<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:29:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:29:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایران جنگ پر وضاحت، مقاصد میں تضاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283446/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے خلاف ایک وسیع اور لامتناہی جنگ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور اس آپریشن پر اب تک کے اپنے سب سے تفصیلی عوامی تبصرے کیے جس کے اعلانیہ مقاصد اور ٹائم لائن ویک اینڈ پر آغاز کے بعد سے مسلسل تبدیل ہورہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوریڈا میں چھٹیاں گزارنے کے بعد وائٹ ہاؤس واپسی پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کو شروع ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے پہلے اندازے کے مطابق چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہنے تھے لیکن حالات کے پیشِ نظر یہ کارروائیاں طویل بھی ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے، کم از کم 10 ایرانی جنگی بحری جہاز ڈوب گئے اور ایک ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کے آغاز کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم پہلے ہی اپنے مقررہ وقت (ٹائم پروجیکشنز) سے کافی آگے ہیں لیکن جتنا بھی وقت لگے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں جو کچھ بھی کرنا پڑا، ہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت کی تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں کیا اور کہا کہ یہ لڑائی ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ضروری تھی جس کی تہران ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے اور اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے بھی یہ کارروائی لازم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا  کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایرانی حکومت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی ایک ناقابلِ برداشت خطرہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ریمارکس صدر کی جانب سے کئی دنوں تک جاری رہنے والے متضاد بیانات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ صدر نے ویک اینڈ کے دوران دو مختصر ویڈیوز اور منتخب صحافیوں کے ساتھ انفرادی انٹرویوز میں ان حملوں پر گفتگو تو کی تھی، لیکن قوم سے وہ روایتی ٹیلی ویژن خطاب نہیں کیا جو عام طور پر فوجی کارروائی کے مواقع پر کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس آپریشن کے حوالے سے انتظامیہ کا پیغام الجھن کا شکار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح اہداف بیان کیے ہیں جن میں ایرانی پراکسیز کو حملوں سے روکنا اور سڑک کنارے نصب کیے جانے والے بموں  کی تیاری بند کروانا شامل ہے جیسے کہ 2003 میں عراق پر حملے کے بعد امریکی افواج کے خلاف استعمال کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متضاد بیانات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو جب ٹرمپ نے حملوں کا اعلان کیا، تو انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنا ملک واپس لیں جس سے حکومت کی تبدیلی  کے ہدف کا اشارہ مل رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ٹرمپ نے دی اٹلانٹک کو بتایا کہ وہ ایران کی قیادت کے لیے سامنے آنے والی کسی بھی شخصیت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، جبکہ ’نیویارک ٹائمز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے جنوری میں کیا گیا ان کا آپریشن ایران کے مستقبل کے لیے ایک مثال  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے معاملے میں، مادورو کی سابقہ اتحادی ڈیلسی روڈریگز نئی لیڈر بن کر ابھریں اور انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ تاہم، ایران کے معاملے میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ان بہت سے لوگوں کو ختم کر دیا ہے جو اقتدار سنبھالنے کے لیے آگے آ سکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دیے گئے ٹائم لائن  کے بیانات بھی آغاز سے ہی تبدیل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے ڈیلی میل کو بتایا کہ اس میں چار ہفتے یا اس سے کم وقت لگ سکتا ہے، لیکن پھر نیویارک ٹائمز کو چار سے پانچ ہفتے کا وقت بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار اور پیر کو دیے گئے الگ الگ بیانات میں، انہوں نے اس امکان کو بھی کھلا رکھا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پولیٹیکو کی جانب سے حاصل کردہ ایران حملوں سے متعلق کانگریس کو بھیجے گئے نوٹیفکیشن میں ٹرمپ نے کسی مخصوص ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے لکھا کہ اگرچہ ا مریکا ایک فوری اور پائیدار امن کا خواہاں ہے، لیکن اس وقت ان فوجی آپریشنز کے مکمل دائرہ کار اور دورانیے کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے جو شاید ضروری ہوں۔“ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے جان آلٹرمین، جو مشرقِ وسطیٰ کے امور پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ ایسا لگتا ہے ٹرمپ نے جان بوجھ کر جنگ کے حتمی نتیجے کو غیر واضح رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;آلٹرمین نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ (امریکی انتظامیہ) کسی خاص نتیجے کے لیے پرعزم ہیں۔ جب ٹرمپ نے جون میں اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے خلاف ایک بہت ہی محدود حملے کا حکم دیا تھا، تو انہوں نے فوری طور پر سینیئر حکام کے ہمراہ ایک رسمی خطاب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف آپریشن کے بعد، ٹرمپ نے چند ہی گھنٹوں میں فلوریڈا میں  پریس کانفرنس کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق اس بار سینئر انتظامی حکام اتوار کے ٹاک شوز میں شامل نہیں ہوئے تاکہ بیانات میں تضاد سے بچا جا سکے اور ٹرمپ کو ہی مرکزی پیغام رساں رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے بتایا کہ اس آپریشن کے عوامی خدوخال  ابھی زیرِ بحث ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے خلاف ایک وسیع اور لامتناہی جنگ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور اس آپریشن پر اب تک کے اپنے سب سے تفصیلی عوامی تبصرے کیے جس کے اعلانیہ مقاصد اور ٹائم لائن ویک اینڈ پر آغاز کے بعد سے مسلسل تبدیل ہورہے ہیں۔</strong></p>
