<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی ترسیل اور ذخائر کو بچانے کیلئے ہنگامی پلان نافذ کیا جائے، میاں زاہد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283454/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ خطے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے فوجی تنازع کے پیشِ نظر توانائی کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور ضروری تیل کی درآمدات کے لیے اسٹریٹجک ہیجنگ (حفاظتی اقدامات) جیسے جامع ہنگامی منصوبوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے فوجی تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے خبردار کیا کہ یہ بڑھتی ہوئی جنگ پورے خطے اور پاکستان کے لیے سنگین اقتصادی اور سلامتی کے مضمرات کی حامل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہفتے کی صبح شدید فوجی حملوں، ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور اس کے بعد ایران کی طرف سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر جوابی میزائل حملوں نے مشرق وسطی کو ایک انتہائی خطرناک اور غیر مستحکم حالت میں دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت جو ایک نازک میکرو اکنامک بحالی سے گزر رہی ہے، اس کے لیے خطرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ جنگ کے نتیجے میں ایرانی افواج نے اپنے زیر کنٹرول ایک اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس پر فوری طور پر عالمی سپلائی چین اور اشیا کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے واضح کیا کہ دنیا کا تقریبا 20 فیصد پیٹرولیم، جو روزانہ تقریبا 15 سے 20 ملین بیرل ہے، آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ جنگ کے آغاز کے فورا بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں تقریبا 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 12 ماہ کی بلند ترین سطح 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے جبکہ جنگ کے طویل ہونے سے پیٹرولیم کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم کی سپلائی میں خلل سے عالمی افراط زر میں 0.6 سے 0.7 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے جو حالیہ ڈس انفلیشنری رجحانات کو مکمل تبدیل کر سکتا ہے۔ 2026 کے آغاز میں سونے کی قیمتوں میں 24 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس میں اس جنگ کے نتیجے میں مزید اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد نے کہا کہ درآمد شدہ خام تیل پر پاکستان کا انحصار، جی سی سی ممالک سے ترسیلات زر کی آمدنی میں متوقع کمی، اسٹاک مارکیٹ میں تنزلی پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری کارگو کے انشورنس پریمیم میں اضافہ، اور مال برداری کے اضافی نرخ ہمارے قومی درآمدی بل میں اضافہ کریں گے جس سے پاکستان میں افراط زر کی ایک نئی لہر پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جس سے صنعتی شعبے کے لیے کاروباری لاگت اور بینک مارک اپ میں اضافہ ہوگا اور برآمدات کے لیے پہلے سے موجود مسائل میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر نے مزید کہا کہ معاشی پہلوں کے علاوہ علاقائی عدم استحکام پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ایران کے صوبے سیستان اور ایرانی بلوچستان کو پاکستانی بلوچستان سے ملاتی ہے۔ ایران میں ایک وسیع اور طویل جنگ پاکستان کی سرحد پر خطرات میں اضافہ کرے گی۔ دوسری طرف افغانستان، بھارت کی پراکسی کے طور پر پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے اس صورتحال میں پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی کے لیے ان بڑھتے ہوئے سہ طرفہ چیلنجز کا موثر مقابلہ ملک کی اسٹریٹجک اور سفارتی صلاحیت کا امتحان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے حکومتِ پاکستان سے کہا کہ وہ توانائی کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور تیل کی درآمدات کے لیے ’اسٹریٹجک ہیجنگ‘ کے امکانات تلاش کرنے کے لیے فوری طور پر جامع ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجی طاقت کے مظاہرے کے بجائے فوری سفارتی مذاکرات کو ترجیح دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ تمام عالمی قوتیں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں جبکہ عالمی معیشت کے استحکام اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کا مکمل انحصار امریکہ ایران تنازعے میں فوری کمی (ڈی ایسکیلیشن) اور مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا ہے کہ خطے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے فوجی تنازع کے پیشِ نظر توانائی کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور ضروری تیل کی درآمدات کے لیے اسٹریٹجک ہیجنگ (حفاظتی اقدامات) جیسے جامع ہنگامی منصوبوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔</strong></p>
