<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:39:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:39:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمدی گاڑیوں سے مقامی صنعت کو 60 ارب روپے کا نقصان ہوا، سی سی پی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283442/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی کے حوالے سے ایک سنگین وارننگ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کی وجہ سے مقامی آٹو انڈسٹری کو صرف مالی سال 2025 میں تقریباً 60 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور 40 ہزار سے زائد ممکنہ ملازمتیں ختم ہوگئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کی آٹو موبائل سیکٹر کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران 38 ہزار سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں جو مسافر گاڑیوں کی مجموعی فروخت کا تقریباً چوتھائی حصہ (25 فیصد) بنتی ہیں۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ پرسنل درآمدی اسکیمیں جو اصل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے گفٹ، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور بیگیج (سامان) کیٹیگریز کے تحت بنائی گئی تھیں تجارتی مقاصد کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہی ہیں جس سے مقامی مینوفیکچرنگ اور پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ درآمد کی جانے والی ہر استعمال شدہ گاڑی براہِ راست مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی گاڑی اور اس کے مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کی طلب کو ختم کردیتی ہے اور یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ درآمدات پر مسلسل انحصار ملکی صنعتی بنیاد کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے متنبہ کیا ہے کہ مقامی پیداوار میں کمی سے ساختی درآمدی بل میں اضافہ ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور مجموعی طور پر میکرو اکنامک عدم استحکام یا معاشی خطرات میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری اس وقت امپورٹ سبسٹی ٹیوشن (درآمدی متبادل) کے ذریعے سالانہ تقریباً 1.25 ارب ڈالر کی بچت کر رہی ہے، یہ ایک ایسا حفاظتی حصار (بفر) ہے جو درآمدات کے تسلسل کی صورت میں ختم ہو سکتا ہے۔ مطالعے میں مالیاتی اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ مقامی آٹو موبائل ویلیو چین سالانہ تقریباً 302 ارب روپے کے ٹیکس پیدا کرتی ہے، جس میں جی ایس ٹی، کسٹمز ڈیوٹیز اور انکم ٹیکس شامل ہیں۔ مقامی پیداوار کو درآمدات سے بدلنے سے وقت کے ساتھ یہ وسیع ٹیکس بیس کمزور ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر پاکستان میں گاڑیوں کی پیداوار میں 1999 اور 2007 کے درمیان تیزی سے اضافہ ہوا، لیکن استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں نرمی نے اس تسلسل کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں کارخانے بند ہوئے، پیداواری صلاحیت بیکار رہی اور عالمی اسمبلرز ملک سے باہر چلے گئے۔ اس کے اثرات انتہائی شدید تھے، جس نے ہنڈائی موٹر کمپنی ، نسان موٹر کارپوریشن ، شیورلیٹ اور فیاٹ سمیت کئی عالمی اسمبلرز کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کردیا جبکہ 2005 سے 2010 کے درمیان پانچ اسمبلی پلانٹس بند ہو گئے اور نصب شدہ پیداواری صلاحیت کا تقریباً 40 فیصد حصہ استعمال نہ ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توازن بحال کرنے کے لیے سی سی پی نے تجویز دی ہے کہ ذاتی درآمدی اسکیموں کو صرف حقیقی استعمال تک محدود کیا جائے، قانون پر عملدرآمد کو سخت بنایا جائے، مجاز ڈیلرز کے ذریعے درآمدات کا ایک باقاعدہ فریم ورک متعارف کرایا جائے، اور ایک مستقل و شفاف پالیسی کے تحت صرف ماحول دوست گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملک میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی کے حوالے سے ایک سنگین وارننگ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کی وجہ سے مقامی آٹو انڈسٹری کو صرف مالی سال 2025 میں تقریباً 60 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور 40 ہزار سے زائد ممکنہ ملازمتیں ختم ہوگئیں۔</strong></p>
<p>سی سی پی کی آٹو موبائل سیکٹر کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران 38 ہزار سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں جو مسافر گاڑیوں کی مجموعی فروخت کا تقریباً چوتھائی حصہ (25 فیصد) بنتی ہیں۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ پرسنل درآمدی اسکیمیں جو اصل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے گفٹ، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور بیگیج (سامان) کیٹیگریز کے تحت بنائی گئی تھیں تجارتی مقاصد کے لیے بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہی ہیں جس سے مقامی مینوفیکچرنگ اور پرزہ جات کی مقامی سطح پر تیاری کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ درآمد کی جانے والی ہر استعمال شدہ گاڑی براہِ راست مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی گاڑی اور اس کے مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کی طلب کو ختم کردیتی ہے اور یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ درآمدات پر مسلسل انحصار ملکی صنعتی بنیاد کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>سی سی پی نے متنبہ کیا ہے کہ مقامی پیداوار میں کمی سے ساختی درآمدی بل میں اضافہ ہوگا، غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور مجموعی طور پر میکرو اکنامک عدم استحکام یا معاشی خطرات میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>پاکستان کی مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری اس وقت امپورٹ سبسٹی ٹیوشن (درآمدی متبادل) کے ذریعے سالانہ تقریباً 1.25 ارب ڈالر کی بچت کر رہی ہے، یہ ایک ایسا حفاظتی حصار (بفر) ہے جو درآمدات کے تسلسل کی صورت میں ختم ہو سکتا ہے۔ مطالعے میں مالیاتی اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ مقامی آٹو موبائل ویلیو چین سالانہ تقریباً 302 ارب روپے کے ٹیکس پیدا کرتی ہے، جس میں جی ایس ٹی، کسٹمز ڈیوٹیز اور انکم ٹیکس شامل ہیں۔ مقامی پیداوار کو درآمدات سے بدلنے سے وقت کے ساتھ یہ وسیع ٹیکس بیس کمزور ہوجائے گی۔</p>
<p>تاریخی طور پر پاکستان میں گاڑیوں کی پیداوار میں 1999 اور 2007 کے درمیان تیزی سے اضافہ ہوا، لیکن استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں نرمی نے اس تسلسل کو توڑ دیا، جس کے نتیجے میں کارخانے بند ہوئے، پیداواری صلاحیت بیکار رہی اور عالمی اسمبلرز ملک سے باہر چلے گئے۔ اس کے اثرات انتہائی شدید تھے، جس نے ہنڈائی موٹر کمپنی ، نسان موٹر کارپوریشن ، شیورلیٹ اور فیاٹ سمیت کئی عالمی اسمبلرز کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کردیا جبکہ 2005 سے 2010 کے درمیان پانچ اسمبلی پلانٹس بند ہو گئے اور نصب شدہ پیداواری صلاحیت کا تقریباً 40 فیصد حصہ استعمال نہ ہوسکا۔</p>
<p>توازن بحال کرنے کے لیے سی سی پی نے تجویز دی ہے کہ ذاتی درآمدی اسکیموں کو صرف حقیقی استعمال تک محدود کیا جائے، قانون پر عملدرآمد کو سخت بنایا جائے، مجاز ڈیلرز کے ذریعے درآمدات کا ایک باقاعدہ فریم ورک متعارف کرایا جائے، اور ایک مستقل و شفاف پالیسی کے تحت صرف ماحول دوست گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283442</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 20:15:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/031109539a9919a.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/031109539a9919a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
