<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی کشیدگی پاکستان کی معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، بزنس مین پینل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283412/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزنس مین پینل نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی  جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں طویل مدتی عدم استحکام قومی معیشت کے اس نازک موڑ پر پاکستان کی بیرونی تجارت، توانائی کی درآمدات اور ترسیلاتِ زرکی آمد کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین بی ایم پی اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے کہا کہ خطے کے کچھ حصوں میں پروازوں کی معطلی اور شپنگ کی سرگرمیوں میں خلل نے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان میں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ پاکستان کے اہم ترین معاشی شراکت داروں میں سے ایک ہے اور کسی بھی طویل مدتی تنازع سے تجارتی راستے ناگزیر طور پر متاثر ہوں گے، مال بردار کھیپوں میں تاخیر ہوگی اور کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انجم نثار نے اس بات کی نشاندہی کی کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے جس کے ساتھ سالانہ اربوں ڈالرز کی دو طرفہ تجارت ہو رہی ہے۔ سعودی عرب بھی ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جو نہ صرف پاکستانی برآمدات کے لیے ایک اہم ترین منڈی ہے بلکہ پٹرولیم مصنوعات کا بڑا فراہم کنندہ بھی ہے۔ مزید برآں، پاکستان قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی خطے میں استحکام پاکستان کی توانائی کی سلامتی  کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے جس سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ ذخائر پر نیا دباؤ بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کا بہت زیادہ انحصار درآمدی ایندھن پر ہے۔ کوئی بھی ایسی شدت جو سپلائی چین کو متاثر کرے یا خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا باعث بنے، وہ براہِ راست مہنگائی کو ہوا دے گی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو مزید بڑھا دے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بزنس مین پینل نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی  جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں طویل مدتی عدم استحکام قومی معیشت کے اس نازک موڑ پر پاکستان کی بیرونی تجارت، توانائی کی درآمدات اور ترسیلاتِ زرکی آمد کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔</strong></p>
<p>چیئرمین بی ایم پی اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار نے کہا کہ خطے کے کچھ حصوں میں پروازوں کی معطلی اور شپنگ کی سرگرمیوں میں خلل نے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان میں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ پاکستان کے اہم ترین معاشی شراکت داروں میں سے ایک ہے اور کسی بھی طویل مدتی تنازع سے تجارتی راستے ناگزیر طور پر متاثر ہوں گے، مال بردار کھیپوں میں تاخیر ہوگی اور کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔</p>
<p>انجم نثار نے اس بات کی نشاندہی کی کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے جس کے ساتھ سالانہ اربوں ڈالرز کی دو طرفہ تجارت ہو رہی ہے۔ سعودی عرب بھی ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جو نہ صرف پاکستانی برآمدات کے لیے ایک اہم ترین منڈی ہے بلکہ پٹرولیم مصنوعات کا بڑا فراہم کنندہ بھی ہے۔ مزید برآں، پاکستان قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی خطے میں استحکام پاکستان کی توانائی کی سلامتی  کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے جس سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلہ ذخائر پر نیا دباؤ بڑھے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت کا بہت زیادہ انحصار درآمدی ایندھن پر ہے۔ کوئی بھی ایسی شدت جو سپلائی چین کو متاثر کرے یا خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا باعث بنے، وہ براہِ راست مہنگائی کو ہوا دے گی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو مزید بڑھا دے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283412</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 15:48:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0215445142eaeb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0215445142eaeb5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
