرویوز کروائے جائیں۔ مختلف قیادت کی سطحوں اور ملازمین کے درمیان جو ہم آہنگی کا فقدان ہے، اسے تجزیہ کیا جانا چاہیے تاکہ قیادت کی مؤثریت یا غیر مؤثریت کا تعین ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حل &lt;a href="/trends/2"&gt;#2&lt;/a&gt;: لیڈر-پیپل کنیکٹ میٹرکس (قیادت اور عملے کے تعلقات کا فریم ورک)&lt;br&gt;لیڈرز کو ایک میٹرکس پر رکھا جائے جس سے رابطے کے خلا (کنیکٹ گیپ) کی نشاندہی ہو سکے۔ اس خلا کو ٹارگٹڈ کوچنگ اور دیگر ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پُر کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحلہ &lt;a href="/trends/3"&gt;#3&lt;/a&gt;: جذباتی صحت کی ذمہ داری&lt;br&gt;کبھی اعداد و شمار حقیقت کو چھپا دیتے ہیں۔ بعض اوقات ٹاکسک شعبے بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں، مگر اس کے پیچھے پیدا ہونے والا دباؤ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے شعبوں میں جذباتی دباؤ آخرکار پھٹ سکتا ہے: کلیدی لوگ استعفیٰ دے دیتے ہیں، اہم کلائنٹ کا نقصان ہوتا ہے، ضروری سپلائر فیل ہو جاتا ہے۔ یہ نقصان نہ صرف شعبے بلکہ پوری کمپنی کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حل &lt;a href="/trends/3"&gt;#3&lt;/a&gt;: متوازن تشخیص کا نظام&lt;br&gt;کمپنی کو ایک متوازن پیشہ ورانہ کارکردگی کی جانچ نظام تیار کرنا چاہیے۔ کارکردگی کو وزن دیا جائے، اسی طرح شعبے کی ثقافت اور لوگوں سے رابطے کو بھی اہمیت دی جائے۔ ڈویژن ہیڈز کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائیں، مگر ان کے لوگوں سے تعلقات اور جذباتی صحت خراب ہوں، تو اضافی انعامات کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحلہ &lt;a href="/trends/4"&gt;#4&lt;/a&gt;: نظام اور سہولتیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمین کی فلاح و بہبود ایک اچھا نعرہ ہے، لیکن اس نعرے کو عملی نظام میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ کمپنیاں ہیلتھ انشورنس دیتی ہیں اور اندرونِ ادارہ کوچنگ/کاؤنسلنگ سہولیات فراہم کرتی ہیں، مگر یہ کافی نہیں۔ موجودہ ذہنی مسائل کے پیش نظر صرف کھلی گفتگو کے سیشن کافی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حل &lt;a href="/trends/4"&gt;#4&lt;/a&gt;: داخلی نظام اور ماہرین&lt;br&gt;کمپنیوں کو ایسے داخلی نظام بنانے چاہیے جو ذہنی اور جذباتی مدد کے ضرورت مند افراد کی شناخت کریں اور انہیں پیشہ ور ماہر نفسیات اور تھراپسٹ سے منسلک کریں۔ ملازمین کو حوصلہ دیا جائے کہ وہ ان ماہرین سے مدد حاصل کریں۔ سٹریس مینجمنٹ کورسز بھی کارآمد ہیں، لیکن ذہنی اور جذباتی مسائل کے لیے طویل المدتی مداخلت ضروری ہے۔ کورسز کے بعد تھراپسٹ سے مشاورت اس عمل کو زیادہ مؤثر بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات بظاہر مہنگے اور پیچیدہ لگ سکتے ہیں، لیکن ان کا موازنہ اس نقصان سے کریں جو برن آؤٹ کے باعث پیدا ہوتا ہے: برن آؤٹ کے شکار ملازمین 63 فیصد زیادہ بیماری کی چھٹیاں لیتے ہیں۔ 