<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کا توانائی بحران پاکستانی برآمدات کو متاثر کر سکتا ہے، اپٹما</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283505/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بدھ کو خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان کے برآمدی اور صنعتی شعبے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں جاری جغرافیائی سیاسی بحران تیل اور ایل این جی کی فراہمی میں خلل ڈال رہا ہے جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ملک کی پاور سیکورٹی خطرے میں پڑگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور دیگر حکومتی وزراء، بشمول وزیرِ توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر حکام کو لکھے گئے ایک خط میں اپٹما نے حکومت پر زور دیا  کہ وہ فوری اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں فیول آئل پر ٹیکس کی معطلی اور مقامی گیس کی پیداوار میں اضافہ شامل ہے تاکہ توانائی کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے اور برآمدی شعبے میں مقابلے کی صلاحیت  کا تحفظ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں لکھا گیا ہم آپ کی فوری توجہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی بحران اور آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں خلل کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں، اس صورتحال کی وجہ سے پاکستان کو تیل اور ایل این جی کی فراہمی محدود ہورہی ہے اور یہ بجلی کے شعبے اور صنعتی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے اس بات کی نشاندہی کی کہ توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ متوقع ہے جب کہ سپلائی کی دستیابی بھی غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے خبردار کیا کہ اس وقت توانائی کے بڑھتے اخراجات برآمدی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو براہِ راست متاثر کریں گے۔ اس سے معیشت پر دہرا اثر پڑے گا: ایک طرف درآمدات کی ڈالر میں قیمت نمایاں طور پر بڑھ جائے گی، تو دوسری طرف برآمدات جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں مزید خطرات سے دوچار ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کا موقف تھا کہ اگر آنے والے ہفتوں میں یہ تنازع مستحکم (کم) بھی ہوجاتا ہے، تب بھی توانائی کی سپلائی چین اور قیمتوں میں تعطل کئی مہینوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فرنس آئل  پر عائد کاربن لیوی اور پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو معطل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے فرنس آئل برآمدی صنعتوں کیلئے اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے کا ایک مالی طور پر قابلِ عمل ذریعہ بن جائے گا۔ بین الاقوامی سپلائی لائنوں میں موجودہ تعطل کے پیشِ نظر مستقبل قریب میں اضافی فرنس آئل کی برآمد کا امکان بھی کم ہے جس سے مقامی مارکیٹ میں اس کی وافر فراہمی یقینی ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بروقت کارروائی کرے تاکہ بیرونی دباؤ کے اس دور میں ملکی برآمدی آمدنی میں مزید کمی کو روکا جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بدھ کو خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان کے برآمدی اور صنعتی شعبے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کررہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں جاری جغرافیائی سیاسی بحران تیل اور ایل این جی کی فراہمی میں خلل ڈال رہا ہے جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ملک کی پاور سیکورٹی خطرے میں پڑگئی ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور دیگر حکومتی وزراء، بشمول وزیرِ توانائی اویس احمد خان لغاری، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر حکام کو لکھے گئے ایک خط میں اپٹما نے حکومت پر زور دیا  کہ وہ فوری اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں فیول آئل پر ٹیکس کی معطلی اور مقامی گیس کی پیداوار میں اضافہ شامل ہے تاکہ توانائی کی دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے اور برآمدی شعبے میں مقابلے کی صلاحیت  کا تحفظ کیا جاسکے۔</p>
<p>خط میں لکھا گیا ہم آپ کی فوری توجہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی بحران اور آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں خلل کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں، اس صورتحال کی وجہ سے پاکستان کو تیل اور ایل این جی کی فراہمی محدود ہورہی ہے اور یہ بجلی کے شعبے اور صنعتی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہی ہے۔</p>
<p>اپٹما نے اس بات کی نشاندہی کی کہ توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ متوقع ہے جب کہ سپلائی کی دستیابی بھی غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔</p>
<p>اپٹما نے خبردار کیا کہ اس وقت توانائی کے بڑھتے اخراجات برآمدی شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو براہِ راست متاثر کریں گے۔ اس سے معیشت پر دہرا اثر پڑے گا: ایک طرف درآمدات کی ڈالر میں قیمت نمایاں طور پر بڑھ جائے گی، تو دوسری طرف برآمدات جو پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں مزید خطرات سے دوچار ہوں گی۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کا موقف تھا کہ اگر آنے والے ہفتوں میں یہ تنازع مستحکم (کم) بھی ہوجاتا ہے، تب بھی توانائی کی سپلائی چین اور قیمتوں میں تعطل کئی مہینوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اپٹما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فرنس آئل  پر عائد کاربن لیوی اور پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو معطل کرے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے فرنس آئل برآمدی صنعتوں کیلئے اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے کا ایک مالی طور پر قابلِ عمل ذریعہ بن جائے گا۔ بین الاقوامی سپلائی لائنوں میں موجودہ تعطل کے پیشِ نظر مستقبل قریب میں اضافی فرنس آئل کی برآمد کا امکان بھی کم ہے جس سے مقامی مارکیٹ میں اس کی وافر فراہمی یقینی ہو جائے گی۔</p>
<p>اپٹما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بروقت کارروائی کرے تاکہ بیرونی دباؤ کے اس دور میں ملکی برآمدی آمدنی میں مزید کمی کو روکا جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283505</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 14:58:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/04142538cd052e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/04142538cd052e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