<p>انہوں نے امریکی حملے کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے فوجی تنازع پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے خبردار کیا کہ یہ بڑھتی ہوئی جنگ پورے خطے اور پاکستان کے لیے سنگین اقتصادی اور سلامتی کے مضمرات کی حامل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہفتے کی صبح شدید فوجی حملوں، ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور اس کے بعد ایران کی طرف سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر جوابی میزائل حملوں نے مشرق وسطی کو ایک انتہائی خطرناک اور غیر مستحکم حالت میں دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت جو ایک نازک میکرو اکنامک بحالی سے گزر رہی ہے، اس کے لیے خطرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ جنگ کے نتیجے میں ایرانی افواج نے اپنے زیر کنٹرول ایک اہم سمندری گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس پر فوری طور پر عالمی سپلائی چین اور اشیا کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے واضح کیا کہ دنیا کا تقریبا 20 فیصد پیٹرولیم، جو روزانہ تقریبا 15 سے 20 ملین بیرل ہے، آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ جنگ کے آغاز کے فورا بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں تقریبا 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 12 ماہ کی بلند ترین سطح 80 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا ہے جبکہ جنگ کے طویل ہونے سے پیٹرولیم کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم کی سپلائی میں خلل سے عالمی افراط زر میں 0.6 سے 0.7 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے جو حالیہ ڈس انفلیشنری رجحانات کو مکمل تبدیل کر سکتا ہے۔ 2026 کے آغاز میں سونے کی قیمتوں میں 24 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جس میں اس جنگ کے نتیجے میں مزید اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>میاں زاہد نے کہا کہ درآمد شدہ خام تیل پر پاکستان کا انحصار، جی سی سی ممالک سے ترسیلات زر کی آمدنی میں متوقع کمی، اسٹاک مارکیٹ میں تنزلی پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندری کارگو کے انشورنس پریمیم میں اضافہ، اور مال برداری کے اضافی نرخ ہمارے قومی درآمدی بل میں اضافہ کریں گے جس سے پاکستان میں افراط زر کی ایک نئی لہر پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جس سے صنعتی شعبے کے لیے کاروباری لاگت اور بینک مارک اپ میں اضافہ ہوگا اور برآمدات کے لیے پہلے سے موجود مسائل میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر نے مزید کہا کہ معاشی پہلوں کے علاوہ علاقائی عدم استحکام پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان کی 900 کلومیٹر طویل سرحد ایران کے صوبے سیستان اور ایرانی بلوچستان کو پاکستانی بلوچستان سے ملاتی ہے۔ ایران میں ایک وسیع اور طویل جنگ پاکستان کی سرحد پر خطرات میں اضافہ کرے گی۔ دوسری طرف افغانستان، بھارت کی پراکسی کے طور پر پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے اس صورتحال میں پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی کے لیے ان بڑھتے ہوئے سہ طرفہ چیلنجز کا موثر مقابلہ ملک کی اسٹریٹجک اور سفارتی صلاحیت کا امتحان ہے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے حکومتِ پاکستان سے کہا کہ وہ توانائی کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور تیل کی درآمدات کے لیے ’اسٹریٹجک ہیجنگ‘ کے امکانات تلاش کرنے کے لیے فوری طور پر جامع ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد کرے۔</p>
<p>مزید برآں، انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوجی طاقت کے مظاہرے کے بجائے فوری سفارتی مذاکرات کو ترجیح دیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ تمام عالمی قوتیں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں جبکہ عالمی معیشت کے استحکام اور جنوبی ایشیا کی سلامتی کا مکمل انحصار امریکہ ایران تنازعے میں فوری کمی (ڈی ایسکیلیشن) اور مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔</p>
<p><br>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283454</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 13:55:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0313514535d0482.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0313514535d0482.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