13 فیصد کم اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ 2.6 گنا زیادہ امکان ہے کہ وہ نئی ملازمت کی تلاش میں ہوں، جس سے بھرتی اور تربیت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا برن آؤٹ صرف ذاتی ناکامی نہیں، بلکہ ادارے کی ناکامی بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ،بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تھکا ہوا، نڈھال، بے جان، علیل، ساکت، بے حس، چڑچڑا، بے چین، ماؤف، پھنسا ہوا، جکڑا ہوا، یہ وہ الفاظ ہیں جو میں آج کل ملنے والے زیادہ تر پیشہ ور افراد سے سنتی ہوں۔ وہ کہتے ہیں: ”دباؤ حد سے زیادہ ہے“، ” میں زیادہ تر وقت چڑچڑا محسوس کرتا ہوں“، ”میں توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ذہن خالی ہو جاتا ہے“، ” میری توانائی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے“، ”ہر چیز ایک مشقت بن کر رہ گئی ہے“۔</strong></p>
<p>یہ بیانات ہر سطح پر سننے کو مل رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ہم جنریشن زیڈ کے اسٹریس کی شکایات کی بات کر رہے ہیں، وہیں درمیانی اور اعلیٰ انتظامیہ برن آؤٹ ( شدید پیشہ ورانہ تھکن کا پھیلتا رجحان) کا ذکر کر رہی ہے۔ یہ صورتِ حال گویا ایک وبا کی طرح ہے جو تشویشناک حد تک لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>ڈیولپمنٹ ڈائمنشن انٹرنیشنل کی لیڈرشپ فورکاسٹ 2025 اسٹڈی کچھ تلخ حقائق سامنے لاتی ہے۔ لیڈرز میں اسٹریس تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں 71 فیصد نے بتایا کہ موجودہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کے اسٹریس لیول میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ شرح 2022 کے 63 فیصد کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>نئے آنے والے افراد اینزائٹی کا شکار ہیں۔ مڈل مینجمنٹ اپنے ماتحت بغاوتی رویوں اور اوپر سے بڑھتے دباؤ کے درمیان پس رہی ہے۔ جبکہ سینئر لیڈرز کم وسائل میں زیادہ نتائج دینے کے بوجھ تلے دب کر ٹوٹ رہے ہیں۔</p>
<p>ڈی ڈی آئی رپورٹ کے مطابق لیڈرز برن آؤٹ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ 71 فیصد اسٹریس کا شکار لیڈرز میں سے 54 فیصد کو خدشہ ہے کہ وہ برن آؤٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں جذباتی تھکن، کام سے لاتعلقی اور پیشہ ورانہ کارکردگی میں کمی شامل ہوتی ہے۔</p>
<p>صورتحال کو مزید خراب بناتے ہوئے، 40 فیصد افراد نے اس کے نتیجے میں قیادت کے کردار کو مکمل طور پر چھوڑنے پر غور کیا ہے، جبکہ کم اسٹریس رکھنے والے لیڈرز میں یہ شرح صرف 20 فیصد ہے۔ اس کی ایک وجہ حالیہ عرصے میں نسبتاً کم عمر سی-سوئٹ لیڈرز(اعلیٰ انتظامی قیادت) میں اچانک دل کے دوروں اور دیگر بیماریوں سے متعلق خبروں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ذرا تصور کیجیے کہ اگر سینئر لیڈرز خود ہی لاتعلقی اور ناسازیِ صحت کا شکار ہوں تو اُن کے ساتھ کام کرنے والوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اُن کا برن آؤٹ دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اسے ایک کارپوریٹ ہیلتھ شاک کے طور پر لیا جائے، جس کا سنجیدگی سے سامنا اور تدارک کیا جائے۔ یہ اُن بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے کمپنیوں کو پیداواری نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں، اور جن کا بوجھ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتیں۔ جس طرح ادارے مشینوں کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں، اسی طرح انہیں اپنے ملازمین کی جذباتی صحت پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اس سلسلے میں چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں:</p>
