<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس او ای رپورٹ کے دفاع میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283415/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے ”فیڈرل اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ( ایس او ایز) ایگریگیٹ اینول رپورٹ برائے مالی سال 2025 (جولائی 2024 تا جون 2025)“ کے عنوان سے رپورٹ اپ لوڈ کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹی وی بریفنگ میں، جسے پریس کانفرنس کے برعکس رکھا گیا جہاں رپورٹرز سوالات کر سکتے، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے رپورٹ کی ”منتخب انداز میں پڑھنے اور رپورٹنگ“ کا الزام میڈیا پر عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ کی جانب سے رپورٹ کا دفاع تین نکات پر مبنی تھا۔ اول، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مجموعی نقصانات میں کمی، جو 2023 میں 905 ارب روپے سے گھٹ کر 2024 میں 851 ارب روپے اور 2025 میں 832 ارب روپے رہ گئی، کے باعث تین سالہ مدت میں یومیہ 142 ملین روپے کی بچت ہوئی، جو ایک ناقابلِ فہم دعویٰ ہے کیونکہ وہ کم نقصانات کو ہی بچت قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں ایسی تفصیلات بھی موجود ہیں جنہیں بظاہر وزیرِ خزانہ نے نظرانداز کر دیا: ” مجموعی منافع میں 13 فیصد کمی ہوئی، جو 2024 میں 820.7 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں 709.9 ارب روپے رہ گیا۔ اس کمی کی بنیادی وجہ آئل سیکٹر میں منافع بخش ایس او ایز کی مالی شراکت میں کمی تھی، جو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں کمی کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب نقصانات میں معمولی بہتری آئی، جہاں ایس او ایز کے مجموعی نقصانات میں 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی نقصانات گزشتہ مالی سال کے 851.4 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں 832.8 ارب روپے رہ گئے۔ منافع اور نقصانات میں ان تبدیلیوں کا خالص نتیجہ یہ نکلا کہ 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 30.6 ارب روپے کے مقابلے میں 2025 کے لیے مجموعی طور پر 122.9 ارب روپے کا نیٹ ایڈجسٹڈ نقصان سامنے آیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، محمد اورنگزیب نے نشاندہی کی کہ 2025 میں حکومت نے ٹیکس دہندگان کے 2.078 ٹریلین روپے ایس او ایز کو فراہم کیے جبکہ وصولیاں 2.119 ٹریلین روپے رہیں، یوں 40 ارب روپے کا خالص مثبت اِن فلو سامنے آیا۔ اس کے بعد انہوں نے ناقدین کو بجا طور پر متنبہ کیا کہ نقصانات کئی دہائیوں میں جمع ہوئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت نے غیر فعال اداروں کو بند کرنے کے اقدامات کیے، جن میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور پاسکو شامل ہیں۔ تاہم یہ رپورٹ 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی مدت سے متعلق ہے، اس لیے ان کا دعویٰ زیرِ جائزہ مدت کے لیے کم مطابقت رکھتا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے تمام آپریشنز 31 جولائی 2025 کو بند کیے، جبکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی، جس کی صدارت خود وزیرِ خزانہ کر رہے تھے، نے 17 نومبر 2025 کو پاسکو کو ختم کرنے کی سمری مسترد کر دی اور اس کے بجائے ایک اسپیشل پرپز وہیکل ( ایس پی وی ) قائم کیا، یہ فیصلہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اعتراضات کے بعد کیا گیا۔ ساتھ ہی وزارتِ غذائی تحفظ کو ہدایت دی گئی کہ تمام امور حل کیے جائیں، جن میں وزارتِ قانون سے ایس پی وی کے میمورنڈم اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کی جانچ اور مجاز سرمایہ کو بڑھا کر 5 ارب روپے کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں تشویشناک تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں: ”2025 میں ایس او ایز کی بیلنس شیٹ میں مثبت اور منفی رجحانات کا امتزاج نظر آیا۔ مجموعی ایکویٹی میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جو 2024 کے 5,865.2 ارب روپے سے بڑھ کر 2025 میں 6,245.7 ارب روپے ہو گئی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر ری کیپیٹلائزیشن کی کوششوں اور نمایاں ایکویٹی انجیکشنز، خصوصاً پاور سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لیے، کے باعث ہوا۔ واجبات کے لحاظ سے معتدل بہتری آئی، جہاں مجموعی واجبات میں 3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 32,570.5 ارب روپے سے کم ہو کر 31,742.4 ارب روپے رہ گئے۔ کل اثاثے بڑی حد تک مستحکم رہے اور صرف 1 فیصد معمولی کمی دیکھی گئی۔ اثاثوں کی مالیت 38,435.7 ارب روپے سے گھٹ کر 37,988.1 ارب روپے رہی، جو 2025 میں ایس او ای سیکٹر کے مجموعی اثاثہ جاتی ڈھانچے میں نسبتی استحکام کو ظاہر کرتی ہے۔“ ایکویٹی کے حوالے کو دراصل پاور سیکٹر کی جانب سے سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لیے قرضوں کی ری شیڈولنگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ (قرض لینے کی لاگت) 2024 کے اختتام پر 22 فیصد سے کم ہو کر 16 جون 2025 سے 11 فیصد ہو گیا۔ ماضی کی طرح اس سود کی ادائیگی صارفین ہی کرتے ہیں، جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے تحت، ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے کی صورت میں ریونیو کی ضروریات کے 10 فیصد کی حد پر مبنی ڈیٹ سروس سرچارج کی حد ختم کر کے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں، اورنگزیب نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے بہتر گورننس کے ذریعے ایس او ایز پر اخراجات کم کیے ہیں: (الف) سبسڈیز میں کمی، جنہیں انہوں نے چوری، لیکیج اور کرپشن کا ذریعہ قرار دیا۔ تاہم قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ مالی سال کے لیے پیش کیے گئے بجٹ میں سبسڈیز کے لیے 1,186,036 ملین روپے مختص کیے گئے، جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینے سے محض 192,453 ملین روپے کم ہیں۔ مزید یہ کہ بعض سبسڈیز کو گرانٹس اور ٹرانسفرز کے تحت منتقل کیا گیا، جن میں وزیرِ اعظم کے رمضان پیکج کے لیے 19 ارب روپے اور وزیرِ اعظم کے کامیاب جوان پروگرام کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں؛ اور (ب) نجکاری، جس پر شفافیت کے فقدان کے باعث خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ فرسٹ ویمن بینک کی فروخت کی مالیت مبینہ طور پر 14.6 ملین ڈالر لگائی گئی، تاہم اصل فروخت کی رقم آج تک ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے خریدار کی 132 ارب روپے کی بولی میں سے صرف 10 ارب روپے (تقریباً 7.5 فیصد) خزانے میں جمع ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ باقی 122 ارب روپے کو خریدار کی ایکویٹی قرار دیا گیا ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ رقم کس مدت میں اور کس حد تک سرمایہ کاری کی صورت میں آئے گی، جس سے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے اصرار کیا کہ اسٹرکچرل ریفارمز کی جا رہی ہیں، تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدامات زیادہ تر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کی تبدیلی تک محدود ہیں، جو ماضی کی حکومتوں کا بھی ایک معمول کا طریقۂ کار رہا ہے۔ اس سے نئے انفرادی ارکان کی ذاتی صورتحال میں مثبت تبدیلی تو آتی ہے، مگر ایس او ایز کی مجموعی کارکردگی میں بہتری تاحال دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے: ” 2025 میں ایس او ایز کو دی جانے والی حکومتی مالی معاونت میں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2,078.5 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی 1,512.9 ارب روپے کی معاونت کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہے۔ مالی معاونت میں یہ توسیع مختلف اجزا میں نمایاں تبدیلیوں کے باعث ہوئی“ جن میں شامل ہیں: (الف) ایکویٹی انجیکشنز، یعنی درحقیقت زیادہ قرض گیری، خاص طور پر پاور سیکٹر کے لیے، (ب) ایس او ایز کو دیے گئے قرضوں میں 34 فیصد اضافہ، (ج) گرانٹس اور سبسڈیز میں کمی، جبکہ گارنٹیز، قرضوں اور ایکویٹی میں اضافے سے ان کے قرضوں میں اضافہ ہوا، اور (د) خودمختار ضمانتوں (سوورن گارنٹیز) میں 52 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، ایک ایسا موافق منظرنامہ پیش کرنا جو حقائق سے ہم آہنگ نہ ہو، انتظامیہ کو بروقت اصلاحی اقدامات کرنے سے روک سکتا ہے اور مستقبل میں کسی حقیقی مثبت دعوے کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے ”فیڈرل اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ( ایس او ایز) ایگریگیٹ اینول رپورٹ برائے مالی سال 2025 (جولائی 2024 تا جون 2025)“ کے عنوان سے رپورٹ اپ لوڈ کر دی ہے۔</strong></p>
