<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کی واپسی، 100 انڈیکس میں 5,100 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283438/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی کے بعد منگل کو خریداری کی لہر واپس لوٹ آئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 5,100 پوائنٹس سے زائد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں بینچ مارک انڈیکس ابتدائی طور پر تیزی سے گرتے ہوئے 151,258.85 کی نچلی ترین سطح پر آگیا تاہم اس کے فوراً بعد حصص کی خریداری میں زبردست دلچسپی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری دن کے درمیانی وقفے میں مارکیٹ ایک مخصوص حد میں رہی جہاں حصص کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مستحکم کرنے کے لیے انڈیکس 153,000 سے 154,500 کی سطح کے درمیان گھومتا رہا، تاہم ٹریڈنگ سیشن کے آخری گھنٹوں میں خریداری کے رجحان میں دوبارہ تیزی آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;100 انڈیکس 156,000 کی حد عبور کرگیا اور کاروباری دن کے دوران 158,217.01 کی بلند ترین سطح کو چھو لیا، تاہم اختتام سے قبل اس میں معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 5,159.10 پوائنٹس یا 3.39 فیصد کے نمایاں اضافے سے 157,132.09 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ کے انتہائی ہنگامہ خیز کاروباری دنوں میں سے ایک دیکھا گیا، جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے شدید خدشات کے باعث بڑے پیمانے پر فروخت کا دباؤ سامنے آیا، جس سے مارکیٹ ویلیو میں بھاری کمی واقع ہوئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا۔ پیر کو کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 16,089.17 پوائنٹس یعنی 9.57 فیصد کی تاریخی کمی سے 151,973.00 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو آل شیئر انڈیکس میں تجارت کا حجم کم ہو کر 770.69 ملین رہ گیا جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 809.55 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 48.51 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 44.36 ارب روپے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو 74.40 ملین حصص کے ساتھ کےالیکٹرک لمیٹڈ پہلے نمبر پر رہی جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 50.04 ملین حصص اور پاک الیکٹرون 38.23 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 213 کمپنیوں کی حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 228 میں کمی اور 39 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر منگل کے روز ایشیائی تجارت کے آغاز میں حصص کی فروخت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین ’ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مسلسل دوسرے روز نقصانات کا سلسلہ برقرار رہا۔ اس گراوٹ کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جن میں 2.5 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی، جبکہ ٹوکیو کا نکئی 225 بھی 0.8 فیصد تک گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز بھی 0.2 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو شدید اتار چڑھاؤ کے بعد وال اسٹریٹ میں حصص بازار کسی حد تک مستحکم ہوگئے، جہاں ابتدائی فروخت کے دباؤ کے باوجود ایس اینڈ پی 500 انڈیکس دن کے اختتام پر بغیر کسی نمایاں تبدیلی کے بند ہوا جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی لبنان تک پھیلنے کے بعد سرمایہ کاروں نے کم قیمتوں پر خریداری کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کشیدگی کے خاتمے کے آثار نہ ہونے کے باعث ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک عہدیدار نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے اور وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز ایک موقع پر 13 فیصد تک بڑھ کر 82.37 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئے، جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے، تاہم بعد ازاں 7.1 فیصد اضافے کے ساتھ 78.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ قدرتی گیس کی عالمی منڈی میں یورپ اور ایشیا میں ایل این جی کی بینچ مارک قیمتیں بھی تقریباً 40 فیصد تک بڑھ گئیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/03145817cb666d2.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/03145817cb666d2.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ مندی کے بعد منگل کو خریداری کی لہر واپس لوٹ آئی جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 5,100 پوائنٹس سے زائد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں بینچ مارک انڈیکس ابتدائی طور پر تیزی سے گرتے ہوئے 151,258.85 کی نچلی ترین سطح پر آگیا تاہم اس کے فوراً بعد حصص کی خریداری میں زبردست دلچسپی دیکھی گئی۔</p>
<p>کاروباری دن کے درمیانی وقفے میں مارکیٹ ایک مخصوص حد میں رہی جہاں حصص کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو مستحکم کرنے کے لیے انڈیکس 153,000 سے 154,500 کی سطح کے درمیان گھومتا رہا، تاہم ٹریڈنگ سیشن کے آخری گھنٹوں میں خریداری کے رجحان میں دوبارہ تیزی آگئی۔</p>
<p>100 انڈیکس 156,000 کی حد عبور کرگیا اور کاروباری دن کے دوران 158,217.01 کی بلند ترین سطح کو چھو لیا، تاہم اختتام سے قبل اس میں معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 5,159.10 پوائنٹس یا 3.39 فیصد کے نمایاں اضافے سے 157,132.09 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ کے انتہائی ہنگامہ خیز کاروباری دنوں میں سے ایک دیکھا گیا، جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے شدید خدشات کے باعث بڑے پیمانے پر فروخت کا دباؤ سامنے آیا، جس سے مارکیٹ ویلیو میں بھاری کمی واقع ہوئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا۔ پیر کو کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 16,089.17 پوائنٹس یعنی 9.57 فیصد کی تاریخی کمی سے 151,973.00 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>منگل کو آل شیئر انڈیکس میں تجارت کا حجم کم ہو کر 770.69 ملین رہ گیا جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 809.55 ملین ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 48.51 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 44.36 ارب روپے رہ گئی۔</p>
<p>منگل کو 74.40 ملین حصص کے ساتھ کےالیکٹرک لمیٹڈ پہلے نمبر پر رہی جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 50.04 ملین حصص اور پاک الیکٹرون 38.23 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 213 کمپنیوں کی حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 228 میں کمی اور 39 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر منگل کے روز ایشیائی تجارت کے آغاز میں حصص کی فروخت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین ’ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مسلسل دوسرے روز نقصانات کا سلسلہ برقرار رہا۔ اس گراوٹ کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جن میں 2.5 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی، جبکہ ٹوکیو کا نکئی 225 بھی 0.8 فیصد تک گر گیا۔</p>
<p>ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز بھی 0.2 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔</p>
<p>پیر کو شدید اتار چڑھاؤ کے بعد وال اسٹریٹ میں حصص بازار کسی حد تک مستحکم ہوگئے، جہاں ابتدائی فروخت کے دباؤ کے باوجود ایس اینڈ پی 500 انڈیکس دن کے اختتام پر بغیر کسی نمایاں تبدیلی کے بند ہوا جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی لبنان تک پھیلنے کے بعد سرمایہ کاروں نے کم قیمتوں پر خریداری کو ترجیح دی۔</p>
<p>دوسری جانب کشیدگی کے خاتمے کے آثار نہ ہونے کے باعث ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک عہدیدار نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے اور وہاں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>پیر کے روز تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں برینٹ کروڈ فیوچرز ایک موقع پر 13 فیصد تک بڑھ کر 82.37 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئے، جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے، تاہم بعد ازاں 7.1 فیصد اضافے کے ساتھ 78.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔ قدرتی گیس کی عالمی منڈی میں یورپ اور ایشیا میں ایل این جی کی بینچ مارک قیمتیں بھی تقریباً 40 فیصد تک بڑھ گئیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/03145817cb666d2.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/03145817cb666d2.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283438</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 15:05:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/031047313c76387.webp" type="image/webp" medium="image" height="194" width="259">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/031047313c76387.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
