<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے معاشی میثاق کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283494/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت کی مسلسل سکڑتی ہوئی مالی گنجائش، صوبوں کی اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی، مالی طور پر مضبوط مقامی حکومتوں کی کمی، اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے غیر مساوی افقی تقسیم کے فارمولے نے مل کر ایک ایسا مالیاتی نظام تشکیل دے دیا ہے جو ملک کی بدلتی ہوئی انتظامی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں حال ہی میں منعقد ہونے والے پاکستان گورننس فورم نے جس میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے یکجا ہوئے تھے وفاقی مالیاتی معاہدے  کی ازسرِ نو ترتیب اور اصلاح کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے فورم میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ وفاقی حکومت کو ایک انتہائی نازک مالیاتی صورتحال کا سامنا ہے جہاں اس کے پاس دستیاب ٹیکس ریونیو کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی واپسی میں اور دوسرا چوتھائی حصہ دفاعی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے حکومت دیگر اہم ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے بھاری قرضے لینے پر مجبور ہے اور یہ صورتحال پہلے سے موجود کمر توڑ قرضوں کے بوجھ کو مزید سنگین بنارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 14 ٹریلین  روپے کے ٹیکس اور 5 ٹریلین روپے کے نان ٹیکس ریونیو میں سے، این ایف سی  ایوارڈ کے تحت تقریباً 8.2 ٹریلین  روپے صوبوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں، جس کے بعد وفاق کے پاس صرف 11 ٹریلین روپے باقی بچتے ہیں جبکہ اس کے اخراجات 17.5 ٹریلین روپے کے قریب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرضوں کی ادائیگی، دفاع اور غیر ترقیاتی اخراجات (جیسے تنخواہیں اور پنشن) پورے کرنے کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے مالیاتی معاملات چلانے کے بعد ہی وفاق اپنی توجہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی تحفظ کی اسکیموں پر مرکوز کر پاتا ہے۔ یہ اسکیمیں نہ صرف وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کیلئے ہوتی ہیں بلکہ کئی صورتوں میں صوبوں کے لیے بھی شروع کی جاتی ہیں، حالانکہ 18ویں ترمیم کے تحت سماجی شعبے کے وظائف صوبوں کو منتقل کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں صوبوں کی اپنے طور پر خاطر خواہ آمدن پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی جو جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے نے انہیں مکمل طور پر وفاقی منتقلیوں پر منحصر کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس دائرے سے باہر یا کم ٹیکس دینے والے طبقات پر ٹیکس لگانے کیلئے سیاسی عزم کی کمی، جڑی ہوئی نااہلیوں، مقامی حکومتوں کو فنڈز کی عدم فراہمی اور عوامی فنڈز کے کثرت سے بے دریغ استعمال نے ان وفاقی منتقلیوں کے اثرات کو زائل کردیا جس کے نتیجے میں نچلی سطح پر اشد ضروری ترقیاتی اور سماجی اخراجات کا ہدف بڑے پیمانے پر ادھورا رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سسٹم کی ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے احسن اقبال نے فنکشنل فنانشل پروونشل کمیشنز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا  جو ضلع کی سطح پر ہر صوبے کے وسائل مختص کریں گے تاکہ پسماندہ علاقوں میں سماجی شعبے کی ترجیحات اور غربت کو نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل 140-اے صوبوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کریں لیکن یہ اس کے لیے کوئی فارمولا یا قانونی طور پر پابند فریم ورک فراہم نہیں کرتا جس کی وجہ سے صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر ایک مؤثر اور بااختیار گورننس کا ڈھانچہ قائم کرنے کے اہم کام کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے کمیشنز کا قیام، قانونی طور پر ایک مالیاتی طور پر بااختیار مقامی حکومتی نظام کی تشکیل کو لازمی قرار دے سکتا ہے، صوبائی فنڈز کے زیادہ حکمتِ عملی پر مبنی اور مؤثر