<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تباہی کے دہانے پر کھڑا خطہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283448/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;23 سال بعد جب ایک امریکی صدر نے حکومت کی تبدیلی  کے تعاقب میں ایک خودمختار ریاست کے خلاف امریکی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کیا تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ کو دہائیوں تک افراتفری اور خونریزی میں دھکیل دیا، وائٹ ہاؤس کے ایک اور مکین نے اسی خطرناک راستے پر چلنے کا انتخاب کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی، جس کے نتیجے میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹڈ شہادت ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ نے عملی طور پر امریکہ کی دائمی جنگوں کو ختم کرنے کے اپنے دیرینہ دعووں کو ترک کردیا ہے۔ وہ واضح طور پر اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ان سے پہلے 2003 میں عراق پر حملے کے وقت جارج ڈبلیو بش ناکام رہے تھے کہ حکومت کی تبدیلی کے منصوبے اپنے اندر فطری طور پر انتہائی گہری اور دور رس تباہیاں چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران پر حملے اور خامنہ ای کی شہادت نے پہلے ہی اشتعال انگیزی کے ایک خطرناک سلسلے کو جنم دے دیا ہے، جس کے جواب میں تہران نے قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی کی ہے، جس سے علاقائی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ  گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو دہائیوں کے تجربے نے حقیقت میں یہ بار بار ثابت کیا کہ باہر سے مسلط کردہ حکومت کی تبدیلی کی کوششوں نے صرف عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دی، معیشتوں کو تباہ کیا اور پہلے سے کمزور معاشروں کو مزید تقسیم کردیا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ طویل المدتی نقل مکانی، عدم تحفظ اور بنیادی گزر بسر کے ذرائع چھین لیے جانے جیسے حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے، اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اس کے اثرات کبھی بھی قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ اس طرح کے انقلابات اور اتھل پتھل کے اثرات لہروں کی طرح واضح طور پر پھیلتے ہیں جو پڑوسی ریاستوں کو غیر مستحکم کرتے ہیں اور پورے خطوں کو افراتفری، عدم استحکام اور معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور جیسا کہ اب تک کے واقعات سے ثابت ہو چکا ہے، یہی پرانا سلسلہ یہاں بھی دہرایا جا رہا ہے۔ نہ صرف خلیجی ریاستیں تصادم کے پھیلتے ہوئے دائرے کی زد میں آ گئی ہیں جس نے دہائیوں میں پہلی بار ان کے طویل مدتی استحکام کو آزمائش میں ڈال دیا ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ملحقہ جغرافیائی خطوں میں بھی پھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ کسی موڑ پر، اس کھنچاؤ اور دباؤ کے اثرات پاک ایران سرحد پر بھی محسوس ہونا شروع ہو سکتے ہیں اور وہاں ہونے والی کوئی بھی پیش رفت بلوچستان کی پہلے سے ہی غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال اور افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں کے معاملات سے جڑسکتی ہے، جہاں ایران کے اندرونی واقعات ان نازک حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں، ان معاملات کو مزید سنگین تہران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ بنا رہا ہے، جو کہ ایک ایسی اہم ترین شہ رگ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ تہران کا یہ قدم عالمی معیشت کے لیے دور رس اور دیرپا نتائج کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کی عالمی منڈیاں اس شدید جھٹکے  کی زد میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایک خود مختار ملک پر حملے، اور اس کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ قیادت کے قتل کے لیے جو جواز پیش کیے جا رہے ہیں، انہیں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ کسی صورت ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت، پیشگی فوجی طاقت  کا استعمال صرف کسی فوری خطرے کے جواب میں یا سلامتی کونسل کی واضح اجازت کے ساتھ ہی جائز ہے اور اس معاملے میں یہ شرائط واضح طور پر پوری نہیں کی گئیں۔ مزید برآں صدر ٹرمپ کے یہ دعوے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے پر تلا ہوا ہے، وہ بھی کسی ٹھوس جانچ پڑتال پر پورے نہیں اترتے۔ جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے دوران اس سے پہلے کہ اس بے مقصد اشتعال انگیزی نے انہیں سبوتاژ (تباہ) کر دیا، تہران اس بات پر راضی ہو گیا تھا کہ وہ کبھی بھی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نہیں کرے گا۔ اگر قانونی اور حقائق پر مبنی جواز کو ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ امریکی-اسرائیلی کارروائی طاقت کے کھلے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ اپنی پسند کی مسلط کردہ جنگ ہے جس میں حق کی جگہ طاقت نے لے لی ہے اور فوجی قوت کا ایسا استعمال کیا گیا جو ان تمام قانونی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہے جو اسے منظم کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ خامنہ ای کی شہارت ایرانی ریاست کے لیے ایک گہرا بگاڑ یا بہت بڑی رکاوٹ ہے، اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک پہلے ہی دہائیوں کی معاشی مشکلات اور جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پُرتشدد حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا گواہ بن چکا تھا۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس افراتفری اور مصائب کے درمیان ایرانی عوام ہی وہ طبقہ ہیں جو سب سے زیادہ بوجھ اٹھائیں گے۔ ان کے لیے افق پر امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، اور ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال، محرومی اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>23 سال بعد جب ایک امریکی صدر نے حکومت کی تبدیلی  کے تعاقب میں ایک خودمختار ریاست کے خلاف امریکی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کیا تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ کو دہائیوں تک افراتفری اور خونریزی میں دھکیل دیا، وائٹ ہاؤس کے ایک اور مکین نے اسی خطرناک راستے پر چلنے کا انتخاب کیا ہے۔</strong></p>
