<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، انڈیکس میں 1,300 سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283488/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 1300 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا جہاں فوری فروخت کے دباؤ کے باعث 100 انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 154,790.73 پوائنٹس پر دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس نے زبردست کم بیک کیا جس سے 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 157,962.47 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے آغاز تک فروخت کا دباؤ دوبارہ شروع ہو گیا جس نے بینچ مارک انڈیکس کو مزید نیچے گرادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,354.88 پوائنٹس یا 0.86 فیصد کی کمی سے 155,777.21 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث مجموعی طور پر مارکیٹ کے تاثرات  کمزور رہے جس نے عالمی سطح پر خطرہ مول لینے کی سکت کو کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس نے بتایا کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ نے ایشیائی علاقائی مارکیٹوں کے نقشِ قدم پر عمل کیا جہاں زیادہ تر مندی کا رجحان رہا، جو کہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری سے اجتناب کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن  سیکٹر کی کارکردگی مجموعی مارکیٹ سے بہتر رہی، کیونکہ جاری تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس نے توانائی کے شعبے کے شیئرز کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کے بھاری بھرکم حصص بشمول اینگرو، یو بی ایل ، این بی پی، ایچ بی ایل اور لکی سیمنٹ آج مارکیٹ کو نیچے گرانے والے نمایاں عوامل  ثابت ہوئے۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس میں 891 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست اور اعتماد بحال کرنے والا ری باؤنڈ دیکھنے میں آیا جہاں اہم شعبوں میں جارحانہ ویلیو بائنگ کے باعث مارکیٹ نے گزشتہ سیشن کی تاریخی مندی سے نمایاں بحالی حاصل کی جس سے سرمایہ کاروں کے رجحان میں خوف سے مواقع کی جانب واضح تبدیلی کا اشارہ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 5,159.10 پوائنٹس یا 3.39 فیصد اضافے سے 157,132.10 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم  گزشتہ سیشن کے 770.69 ملین سے کم ہو کر 622.69 ملین حصص رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 44.36 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 29.95 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونٹی فوڈز لمیٹڈ  117.21 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا جس کے بعد کے-الیکٹرک لمیٹڈ 64.94 ملین حصص اور ٹرسٹ سیکیورٹیز اینڈ بروکریج (رائٹ شیئرز) 56.76 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 201 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 213 میں کمی اور 65 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0414200401fc61c.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0414200401fc61c.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی جہاں سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ وسیع جنگ کے خدشات کے باعث سونے اور چِپ ساز کمپنیوں میں اپنی بڑی سرمایہ کاری کم کرنا شروع کر دی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ توانائی کے ممکنہ بحران سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور شرح سود میں کمی مؤخر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیول اسٹاک مارکیٹ میں حصص تقریباً 4 فیصد گرگئے جس کے نتیجے میں دو روزہ مجموعی نقصان 11 فیصد سے تجاوز کرگیا کیونکہ تیز رفتار سرمایہ کاروں اور غیر ملکی فنڈز نے اس مارکیٹ سے سرمایہ نکال لیا جو میموری چِپ بنانے والی کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع کے باعث تیزی سے اوپر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز میں فروخت کے دباؤ کے باعث جنوبی کوریا کی کرنسی وون 17 سال کی کم ترین سطح تک گرگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی انڈیکس مسلسل تیسرے کاروباری سیشن میں 2.5 فیصد کمی کے ساتھ نیچے آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان اور جنوبی کوریا توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک شمار ہوتے ہیں، اس لیے توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ ان کی معیشتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمتیں ہفتے کے دوران 12 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 81.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں تاہم قیمتوں میں کچھ کمی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی بحری راستوں کیلئے انشورنس گارنٹی دینے کا حکم دیا اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیلی افواج گزشتہ چار روز سے ایران پر شدید حملے کر رہی ہیں جبکہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے خلیجی تیل ریفائنریوں سمیت سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ میں ابتدائی شدید مندی کے بعد کچھ بہتری آئی، تاہم ممکنہ طور پر طویل عرصے تک بلند تیل قیمتوں کے خدشات کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.8 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو ایک بار پھر شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 1300 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا جہاں فوری فروخت کے دباؤ کے باعث 100 انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 154,790.73 پوائنٹس پر دھکیل دیا۔