استعمال کو یقینی بنا سکتا ہے، وفاق کو سماجی شعبے پر براہِ راست اخراجات کے بوجھ سے آزاد کر سکتا ہے اور صوبائی و مقامی حکومتوں دونوں کو آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس طرح کی تجاویز کو اکثر صوبوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ انہیں صوبائی خود مختاری یا ان کے دائرہ اختیار میں مداخلت تصور کیا جاتا ہے لیکن اگر یہ کمیشن اس طرح قائم کیے جائیں کہ ان کی تشکیل اور وسائل کی تقسیم کے فارمولوں پر صوبوں کا مکمل کنٹرول ہو اور تمام وسائل ایک جمہوری اور جوابدہ فریم ورک کے تحت مقامی سطح پر ہی خرچ کیے جائیں، تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ پھر ان اعتراضات کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاق کے مالیاتی معاہدے میں ایک اور سنگین خامی، جس کی اس کالم میں بارہا نشاندہی کی گئی ہے، این ایف سی  ایوارڈ کے فارمولے میں آبادی کو دی جانے والی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس فارمولے میں آبادی کو 82 فیصد اہمیت  دی گئی جبکہ غربت، ریونیو کی پیداوار اور آبادی کی معکوس کثافت  کو برائے نام اہمیت حاصل ہے۔ اس جھکاؤ نے صوبوں کو آبادی پر قابو پانے کی ترغیب دینے کے بجائے حوصلہ شکنی کی ہے اور یہاں تک کہ فارمولے میں غربت پر دی گئی معمولی توجہ بھی الٹا غربت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے سنجیدہ اقدامات کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ حل بالکل واضح ہے: اس  فارمولے کی ایک جامع اور بنیادی تبدیلی جس میں آبادی کے اثر کو بڑے پیمانے پر کم کیا جائے اور اس کے بجائے غربت کے خاتمے، انسانی ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور آبادی کے استحکام جیسے عوامل کو اس کی بنیاد بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی اصلاحات کے بغیر تمام وفاقی اکائیاں ایک غیر متوازن مالیاتی ڈھانچے میں پھنسی رہیں گی جو نااہلی، عدم مساوات اور قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو مسلسل جنم دیتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت کی مسلسل سکڑتی ہوئی مالی گنجائش، صوبوں کی اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی، مالی طور پر مضبوط مقامی حکومتوں کی کمی، اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے غیر مساوی افقی تقسیم کے فارمولے نے مل کر ایک ایسا مالیاتی نظام تشکیل دے دیا ہے جو ملک کی بدلتی ہوئی انتظامی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہا۔</strong></p>
<p>اس پس منظر میں حال ہی میں منعقد ہونے والے پاکستان گورننس فورم نے جس میں وفاق اور صوبائی حکومتوں کے نمائندے یکجا ہوئے تھے وفاقی مالیاتی معاہدے  کی ازسرِ نو ترتیب اور اصلاح کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>جیسا کہ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے فورم میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ وفاقی حکومت کو ایک انتہائی نازک مالیاتی صورتحال کا سامنا ہے جہاں اس کے پاس دستیاب ٹیکس ریونیو کا تقریباً نصف حصہ قرضوں کی واپسی میں اور دوسرا چوتھائی حصہ دفاعی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے حکومت دیگر اہم ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے بھاری قرضے لینے پر مجبور ہے اور یہ صورتحال پہلے سے موجود کمر توڑ قرضوں کے بوجھ کو مزید سنگین بنارہی ہے۔</p>
<p>تقریباً 14 ٹریلین  روپے کے ٹیکس اور 5 ٹریلین روپے کے نان ٹیکس ریونیو میں سے، این ایف سی  ایوارڈ کے تحت تقریباً 8.2 ٹریلین  روپے صوبوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں، جس کے بعد وفاق کے پاس صرف 11 ٹریلین روپے باقی بچتے ہیں جبکہ اس کے اخراجات 17.5 ٹریلین روپے کے قریب ہیں۔</p>
<p>قرضوں کی ادائیگی، دفاع اور غیر ترقیاتی اخراجات (جیسے تنخواہیں اور پنشن) پورے کرنے کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے مالیاتی معاملات چلانے کے بعد ہی وفاق اپنی توجہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی تحفظ کی اسکیموں پر مرکوز کر پاتا ہے۔ یہ اسکیمیں نہ صرف وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کیلئے ہوتی ہیں بلکہ کئی صورتوں میں صوبوں کے لیے بھی شروع کی جاتی ہیں، حالانکہ 18ویں ترمیم کے تحت سماجی شعبے کے وظائف صوبوں کو منتقل کیے جاچکے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں صوبوں کی اپنے طور پر خاطر خواہ آمدن پیدا کرنے میں مسلسل ناکامی جو جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم ہے نے انہیں مکمل طور پر وفاقی منتقلیوں پر منحصر کردیا ہے۔</p>
