<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ٹیک مارکیٹ کے لیے نیا ‘ریڈ فلیگ’ بن گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283474/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ مشرقِ وسطیٰ میں انفراسٹرکچر، خصوصاً  اے آئی کو چلانے کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے لیے ”ریڈ فلیگ“ بن جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع پیر کی صبح بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس( ایم ڈبلیو سی) ٹیلی کام تجارتی میلے کے آغاز کے ساتھ ہی نمایاں ہو گیا، جہاں ممکنہ شرکا کو سفر میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ماہرین اس کے اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا فرم انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) کے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی مارکیٹس کے ماہر فرانسسکو جیرونیمو کے مطابق اس ہفتے کے اختتام تک مشرقِ وسطیٰ ” بڑی سرمایہ کاری کر رہا تھا اور اس بات کو یقینی بنا رہا تھا کہ بڑے کھلاڑی وہاں ٹیک انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں دلچسپی لیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ جنگ ”متعدد وینڈرز کے لیے ریڈ فلیگ بن جائے گی کیونکہ (صورتحال) انتہائی غیر مستحکم ہو گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسسکو جیرونیمو نے کہا کہ اگر لڑائی طویل ہوئی تو بڑے سرمایہ کار ” اس بات پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں کہ آیا وہ سرمایہ کاری جاری رکھیں گے یا نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ تنازع پہلے ہی دنیا کے بڑے حصوں میں اسمارٹ فونز اور دیگر گیجٹس کی ترسیل کو بری طرح متاثر کرنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ٹیکس فری زونز کی بدولت دبئی خطے کے ساتھ ساتھ مغربی یورپ کے لیے بھی لاجسٹکس کا ایک نہایت اہم مرکز رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین اینڈ کمپنی کی تجزیہ کار این ہوئکر نے کہا کہ ”جب بھی عالمی تجارت میں خلل آتا ہے تو ویلیو چین لازمی طور پر متاثر ہوتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس کے ممکنہ اثرات ایک ایسی ٹیک مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈالیں گے جو پہلے ہی میموری (آر اے ایم ) چپس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جسے بڑے اے آئی ڈیولپرز کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نے ہوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”میموری کی کمی اس وقت سپلائی چینز کو واضح طور پر متاثر کر رہی ہے اور اس کا اثر فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز پر پڑے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم میموری چپس کی قیمتیں 2025 کی آخری سہ ماہی میں 40 فیصد تک بڑھ گئیں اور رواں سال مزید اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض بڑی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں، جیسے سام سنگ، پہلے ہی اس اضافی لاگت کا بوجھ صارفین تک منتقل کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیرونیمو نے پیش گوئی کی کہ اس کے نتیجے میں 2026 میں ” اسمارٹ فون فروخت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی“ دیکھنے میں آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ مشرقِ وسطیٰ میں انفراسٹرکچر، خصوصاً  اے آئی کو چلانے کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے لیے ”ریڈ فلیگ“ بن جائے گی۔</strong></p>
<p>یہ تنازع پیر کی صبح بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس( ایم ڈبلیو سی) ٹیلی کام تجارتی میلے کے آغاز کے ساتھ ہی نمایاں ہو گیا، جہاں ممکنہ شرکا کو سفر میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ماہرین اس کے اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔</p>
<p>ڈیٹا فرم انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) کے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی مارکیٹس کے ماہر فرانسسکو جیرونیمو کے مطابق اس ہفتے کے اختتام تک مشرقِ وسطیٰ ” بڑی سرمایہ کاری کر رہا تھا اور اس بات کو یقینی بنا رہا تھا کہ بڑے کھلاڑی وہاں ٹیک انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں دلچسپی لیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ جنگ ”متعدد وینڈرز کے لیے ریڈ فلیگ بن جائے گی کیونکہ (صورتحال) انتہائی غیر مستحکم ہو گئی ہے۔“</p>
<p>فرانسسکو جیرونیمو نے کہا کہ اگر لڑائی طویل ہوئی تو بڑے سرمایہ کار ” اس بات پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں کہ آیا وہ سرمایہ کاری جاری رکھیں گے یا نہیں۔“</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ تنازع پہلے ہی دنیا کے بڑے حصوں میں اسمارٹ فونز اور دیگر گیجٹس کی ترسیل کو بری طرح متاثر کرنے والا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق ٹیکس فری زونز کی بدولت دبئی خطے کے ساتھ ساتھ مغربی یورپ کے لیے بھی لاجسٹکس کا ایک نہایت اہم مرکز رہا ہے۔</p>
<p>بین اینڈ کمپنی کی تجزیہ کار این ہوئکر نے کہا کہ ”جب بھی عالمی تجارت میں خلل آتا ہے تو ویلیو چین لازمی طور پر متاثر ہوتی ہے۔“</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس کے ممکنہ اثرات ایک ایسی ٹیک مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈالیں گے جو پہلے ہی میموری (آر اے ایم ) چپس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جسے بڑے اے آئی ڈیولپرز کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نے ہوا دی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”میموری کی کمی اس وقت سپلائی چینز کو واضح طور پر متاثر کر رہی ہے اور اس کا اثر فونز اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز پر پڑے گا۔“</p>
<p>اہم میموری چپس کی قیمتیں 2025 کی آخری سہ ماہی میں 40 فیصد تک بڑھ گئیں اور رواں سال مزید اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>بعض بڑی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں، جیسے سام سنگ، پہلے ہی اس اضافی لاگت کا بوجھ صارفین تک منتقل کر رہی ہیں۔</p>
<p>جیرونیمو نے پیش گوئی کی کہ اس کے نتیجے میں 2026 میں ” اسمارٹ فون فروخت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی“ دیکھنے میں آ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283474</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 22:31:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/032218381fe699a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/032218381fe699a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