<p>مرحلہ نمبر 1: ثقافتی نبض (دی کلچرل پلس)<br>میری کوچنگ پریکٹس میں بہت سے لوگ پیشہ ورانہ کوچنگ کے لیے آتے ہیں، مگر بات کرتے کرتے انہیں جذباتی مدد کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ان کی کمپنی نے اُن کے لیے کسی مہارت کی نشاندہی کی ہوتی ہے جسے بہتر بنانا ہوتا ہے، مگر جب سیشن شروع ہوتے ہیں تو کوچی اپنے مسائل بھی بیان کرنا چاہتا ہے۔ ایک جملہ جو میں آج کل بار بار سنتا ہوں وہ ہے: ”دباؤ حد سے زیادہ ہے“۔</p>
<p>وہ اپنے شعبے کے ماحول، میٹنگز کے انداز اور دفتر کی مجموعی ثقافت پر بات کرتے ہیں۔ ابتدا میں وہ ہچکچاتے ہیں، کہیں کہنا بھی چاہتے ہیں اور کہیں نہیں بھی، مگر آخرکار بات کر ہی دیتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ تر کمپنیوں میں نفسیاتی تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ملازمین کھل کر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ انہیں خود کو غیر محفوظ اور زیرِ نگرانی محسوس ہوتا ہے۔ وہ ”اسپیک اپ“ سیشنز کے نتائج دیکھ چکے ہیں، اس لیے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>یہ خاموشی آہستہ آہستہ جذباتی گھٹن میں بدل جاتی ہے، جو اُن کی کارکردگی کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ یاد رہے، یہ صرف مقامی کمپنیوں کی بات نہیں—ملٹی نیشنل ادارے بھی اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ یہی جذباتی دباؤ آگے چل کر مایوسی، چڑچڑاہٹ اور باہمی تنازعات کو جنم دیتا ہے، اور یوں ایک ایسی فضا تشکیل پاتی ہے جسے عموماً “ٹاکسک کلچر” کہا جاتا ہے۔</p>
<p>حل <a href="/trends/1">#1</a>: ثقافتی جائزہ ( کلچرل اسیسمنٹ)<br>اداروں کو ہر تین ماہ بعد اپنی تنظیم کی جذباتی صحت کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ سروے عام آرگنائزیشن اینگیجمنٹ سروے سے مختلف ہوتا ہے؛ یہ ایک ” پلس ٹیسٹر“ ہے۔ سوالات صرف نفسیاتی تحفظ، اسٹریس کی سطح، جذباتی مدد وغیرہ تک محدود ہوں۔ یہ سروے ڈیجیٹل اور گمنام ہو سکتا ہے۔ اس کے نتائج کمپنیوں کو یہ جانچنے میں مدد دیں گے کہ ادارے کی جذباتی صحت کیسی ہے۔ مختلف اسکورز یہ بتائیں گے کہ دباؤ معمولی ہے، تناؤ ہے یا برن آؤٹ کی سطح پر ہے۔</p>
<p>مرحلہ <a href="/trends/2">#2</a>: لوگوں سے رابطہ<br>اداروں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ سروے کے نتائج کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اگر جذباتی دباؤ کو نظرانداز کیا جائے تو یہ پیداواری صلاحیت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لائن مینیجرز کو اپنی ٹیم اور شعبے کے جذباتی خطرات کو سمجھنا ہوگا۔ سروے کے نتائج پر لائن مینیجرز کے ردِعمل جانچنے کے لیے گہرائی میں انٹرویوز کروائے جائیں۔ مختلف قیادت کی سطحوں اور ملازمین کے درمیان جو ہم آہنگی کا فقدان ہے، اسے تجزیہ کیا جانا چاہیے تاکہ قیادت کی مؤثریت یا غیر مؤثریت کا تعین ہو سکے۔</p>
