<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283431/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر آئندہ دنوں میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے اور اگر صورتحال مستحکم نہ رہی تو خطے میں ایندھن کی کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، یہ بات سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ڈویلوشن کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں موجود اراکین نے متفقہ طور پر سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کو اجلاس کی صدارت کے لیے نامزد کیا۔ اجلاس میں سینیٹرز سردار الحاج محمد عمر گورگیج اور پونجو بھیل نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد بلیدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران تھر کوئلے کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر پونجو بھیل نے کہا کہ اسلام کوٹ کے رہائشیوں کے ساتھ 300 یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا، مگر لوگ باقاعدہ بل وصول کر رہے ہیں۔ متعلقہ حکام نے وضاحت کی کہ حکومت نے 4,688 صارفین کے لیے ماہانہ 100 یونٹ مفت بجلی منظور کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی سیکرٹری وزارت توانائی نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے فنڈ سے قائم کی گئی پاور کمپنیوں کی اثاثے وفاق کی ملکیت ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی بنیاد پر قائم شدہ پاور انفراسٹرکچر کی ملکیت متعلقہ صوبے کی ہے اور وہ اپنی پیدا کردہ بجلی اپنے مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی نوعیت کی وجہ سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو زیادہ عملی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ وہ اپنے امور خود منظم کر سکیں، جس سے وفاقی حکومت کا بوجھ کم ہوگا اور تقسیم کی سطح پر قواعد و ضوابط کی پاسداری مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ ہر وزارت کا کوٹا ریکارڈ موجود ہے اور اگر کسی صوبے کا کوٹا پورا نہ ہو تو اسے عام طور پر اگلے سال منتقل کر دیا جاتا ہے۔  ضمیر حسین گھمرو نے بلوچستان اور سندھ میں وفاقی سیکرٹریٹ میں کم نمائندگی پر تشویش ظاہر کی اور ہدایت دی کہ صوبائی کوٹے ترجیحی طور پر پورے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے جعلی ڈومیسائلز پر کی گئی تقرریوں کی بھی جانچ کی ہدایت دی اور وفاقی سطح پر تمام ملازمین کے ڈومیسائلز کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ مزید برآں، صوبہ وار ملازمین اور بجٹ مختص کرنے کی تفصیلات اگلی اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر آئندہ دنوں میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے اور اگر صورتحال مستحکم نہ رہی تو خطے میں ایندھن کی کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، یہ بات سیکرٹری پیٹرولیم ڈویژن نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ڈویلوشن کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔</strong></p>
<p>اجلاس میں موجود اراکین نے متفقہ طور پر سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کو اجلاس کی صدارت کے لیے نامزد کیا۔ اجلاس میں سینیٹرز سردار الحاج محمد عمر گورگیج اور پونجو بھیل نے شرکت کی۔ اجلاس میں سینیٹر جان محمد بلیدی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس کے دوران تھر کوئلے کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر پونجو بھیل نے کہا کہ اسلام کوٹ کے رہائشیوں کے ساتھ 300 یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا، مگر لوگ باقاعدہ بل وصول کر رہے ہیں۔ متعلقہ حکام نے وضاحت کی کہ حکومت نے 4,688 صارفین کے لیے ماہانہ 100 یونٹ مفت بجلی منظور کی ہے۔</p>
<p>خصوصی سیکرٹری وزارت توانائی نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے فنڈ سے قائم کی گئی پاور کمپنیوں کی اثاثے وفاق کی ملکیت ہیں، جبکہ صوبائی حکومت کی بنیاد پر قائم شدہ پاور انفراسٹرکچر کی ملکیت متعلقہ صوبے کی ہے اور وہ اپنی پیدا کردہ بجلی اپنے مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی نوعیت کی وجہ سے ملک کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو زیادہ عملی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ وہ اپنے امور خود منظم کر سکیں، جس سے وفاقی حکومت کا بوجھ کم ہوگا اور تقسیم کی سطح پر قواعد و ضوابط کی پاسداری مضبوط ہوگی۔</p>
<p>خصوصی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ ہر وزارت کا کوٹا ریکارڈ موجود ہے اور اگر کسی صوبے کا کوٹا پورا نہ ہو تو اسے عام طور پر اگلے سال منتقل کر دیا جاتا ہے۔  ضمیر حسین گھمرو نے بلوچستان اور سندھ میں وفاقی سیکرٹریٹ میں کم نمائندگی پر تشویش ظاہر کی اور ہدایت دی کہ صوبائی کوٹے ترجیحی طور پر پورے کیے جائیں۔</p>
<p>کمیٹی نے جعلی ڈومیسائلز پر کی گئی تقرریوں کی بھی جانچ کی ہدایت دی اور وفاقی سطح پر تمام ملازمین کے ڈومیسائلز کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ مزید برآں، صوبہ وار ملازمین اور بجٹ مختص کرنے کی تفصیلات اگلی اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283431</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Mar 2026 09:32:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0309302678e3746.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0309302678e3746.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
