<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:37:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اسمبلی نے ورچوئل ایسٹس بل منظور کرلیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283491/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی اسمبلی نے منگل کو ورچوئل ایسٹس بل، 2026 پاس کر دیا، جس کا مقصد ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینا، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ایک اتھارٹی قائم کرنا، جدت کو فروغ دینا اور ورچوئل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں شفافیت بڑھانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی بل اس وقت منظور کیا گیا کہ جب ہاؤس میں شیڈولڈ بزنس برائے پرائیویٹ ممبرز ڈے معطل کر دیا گیا۔ یہ بل پہلے ہی سینیٹ سے 27 فروری 2026 کو منظور ہو چکا تھا اور پھر قومی اسمبلی کو بھیجا گیا تھا۔ اب یہ بل صدر پاکستان کی توثیق کے لیے بھیجا جائے گا، اور صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون کا درجہ اختیار کر لے گا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے بل پیش کیا اور اکثریتی ووٹ سے منظور ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون کے تحت ایک اتھارٹی قائم کی جائے گی جو ورچوئل اثاثہ جات اور سروس پرووائیڈرز کے لائسنس، ریگولیشن اور نگرانی کے ذمہ دار ہوگی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بل کے کلاؤز 6 کے مطابق، اس قانون کے نفاذ کے بعد پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی جو اس قانون کے مقاصد پورے کرے گی۔ کلاؤز 7 کے مطابق اتھارٹی کے اراکین میں چیئرپرسن، وزارت خزانہ کے سیکرٹری، وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری، اسٹیٹ بینک کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرپرسن، نیشنل اے ایم ایل-سی ایف ٹی اتھارٹی کے چیئرپرسن، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن، اور دو آزاد ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی اپنی پالیسی، حکمت عملی، بجٹ اور قواعد خود طے کرے گی۔ بل کے مقصد کے بیان کے مطابق، اس اتھارٹی کے قیام سے محفوظ تجارتی ماحول پیدا ہوگا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ہوگی، عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، اور شریعت کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی اسمبلی نے منگل کو ورچوئل ایسٹس بل، 2026 پاس کر دیا، جس کا مقصد ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینا، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ایک اتھارٹی قائم کرنا، جدت کو فروغ دینا اور ورچوئل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں شفافیت بڑھانا ہے۔</strong></p>
<p>حکومتی بل اس وقت منظور کیا گیا کہ جب ہاؤس میں شیڈولڈ بزنس برائے پرائیویٹ ممبرز ڈے معطل کر دیا گیا۔ یہ بل پہلے ہی سینیٹ سے 27 فروری 2026 کو منظور ہو چکا تھا اور پھر قومی اسمبلی کو بھیجا گیا تھا۔ اب یہ بل صدر پاکستان کی توثیق کے لیے بھیجا جائے گا، اور صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون کا درجہ اختیار کر لے گا۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے بل پیش کیا اور اکثریتی ووٹ سے منظور ہو گیا۔</p>
<p>اس قانون کے تحت ایک اتھارٹی قائم کی جائے گی جو ورچوئل اثاثہ جات اور سروس پرووائیڈرز کے لائسنس، ریگولیشن اور نگرانی کے ذمہ دار ہوگی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>بل کے کلاؤز 6 کے مطابق، اس قانون کے نفاذ کے بعد پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی جو اس قانون کے مقاصد پورے کرے گی۔ کلاؤز 7 کے مطابق اتھارٹی کے اراکین میں چیئرپرسن، وزارت خزانہ کے سیکرٹری، وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری، اسٹیٹ بینک کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرپرسن، نیشنل اے ایم ایل-سی ایف ٹی اتھارٹی کے چیئرپرسن، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن، اور دو آزاد ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔</p>
<p>اتھارٹی اپنی پالیسی، حکمت عملی، بجٹ اور قواعد خود طے کرے گی۔ بل کے مقصد کے بیان کے مطابق، اس اتھارٹی کے قیام سے محفوظ تجارتی ماحول پیدا ہوگا، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ہوگی، عالمی مسابقت میں اضافہ ہوگا، اور شریعت کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283491</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 10:59:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/04105630d613687.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/04105630d613687.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