<p>حل <a href="/trends/2">#2</a>: لیڈر-پیپل کنیکٹ میٹرکس (قیادت اور عملے کے تعلقات کا فریم ورک)<br>لیڈرز کو ایک میٹرکس پر رکھا جائے جس سے رابطے کے خلا (کنیکٹ گیپ) کی نشاندہی ہو سکے۔ اس خلا کو ٹارگٹڈ کوچنگ اور دیگر ترقیاتی اقدامات کے ذریعے پُر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مرحلہ <a href="/trends/3">#3</a>: جذباتی صحت کی ذمہ داری<br>کبھی اعداد و شمار حقیقت کو چھپا دیتے ہیں۔ بعض اوقات ٹاکسک شعبے بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں، مگر اس کے پیچھے پیدا ہونے والا دباؤ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے شعبوں میں جذباتی دباؤ آخرکار پھٹ سکتا ہے: کلیدی لوگ استعفیٰ دے دیتے ہیں، اہم کلائنٹ کا نقصان ہوتا ہے، ضروری سپلائر فیل ہو جاتا ہے۔ یہ نقصان نہ صرف شعبے بلکہ پوری کمپنی کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔</p>
<p>حل <a href="/trends/3">#3</a>: متوازن تشخیص کا نظام<br>کمپنی کو ایک متوازن پیشہ ورانہ کارکردگی کی جانچ نظام تیار کرنا چاہیے۔ کارکردگی کو وزن دیا جائے، اسی طرح شعبے کی ثقافت اور لوگوں سے رابطے کو بھی اہمیت دی جائے۔ ڈویژن ہیڈز کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائیں، مگر ان کے لوگوں سے تعلقات اور جذباتی صحت خراب ہوں، تو اضافی انعامات کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔</p>
<p>مرحلہ <a href="/trends/4">#4</a>: نظام اور سہولتیں</p>
<p>ملازمین کی فلاح و بہبود ایک اچھا نعرہ ہے، لیکن اس نعرے کو عملی نظام میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ کمپنیاں ہیلتھ انشورنس دیتی ہیں اور اندرونِ ادارہ کوچنگ/کاؤنسلنگ سہولیات فراہم کرتی ہیں، مگر یہ کافی نہیں۔ موجودہ ذہنی مسائل کے پیش نظر صرف کھلی گفتگو کے سیشن کافی نہیں ہیں۔</p>
<p>حل <a href="/trends/4">#4</a>: داخلی نظام اور ماہرین<br>کمپنیوں کو ایسے داخلی نظام بنانے چاہیے جو ذہنی اور جذباتی مدد کے ضرورت مند افراد کی شناخت کریں اور انہیں پیشہ ور ماہر نفسیات اور تھراپسٹ سے منسلک کریں۔ ملازمین کو حوصلہ دیا جائے کہ وہ ان ماہرین سے مدد حاصل کریں۔ سٹریس مینجمنٹ کورسز بھی کارآمد ہیں، لیکن ذہنی اور جذباتی مسائل کے لیے طویل المدتی مداخلت ضروری ہے۔ کورسز کے بعد تھراپسٹ سے مشاورت اس عمل کو زیادہ مؤثر بنائے گی۔</p>
<p>یہ اقدامات بظاہر مہنگے اور پیچیدہ لگ سکتے ہیں، لیکن ان کا موازنہ اس نقصان سے کریں جو برن آؤٹ کے باعث پیدا ہوتا ہے: برن آؤٹ کے شکار ملازمین 63 فیصد زیادہ بیماری کی چھٹیاں لیتے ہیں۔ 13 فیصد کم اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ 2.6 گنا زیادہ امکان ہے کہ وہ نئی ملازمت کی تلاش میں ہوں، جس سے بھرتی اور تربیت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا برن آؤٹ صرف ذاتی ناکامی نہیں، بلکہ ادارے کی ناکامی بھی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ،بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283508</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 17:23:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عندلیب عباس)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/04164431ed0a9e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/04164431ed0a9e2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