<p>ایک ٹی وی بریفنگ میں، جسے پریس کانفرنس کے برعکس رکھا گیا جہاں رپورٹرز سوالات کر سکتے، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے رپورٹ کی ”منتخب انداز میں پڑھنے اور رپورٹنگ“ کا الزام میڈیا پر عائد کیا ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ کی جانب سے رپورٹ کا دفاع تین نکات پر مبنی تھا۔ اول، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مجموعی نقصانات میں کمی، جو 2023 میں 905 ارب روپے سے گھٹ کر 2024 میں 851 ارب روپے اور 2025 میں 832 ارب روپے رہ گئی، کے باعث تین سالہ مدت میں یومیہ 142 ملین روپے کی بچت ہوئی، جو ایک ناقابلِ فہم دعویٰ ہے کیونکہ وہ کم نقصانات کو ہی بچت قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں ایسی تفصیلات بھی موجود ہیں جنہیں بظاہر وزیرِ خزانہ نے نظرانداز کر دیا: ” مجموعی منافع میں 13 فیصد کمی ہوئی، جو 2024 میں 820.7 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں 709.9 ارب روپے رہ گیا۔ اس کمی کی بنیادی وجہ آئل سیکٹر میں منافع بخش ایس او ایز کی مالی شراکت میں کمی تھی، جو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں کمی کا نتیجہ تھی۔ دوسری جانب نقصانات میں معمولی بہتری آئی، جہاں ایس او ایز کے مجموعی نقصانات میں 2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی نقصانات گزشتہ مالی سال کے 851.4 ارب روپے سے کم ہو کر 2025 میں 832.8 ارب روپے رہ گئے۔ منافع اور نقصانات میں ان تبدیلیوں کا خالص نتیجہ یہ نکلا کہ 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 30.6 ارب روپے کے مقابلے میں 2025 کے لیے مجموعی طور پر 122.9 ارب روپے کا نیٹ ایڈجسٹڈ نقصان سامنے آیا۔“</p>
<p>دوم، محمد اورنگزیب نے نشاندہی کی کہ 2025 میں حکومت نے ٹیکس دہندگان کے 2.078 ٹریلین روپے ایس او ایز کو فراہم کیے جبکہ وصولیاں 2.119 ٹریلین روپے رہیں، یوں 40 ارب روپے کا خالص مثبت اِن فلو سامنے آیا۔ اس کے بعد انہوں نے ناقدین کو بجا طور پر متنبہ کیا کہ نقصانات کئی دہائیوں میں جمع ہوئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مالی بوجھ کم کرنے کے لیے حکومت نے غیر فعال اداروں کو بند کرنے کے اقدامات کیے، جن میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور پاسکو شامل ہیں۔ تاہم یہ رپورٹ 30 جون 2025 کو ختم ہونے والی مدت سے متعلق ہے، اس لیے ان کا دعویٰ زیرِ جائزہ مدت کے لیے کم مطابقت رکھتا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن نے تمام آپریشنز 31 جولائی 2025 کو بند کیے، جبکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی، جس کی صدارت خود وزیرِ خزانہ کر رہے تھے، نے 17 نومبر 2025 کو پاسکو کو ختم کرنے کی سمری مسترد کر دی اور اس کے بجائے ایک اسپیشل پرپز وہیکل ( ایس پی وی ) قائم کیا، یہ فیصلہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اعتراضات کے بعد کیا گیا۔ ساتھ ہی وزارتِ غذائی تحفظ کو ہدایت دی گئی کہ تمام امور حل کیے جائیں، جن میں وزارتِ قانون سے ایس پی وی کے میمورنڈم اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کی جانچ اور مجاز سرمایہ کو بڑھا کر 5 ارب روپے کرنا شامل ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں تشویشناک تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں: ”2025 میں ایس او ایز کی بیلنس شیٹ میں مثبت اور منفی رجحانات کا امتزاج نظر آیا۔ مجموعی ایکویٹی میں 7 فیصد اضافہ ہوا، جو 2024 کے 5,865.2 ارب روپے سے بڑھ کر 2025 میں 6,245.7 ارب روپے ہو گئی۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر ری کیپیٹلائزیشن کی کوششوں اور نمایاں ایکویٹی انجیکشنز، خصوصاً پاور سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لیے، کے باعث ہوا۔ واجبات کے لحاظ سے معتدل بہتری آئی، جہاں مجموعی واجبات میں 3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 32,570.5 ارب روپے سے کم ہو کر 31,742.4 ارب روپے رہ گئے۔ کل اثاثے بڑی حد تک مستحکم رہے اور صرف 1 فیصد معمولی کمی دیکھی گئی۔ اثاثوں کی مالیت 38,435.7 ارب روپے سے گھٹ کر 37,988.1 ارب روپے رہی، جو 2025 میں ایس او ای سیکٹر کے مجموعی اثاثہ جاتی ڈھانچے میں نسبتی استحکام کو ظاہر کرتی ہے۔“ ایکویٹی کے حوالے کو دراصل پاور سیکٹر کی جانب سے سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کے لیے قرضوں کی ری شیڈولنگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ (قرض لینے کی لاگت) 2024 کے اختتام پر 22 فیصد سے کم ہو کر 16 جون 2025 سے 11 فیصد ہو گیا۔ ماضی کی طرح اس سود کی ادائیگی صارفین ہی کرتے ہیں، جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے تحت، ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے کی صورت میں ریونیو کی ضروریات کے 10 فیصد کی حد پر مبنی ڈیٹ سروس سرچارج کی حد ختم کر کے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اور آخر میں، اورنگزیب نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے بہتر گورننس کے ذریعے ایس او ایز پر اخراجات کم کیے ہیں: (الف) سبسڈیز میں کمی، جنہیں انہوں نے چوری، لیکیج اور کرپشن کا ذریعہ قرار دیا۔ تاہم قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ مالی سال کے لیے پیش کیے گئے بجٹ میں سبسڈیز کے لیے 1,186,036 ملین روپے مختص کیے گئے، جو گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینے سے محض 192,453 ملین روپے کم ہیں۔ مزید یہ کہ بعض سبسڈیز کو گرانٹس اور ٹرانسفرز کے تحت منتقل کیا گیا، جن میں وزیرِ اعظم کے رمضان پیکج کے لیے 19 ارب روپے اور وزیرِ اعظم کے کامیاب جوان پروگرام کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں؛ اور (ب) نجکاری، جس پر شفافیت کے فقدان کے باعث خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ فرسٹ ویمن بینک کی فروخت کی مالیت مبینہ طور پر 14.6 ملین ڈالر لگائی گئی، تاہم اصل فروخت کی رقم آج تک ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے خریدار کی 132 ارب روپے کی بولی میں سے صرف 10 ارب روپے (تقریباً 7.5 فیصد) خزانے میں جمع ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ باقی 122 ارب روپے کو خریدار کی ایکویٹی قرار دیا گیا ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ رقم کس مدت میں اور کس حد تک سرمایہ کاری کی صورت میں آئے گی، جس سے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے اصرار کیا کہ اسٹرکچرل ریفارمز کی جا رہی ہیں، تاہم شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدامات زیادہ تر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کی تبدیلی تک محدود ہیں، جو ماضی کی حکومتوں کا بھی ایک معمول کا طریقۂ کار رہا ہے۔ اس سے نئے انفرادی ارکان کی ذاتی صورتحال میں مثبت تبدیلی تو آتی ہے، مگر ایس او ایز کی مجموعی کارکردگی میں بہتری تاحال دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آئی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے: ” 2025 میں ایس او ایز کو دی جانے والی حکومتی مالی معاونت میں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 2,078.5 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی 1,512.9 ارب روپے کی معاونت کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہے۔ مالی معاونت میں یہ توسیع مختلف اجزا میں نمایاں تبدیلیوں کے باعث ہوئی“ جن میں شامل ہیں: (الف) ایکویٹی انجیکشنز، یعنی درحقیقت زیادہ قرض گیری، خاص طور پر پاور سیکٹر کے لیے، (ب) ایس او ایز کو دیے گئے قرضوں میں 34 فیصد اضافہ، (ج) گرانٹس اور سبسڈیز میں کمی، جبکہ گارنٹیز، قرضوں اور ایکویٹی میں اضافے سے ان کے قرضوں میں اضافہ ہوا، اور (د) خودمختار ضمانتوں (سوورن گارنٹیز) میں 52 فیصد اضافہ۔</p>
<p>آخر میں، ایک ایسا موافق منظرنامہ پیش کرنا جو حقائق سے ہم آہنگ نہ ہو، انتظامیہ کو بروقت اصلاحی اقدامات کرنے سے روک سکتا ہے اور مستقبل میں کسی حقیقی مثبت دعوے کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283415</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 20:12:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/02164408581cd36.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/02164408581cd36.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
