<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر مسلط جنگ چوتھے روز میں داخل، دھوئیں اور خون کے سائے میں بازار گر گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283470/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تہران اور بیروت میں منگل کے روز زوردار دھماکوں کی گونج سنائی دی، اور دنیا بھر کے مالیاتی بازار اس خدشے سے لڑکھڑا گئے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فضائی جنگ عالمی توانائی کی فراہمی میں طویل خلل پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دن قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ کے دورانیے کے بارے میں غیر معینہ جوابات دیے تھے، اس دوران ایک ماہر نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کی مہم اصل منصوبے کے مطابق دو ہفتے تک جاری رہنے والی تھی لیکن یہ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع، جو اسرائیل کی جنگی حکمت عملی سے واقف ہیں، کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد ایران کے حکمرانوں کا تختہ الٹنا ہے، اور اسے مکمل کرنے کے لیے کوئی قطعی آخری وقت مقرر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی ہدف فہرست پر منصوبے سے زیادہ تیزی سے کام کر رہی ہے، ابتدائی کامیابیوں میں ایران کے رہنماؤں کی شہادت اور دفاعی نظام کی تباہی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اسرائیل اپنی مہم کو اس خوف کے باعث بھی تیز کر رہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے زندہ بچ جانے والے رہنماؤں کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ سکتا ہے، جس سے اسرائیل کے مقاصد مکمل ہونے سے پہلے جنگ رک جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں اسرائیل نے ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ بمباری کے دوران شہری سڑکوں پر اکٹھے ہو کر شہروں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران سے فون پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے 32 سالہ بینک ملازم بیجان نے کہا کہ ”یہ کب تک جاری رہے گا؟ پناہ گاہیں کہاں ہیں؟ حکومت کہاں ہے؟“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”ہر رات میری بیوی اور میں تہہ خانے میں چھپ جاتے ہیں۔ پورا شہر خالی ہے۔ ہر طرف دھواں اور خون بکھرا ہوا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر اثرات بھی شدید ہیں: خام تیل کی قیمت میں ایک رات کے دوران تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپ کا اسٹاک انڈیکس 600 ابتدائی تجارت میں 3 فیصد گر گیا، جو پیر کے 1.7 فیصد نقصان کے بعد ہے۔ امریکہ میں اسٹاک فیوچرز میں 2 فیصد کمی سے اشارہ ملتا ہے کہ وال اسٹریٹ میں بھی بیچنے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ نے اپنے اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے نکالنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اور اسرائیلی مہم کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای شہید ہوئے، جو ممکنہ طور پر فضائی حملے سے کسی قومی رہنما کی تاریخ میں قتل کی پہلی واردات ہے۔ اگر یہ مہم زمینی فوج کے بغیر فضائی طاقت کے ذریعے ایران کے حکومتی نظام کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو یہ بھی تاریخ میں پہلا واقعہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس جنگ کو بلا اشتعال حملہ قرار دیا ہے اور جواب میں پڑوسی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو بھی محدود کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کا پانچویں حصہ اور بڑی مقدار میں گیس گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر سے جنگ لبنان تک پھیل گئی ہے، جہاں ایران کے حلیف حزب اللہ نے اسرائیل پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملے کیے اور جنوب میں زمینی مقامات پر اپنی نفری بڑھا دی۔ بیروت میں دھواں سا گھرا ہوا تھا اور دھماکوں کی گونج فضا میں سنائی دے رہی تھی۔ حکام کے مطابق وہاں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے غیر ضروری حکومتی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عراق اور اردن سے فوری طور پر نکلنے کا حکم دے دیا۔ ایران کے ڈرون حملوں سے متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارتی مشنز بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تہران اور بیروت میں منگل کے روز زوردار دھماکوں کی گونج سنائی دی، اور دنیا بھر کے مالیاتی بازار اس خدشے سے لڑکھڑا گئے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فضائی جنگ عالمی توانائی کی فراہمی میں طویل خلل پیدا کر سکتی ہے۔</strong></p>
<p>ایک دن قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ کے دورانیے کے بارے میں غیر معینہ جوابات دیے تھے، اس دوران ایک ماہر نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کی مہم اصل منصوبے کے مطابق دو ہفتے تک جاری رہنے والی تھی لیکن یہ توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ذرائع، جو اسرائیل کی جنگی حکمت عملی سے واقف ہیں، کا کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد ایران کے حکمرانوں کا تختہ الٹنا ہے، اور اسے مکمل کرنے کے لیے کوئی قطعی آخری وقت مقرر نہیں۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج اپنی ہدف فہرست پر منصوبے سے زیادہ تیزی سے کام کر رہی ہے، ابتدائی کامیابیوں میں ایران کے رہنماؤں کی شہادت اور دفاعی نظام کی تباہی شامل ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اسرائیل اپنی مہم کو اس خوف کے باعث بھی تیز کر رہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے زندہ بچ جانے والے رہنماؤں کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ سکتا ہے، جس سے اسرائیل کے مقاصد مکمل ہونے سے پہلے جنگ رک جائے۔</p>
<p>ایران میں اسرائیل نے ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ بمباری کے دوران شہری سڑکوں پر اکٹھے ہو کر شہروں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>تہران سے فون پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے 32 سالہ بینک ملازم بیجان نے کہا کہ ”یہ کب تک جاری رہے گا؟ پناہ گاہیں کہاں ہیں؟ حکومت کہاں ہے؟“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”ہر رات میری بیوی اور میں تہہ خانے میں چھپ جاتے ہیں۔ پورا شہر خالی ہے۔ ہر طرف دھواں اور خون بکھرا ہوا ہے۔“</p>
<p>عالمی سطح پر اثرات بھی شدید ہیں: خام تیل کی قیمت میں ایک رات کے دوران تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپ کا اسٹاک انڈیکس 600 ابتدائی تجارت میں 3 فیصد گر گیا، جو پیر کے 1.7 فیصد نقصان کے بعد ہے۔ امریکہ میں اسٹاک فیوچرز میں 2 فیصد کمی سے اشارہ ملتا ہے کہ وال اسٹریٹ میں بھی بیچنے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔</p>
<p><strong>امریکہ نے اپنے اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے نکالنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں</strong></p>
<p>امریکی اور اسرائیلی مہم کے پہلے دن ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای شہید ہوئے، جو ممکنہ طور پر فضائی حملے سے کسی قومی رہنما کی تاریخ میں قتل کی پہلی واردات ہے۔ اگر یہ مہم زمینی فوج کے بغیر فضائی طاقت کے ذریعے ایران کے حکومتی نظام کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو یہ بھی تاریخ میں پہلا واقعہ ہوگا۔</p>
<p>ایران نے اس جنگ کو بلا اشتعال حملہ قرار دیا ہے اور جواب میں پڑوسی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو بھی محدود کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کا پانچویں حصہ اور بڑی مقدار میں گیس گزرتی ہے۔</p>
<p>پیر سے جنگ لبنان تک پھیل گئی ہے، جہاں ایران کے حلیف حزب اللہ نے اسرائیل پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملے کیے اور جنوب میں زمینی مقامات پر اپنی نفری بڑھا دی۔ بیروت میں دھواں سا گھرا ہوا تھا اور دھماکوں کی گونج فضا میں سنائی دے رہی تھی۔ حکام کے مطابق وہاں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>امریکہ نے غیر ضروری حکومتی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عراق اور اردن سے فوری طور پر نکلنے کا حکم دے دیا۔ ایران کے ڈرون حملوں سے متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارتی مشنز بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283470</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 19:31:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/03182926eb2d4f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/03182926eb2d4f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