<p>فلوریڈا میں چھٹیاں گزارنے کے بعد وائٹ ہاؤس واپسی پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کو شروع ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے پہلے اندازے کے مطابق چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہنے تھے لیکن حالات کے پیشِ نظر یہ کارروائیاں طویل بھی ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے، کم از کم 10 ایرانی جنگی بحری جہاز ڈوب گئے اور ایک ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>تنازع کے آغاز کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم پہلے ہی اپنے مقررہ وقت (ٹائم پروجیکشنز) سے کافی آگے ہیں لیکن جتنا بھی وقت لگے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں جو کچھ بھی کرنا پڑا، ہم کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت کی تبدیلی کا کوئی ذکر نہیں کیا اور کہا کہ یہ لڑائی ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ضروری تھی جس کی تہران ہمیشہ تردید کرتا رہا ہے اور اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے بھی یہ کارروائی لازم تھی۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا  کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایرانی حکومت نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی ایک ناقابلِ برداشت خطرہ ہوگی۔</p>
<p>یہ ریمارکس صدر کی جانب سے کئی دنوں تک جاری رہنے والے متضاد بیانات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ صدر نے ویک اینڈ کے دوران دو مختصر ویڈیوز اور منتخب صحافیوں کے ساتھ انفرادی انٹرویوز میں ان حملوں پر گفتگو تو کی تھی، لیکن قوم سے وہ روایتی ٹیلی ویژن خطاب نہیں کیا جو عام طور پر فوجی کارروائی کے مواقع پر کیا جاتا ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس آپریشن کے حوالے سے انتظامیہ کا پیغام الجھن کا شکار رہا ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے واضح اہداف بیان کیے ہیں جن میں ایرانی پراکسیز کو حملوں سے روکنا اور سڑک کنارے نصب کیے جانے والے بموں  کی تیاری بند کروانا شامل ہے جیسے کہ 2003 میں عراق پر حملے کے بعد امریکی افواج کے خلاف استعمال کیے گئے تھے۔</p>
<p><strong>متضاد بیانات</strong></p>
<p>ہفتے کو جب ٹرمپ نے حملوں کا اعلان کیا، تو انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اپنا ملک واپس لیں جس سے حکومت کی تبدیلی  کے ہدف کا اشارہ مل رہا تھا۔</p>
<p>اتوار کو ٹرمپ نے دی اٹلانٹک کو بتایا کہ وہ ایران کی قیادت کے لیے سامنے آنے والی کسی بھی شخصیت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، جبکہ ’نیویارک ٹائمز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے جنوری میں کیا گیا ان کا آپریشن ایران کے مستقبل کے لیے ایک مثال  ہے۔</p>
<p>وینزویلا کے معاملے میں، مادورو کی سابقہ اتحادی ڈیلسی روڈریگز نئی لیڈر بن کر ابھریں اور انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ تاہم، ایران کے معاملے میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ان بہت سے لوگوں کو ختم کر دیا ہے جو اقتدار سنبھالنے کے لیے آگے آ سکتے تھے۔</p>
<p>ایران کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دیے گئے ٹائم لائن  کے بیانات بھی آغاز سے ہی تبدیل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے ڈیلی میل کو بتایا کہ اس میں چار ہفتے یا اس سے کم وقت لگ سکتا ہے، لیکن پھر نیویارک ٹائمز کو چار سے پانچ ہفتے کا وقت بتایا۔</p>
<p>اتوار اور پیر کو دیے گئے الگ الگ بیانات میں، انہوں نے اس امکان کو بھی کھلا رکھا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک اس کے مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔</p>
<p>’پولیٹیکو کی جانب سے حاصل کردہ ایران حملوں سے متعلق کانگریس کو بھیجے گئے نوٹیفکیشن میں ٹرمپ نے کسی مخصوص ٹائم لائن کا ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے لکھا کہ اگرچہ ا مریکا ایک فوری اور پائیدار امن کا خواہاں ہے، لیکن اس وقت ان فوجی آپریشنز کے مکمل دائرہ کار اور دورانیے کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے جو شاید ضروری ہوں۔“ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے جان آلٹرمین، جو مشرقِ وسطیٰ کے امور پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ ایسا لگتا ہے ٹرمپ نے جان بوجھ کر جنگ کے حتمی نتیجے کو غیر واضح رکھا ہے۔</p>
<hr />
<p>آلٹرمین نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ (امریکی انتظامیہ) کسی خاص نتیجے کے لیے پرعزم ہیں۔ جب ٹرمپ نے جون میں اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے خلاف ایک بہت ہی محدود حملے کا حکم دیا تھا، تو انہوں نے فوری طور پر سینیئر حکام کے ہمراہ ایک رسمی خطاب کیا تھا۔</p>
<p>وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف آپریشن کے بعد، ٹرمپ نے چند ہی گھنٹوں میں فلوریڈا میں  پریس کانفرنس کی تھی۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق اس بار سینئر انتظامی حکام اتوار کے ٹاک شوز میں شامل نہیں ہوئے تاکہ بیانات میں تضاد سے بچا جا سکے اور ٹرمپ کو ہی مرکزی پیغام رساں رکھا جائے۔</p>
<p>اہلکار نے بتایا کہ اس آپریشن کے عوامی خدوخال  ابھی زیرِ بحث ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283446</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 11:47:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/03114130bfbe446.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/03114130bfbe446.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