<p>28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی، جس کے نتیجے میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ٹارگٹڈ شہادت ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ نے عملی طور پر امریکہ کی دائمی جنگوں کو ختم کرنے کے اپنے دیرینہ دعووں کو ترک کردیا ہے۔ وہ واضح طور پر اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ان سے پہلے 2003 میں عراق پر حملے کے وقت جارج ڈبلیو بش ناکام رہے تھے کہ حکومت کی تبدیلی کے منصوبے اپنے اندر فطری طور پر انتہائی گہری اور دور رس تباہیاں چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔</p>
<p>ایران پر حملے اور خامنہ ای کی شہادت نے پہلے ہی اشتعال انگیزی کے ایک خطرناک سلسلے کو جنم دے دیا ہے، جس کے جواب میں تہران نے قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر جوابی کارروائی کی ہے، جس سے علاقائی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ  گئی ہے۔</p>
<p>گزشتہ دو دہائیوں کے تجربے نے حقیقت میں یہ بار بار ثابت کیا کہ باہر سے مسلط کردہ حکومت کی تبدیلی کی کوششوں نے صرف عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دی، معیشتوں کو تباہ کیا اور پہلے سے کمزور معاشروں کو مزید تقسیم کردیا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ طویل المدتی نقل مکانی، عدم تحفظ اور بنیادی گزر بسر کے ذرائع چھین لیے جانے جیسے حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے، اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اس کے اثرات کبھی بھی قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ اس طرح کے انقلابات اور اتھل پتھل کے اثرات لہروں کی طرح واضح طور پر پھیلتے ہیں جو پڑوسی ریاستوں کو غیر مستحکم کرتے ہیں اور پورے خطوں کو افراتفری، عدم استحکام اور معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔</p>
<p>اور جیسا کہ اب تک کے واقعات سے ثابت ہو چکا ہے، یہی پرانا سلسلہ یہاں بھی دہرایا جا رہا ہے۔ نہ صرف خلیجی ریاستیں تصادم کے پھیلتے ہوئے دائرے کی زد میں آ گئی ہیں جس نے دہائیوں میں پہلی بار ان کے طویل مدتی استحکام کو آزمائش میں ڈال دیا ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ملحقہ جغرافیائی خطوں میں بھی پھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ کسی موڑ پر، اس کھنچاؤ اور دباؤ کے اثرات پاک ایران سرحد پر بھی محسوس ہونا شروع ہو سکتے ہیں اور وہاں ہونے والی کوئی بھی پیش رفت بلوچستان کی پہلے سے ہی غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال اور افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں کے معاملات سے جڑسکتی ہے، جہاں ایران کے اندرونی واقعات ان نازک حالات کو مزید بگاڑ سکتے ہیں، ان معاملات کو مزید سنگین تہران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ بنا رہا ہے، جو کہ ایک ایسی اہم ترین شہ رگ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ تہران کا یہ قدم عالمی معیشت کے لیے دور رس اور دیرپا نتائج کا حامل ہوسکتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو رہا ہے اور توانائی کی عالمی منڈیاں اس شدید جھٹکے  کی زد میں ہیں۔</p>
<p>یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایک خود مختار ملک پر حملے، اور اس کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ قیادت کے قتل کے لیے جو جواز پیش کیے جا رہے ہیں، انہیں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کے ساتھ کسی صورت ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت، پیشگی فوجی طاقت  کا استعمال صرف کسی فوری خطرے کے جواب میں یا سلامتی کونسل کی واضح اجازت کے ساتھ ہی جائز ہے اور اس معاملے میں یہ شرائط واضح طور پر پوری نہیں کی گئیں۔ مزید برآں صدر ٹرمپ کے یہ دعوے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے پر تلا ہوا ہے، وہ بھی کسی ٹھوس جانچ پڑتال پر پورے نہیں اترتے۔ جیسا کہ عمان کے وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے دوران اس سے پہلے کہ اس بے مقصد اشتعال انگیزی نے انہیں سبوتاژ (تباہ) کر دیا، تہران اس بات پر راضی ہو گیا تھا کہ وہ کبھی بھی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نہیں کرے گا۔ اگر قانونی اور حقائق پر مبنی جواز کو ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ امریکی-اسرائیلی کارروائی طاقت کے کھلے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ اپنی پسند کی مسلط کردہ جنگ ہے جس میں حق کی جگہ طاقت نے لے لی ہے اور فوجی قوت کا ایسا استعمال کیا گیا جو ان تمام قانونی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہے جو اسے منظم کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔</p>
<p>یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ خامنہ ای کی شہارت ایرانی ریاست کے لیے ایک گہرا بگاڑ یا بہت بڑی رکاوٹ ہے، اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک پہلے ہی دہائیوں کی معاشی مشکلات اور جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پُرتشدد حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا گواہ بن چکا تھا۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس افراتفری اور مصائب کے درمیان ایرانی عوام ہی وہ طبقہ ہیں جو سب سے زیادہ بوجھ اٹھائیں گے۔ ان کے لیے افق پر امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، اور ان کا مستقبل غیر یقینی صورتحال، محرومی اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں نظر آتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283448</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 12:08:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/031204486f7589f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/031204486f7589f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