</p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس نے زبردست کم بیک کیا جس سے 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 157,962.47 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>دوپہر کے آغاز تک فروخت کا دباؤ دوبارہ شروع ہو گیا جس نے بینچ مارک انڈیکس کو مزید نیچے گرادیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,354.88 پوائنٹس یا 0.86 فیصد کی کمی سے 155,777.21 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے ایک نوٹ میں کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث مجموعی طور پر مارکیٹ کے تاثرات  کمزور رہے جس نے عالمی سطح پر خطرہ مول لینے کی سکت کو کم کر دیا ہے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس نے بتایا کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ نے ایشیائی علاقائی مارکیٹوں کے نقشِ قدم پر عمل کیا جہاں زیادہ تر مندی کا رجحان رہا، جو کہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری سے اجتناب کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن  سیکٹر کی کارکردگی مجموعی مارکیٹ سے بہتر رہی، کیونکہ جاری تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس نے توانائی کے شعبے کے شیئرز کو سہارا دیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کے بھاری بھرکم حصص بشمول اینگرو، یو بی ایل ، این بی پی، ایچ بی ایل اور لکی سیمنٹ آج مارکیٹ کو نیچے گرانے والے نمایاں عوامل  ثابت ہوئے۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر کاروباری سیشن کے دوران انڈیکس میں 891 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست اور اعتماد بحال کرنے والا ری باؤنڈ دیکھنے میں آیا جہاں اہم شعبوں میں جارحانہ ویلیو بائنگ کے باعث مارکیٹ نے گزشتہ سیشن کی تاریخی مندی سے نمایاں بحالی حاصل کی جس سے سرمایہ کاروں کے رجحان میں خوف سے مواقع کی جانب واضح تبدیلی کا اشارہ ملا۔</p>
<p>منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 5,159.10 پوائنٹس یا 3.39 فیصد اضافے سے 157,132.10 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بدھ کو آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم  گزشتہ سیشن کے 770.69 ملین سے کم ہو کر 622.69 ملین حصص رہ گیا۔</p>
<p>اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 44.36 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 29.95 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>یونٹی فوڈز لمیٹڈ  117.21 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا جس کے بعد کے-الیکٹرک لمیٹڈ 64.94 ملین حصص اور ٹرسٹ سیکیورٹیز اینڈ بروکریج (رائٹ شیئرز) 56.76 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 201 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 213 میں کمی اور 65 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0414200401fc61c.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0414200401fc61c.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھی گئی جہاں سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ وسیع جنگ کے خدشات کے باعث سونے اور چِپ ساز کمپنیوں میں اپنی بڑی سرمایہ کاری کم کرنا شروع کر دی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ توانائی کے ممکنہ بحران سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور شرح سود میں کمی مؤخر ہوسکتی ہے۔</p>
<p>سیول اسٹاک مارکیٹ میں حصص تقریباً 4 فیصد گرگئے جس کے نتیجے میں دو روزہ مجموعی نقصان 11 فیصد سے تجاوز کرگیا کیونکہ تیز رفتار سرمایہ کاروں اور غیر ملکی فنڈز نے اس مارکیٹ سے سرمایہ نکال لیا جو میموری چِپ بنانے والی کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے غیر معمولی منافع کے باعث تیزی سے اوپر گئی تھی۔</p>
<p>شیئرز میں فروخت کے دباؤ کے باعث جنوبی کوریا کی کرنسی وون 17 سال کی کم ترین سطح تک گرگئی۔</p>
<p>جاپان کا نکئی انڈیکس مسلسل تیسرے کاروباری سیشن میں 2.5 فیصد کمی کے ساتھ نیچے آگیا۔</p>
<p>جاپان اور جنوبی کوریا توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک شمار ہوتے ہیں، اس لیے توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ ان کی معیشتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔</p>
<p>بینچ مارک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمتیں ہفتے کے دوران 12 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 81.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں تاہم قیمتوں میں کچھ کمی اس وقت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی بحری راستوں کیلئے انشورنس گارنٹی دینے کا حکم دیا اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیلی افواج گزشتہ چار روز سے ایران پر شدید حملے کر رہی ہیں جبکہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے خلیجی تیل ریفائنریوں سمیت سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ میں ابتدائی شدید مندی کے بعد کچھ بہتری آئی، تاہم ممکنہ طور پر طویل عرصے تک بلند تیل قیمتوں کے خدشات کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.8 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283488</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Mar 2026 15:14:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/04101801384cd01.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/04101801384cd01.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