<p>ٹیکس دائرے سے باہر یا کم ٹیکس دینے والے طبقات پر ٹیکس لگانے کیلئے سیاسی عزم کی کمی، جڑی ہوئی نااہلیوں، مقامی حکومتوں کو فنڈز کی عدم فراہمی اور عوامی فنڈز کے کثرت سے بے دریغ استعمال نے ان وفاقی منتقلیوں کے اثرات کو زائل کردیا جس کے نتیجے میں نچلی سطح پر اشد ضروری ترقیاتی اور سماجی اخراجات کا ہدف بڑے پیمانے پر ادھورا رہ گیا ہے۔</p>
<p>سسٹم کی ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے احسن اقبال نے فنکشنل فنانشل پروونشل کمیشنز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا  جو ضلع کی سطح پر ہر صوبے کے وسائل مختص کریں گے تاکہ پسماندہ علاقوں میں سماجی شعبے کی ترجیحات اور غربت کو نشانہ بنایا جا سکے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آرٹیکل 140-اے صوبوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کریں لیکن یہ اس کے لیے کوئی فارمولا یا قانونی طور پر پابند فریم ورک فراہم نہیں کرتا جس کی وجہ سے صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر ایک مؤثر اور بااختیار گورننس کا ڈھانچہ قائم کرنے کے اہم کام کو نظر انداز کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ایسے کمیشنز کا قیام، قانونی طور پر ایک مالیاتی طور پر بااختیار مقامی حکومتی نظام کی تشکیل کو لازمی قرار دے سکتا ہے، صوبائی فنڈز کے زیادہ حکمتِ عملی پر مبنی اور مؤثر استعمال کو یقینی بنا سکتا ہے، وفاق کو سماجی شعبے پر براہِ راست اخراجات کے بوجھ سے آزاد کر سکتا ہے اور صوبائی و مقامی حکومتوں دونوں کو آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم اس طرح کی تجاویز کو اکثر صوبوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ انہیں صوبائی خود مختاری یا ان کے دائرہ اختیار میں مداخلت تصور کیا جاتا ہے لیکن اگر یہ کمیشن اس طرح قائم کیے جائیں کہ ان کی تشکیل اور وسائل کی تقسیم کے فارمولوں پر صوبوں کا مکمل کنٹرول ہو اور تمام وسائل ایک جمہوری اور جوابدہ فریم ورک کے تحت مقامی سطح پر ہی خرچ کیے جائیں، تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ پھر ان اعتراضات کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔</p>
<p>وفاق کے مالیاتی معاہدے میں ایک اور سنگین خامی، جس کی اس کالم میں بارہا نشاندہی کی گئی ہے، این ایف سی  ایوارڈ کے فارمولے میں آبادی کو دی جانے والی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس فارمولے میں آبادی کو 82 فیصد اہمیت  دی گئی جبکہ غربت، ریونیو کی پیداوار اور آبادی کی معکوس کثافت  کو برائے نام اہمیت حاصل ہے۔ اس جھکاؤ نے صوبوں کو آبادی پر قابو پانے کی ترغیب دینے کے بجائے حوصلہ شکنی کی ہے اور یہاں تک کہ فارمولے میں غربت پر دی گئی معمولی توجہ بھی الٹا غربت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے سنجیدہ اقدامات کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p>چنانچہ حل بالکل واضح ہے: اس  فارمولے کی ایک جامع اور بنیادی تبدیلی جس میں آبادی کے اثر کو بڑے پیمانے پر کم کیا جائے اور اس کے بجائے غربت کے خاتمے، انسانی ترقی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور آبادی کے استحکام جیسے عوامل کو اس کی بنیاد بنایا جائے۔</p>
<p>ایسی اصلاحات کے بغیر تمام وفاقی اکائیاں ایک غیر متوازن مالیاتی ڈھانچے میں پھنسی رہیں گی جو نااہلی، عدم مساوات اور قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو مسلسل جنم دیتا رہے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283494</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 11:43:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0411140318a81a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0411140318a81a1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
