<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ موجود، امریکہ کی ٹریول ایڈوائزری جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283504/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردانہ تشدد، بشمول دہشت گردانہ حملوں اور دیگر (شرپسندانہ) سرگرمیوں کا خطرہ موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو ایک ایڈوائزری جاری کی  جس میں کہا گیا  کہ پرتشدد انتہاپسند گروہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، جب کہ اس طرح کے واقعات کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی پیش آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت گرد بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے حملہ کرسکتے ہیں۔ وہ ٹرانسپورٹ کے مراکز (اڈوں)، ہوٹلوں، بازاروں، شاپنگ مالز، فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات، ہوائی اڈوں، ٹرینوں، اسکولوں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 3 مارچ کو محکمہ خارجہ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ہنگامی عملے اور وہاں تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TravelGov/status/2029069100769513850?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TravelGov/status/2029069100769513850?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے اپنے شہریوں کو خیبر پختونخوا، بلوچستان اور لائن آف کنٹرول  کے قریبی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں عسکریت پسند گروپوں کی موجودگی اور سرگرمیاں معروف ہیں۔ مزید برآں کشمیر کے متنازع علاقے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بھارت اور پاکستان کی بڑی فوجی نفری تعینات رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں شہریوں کو بغیر اجازت کسی احتجاجی مظاہرے کے قریب جانے سے بھی خبردار کیا گیا ہے اور انتباہ دیا گیا  کہ ایسی سرگرمیوں میں شرکت پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی یا تفتیش کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت پر امریکی شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی تحریر یا مواد پوسٹ کرنے پر بھی آپ کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جسے پاکستانی حکومت، فوج یا سرکاری حکام کے خلاف تنقید تصور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال غیر مستحکم ہے جو کسی بھی وقت بغیر اطلاع کے تبدیل ہوسکتی ہے اور سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے شہروں میں سیکیورٹی کے وسائل اور انفرااسٹرکچر (ڈھانچہ) بہتر حالت میں موجود ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں ان شہروں میں سیکیورٹی فورسز کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زیادہ تیزی سے جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرائم کے حوالے سے سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے واقعات میں جیب تراشی، بیگ چھیننا اور موبائل فون کی چوری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر کے بیشتر علاقوں میں اپنے شہریوں کی مدد یا انہیں خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے اس کی صلاحیت محدود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں کام کرنے والے امریکی سرکاری اہلکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر علاقوں میں سفر کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان سے خصوصی اجازت نامہ حاصل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایڈوائزری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سفارتی علاقوں  اور قونصل خانوں کے گرد سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں تاکہ روزمرہ کے کاموں میں کسی بھی ممکنہ خلل یا عملے کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ نے پاکستان میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردانہ تشدد، بشمول دہشت گردانہ حملوں اور دیگر (شرپسندانہ) سرگرمیوں کا خطرہ موجود ہے۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو ایک ایڈوائزری جاری کی  جس میں کہا گیا  کہ پرتشدد انتہاپسند گروہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں، جب کہ اس طرح کے واقعات کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی پیش آئے ہیں۔</p>
<p>دہشت گرد بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وارننگ کے حملہ کرسکتے ہیں۔ وہ ٹرانسپورٹ کے مراکز (اڈوں)، ہوٹلوں، بازاروں، شاپنگ مالز، فوجی اور سیکیورٹی فورسز کی تنصیبات، ہوائی اڈوں، ٹرینوں، اسکولوں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بناسکتے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 3 مارچ کو محکمہ خارجہ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث لاہور اور کراچی میں قائم امریکی قونصل خانوں کے غیر ہنگامی عملے اور وہاں تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TravelGov/status/2029069100769513850?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TravelGov/status/2029069100769513850?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکہ نے اپنے شہریوں کو خیبر پختونخوا، بلوچستان اور لائن آف کنٹرول  کے قریبی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں عسکریت پسند گروپوں کی موجودگی اور سرگرمیاں معروف ہیں۔ مزید برآں کشمیر کے متنازع علاقے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بھارت اور پاکستان کی بڑی فوجی نفری تعینات رہتی ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں شہریوں کو بغیر اجازت کسی احتجاجی مظاہرے کے قریب جانے سے بھی خبردار کیا گیا ہے اور انتباہ دیا گیا  کہ ایسی سرگرمیوں میں شرکت پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی یا تفتیش کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت پر امریکی شہریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی تحریر یا مواد پوسٹ کرنے پر بھی آپ کو گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جسے پاکستانی حکومت، فوج یا سرکاری حکام کے خلاف تنقید تصور کیا جائے۔</p>
<p>مزید برآں ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال غیر مستحکم ہے جو کسی بھی وقت بغیر اطلاع کے تبدیل ہوسکتی ہے اور سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>بڑے شہروں میں سیکیورٹی کے وسائل اور انفرااسٹرکچر (ڈھانچہ) بہتر حالت میں موجود ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں ان شہروں میں سیکیورٹی فورسز کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زیادہ تیزی سے جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔</p>
<p>جرائم کے حوالے سے سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے واقعات میں جیب تراشی، بیگ چھیننا اور موبائل فون کی چوری شامل ہیں۔</p>
<p>امریکہ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر کے بیشتر علاقوں میں اپنے شہریوں کی مدد یا انہیں خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے اس کی صلاحیت محدود ہے۔</p>
<p>پاکستان میں کام کرنے والے امریکی سرکاری اہلکاروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر علاقوں میں سفر کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان سے خصوصی اجازت نامہ حاصل کریں۔</p>
<p>یہ ایڈوائزری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سفارتی علاقوں  اور قونصل خانوں کے گرد سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہیں تاکہ روزمرہ کے کاموں میں کسی بھی ممکنہ خلل یا عملے کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کو روکا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283504</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 14:16:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/041403458eaa33f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/041403458eaa33f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
