<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خطے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی تجارت اور توانائی بحران کا خدشہ ہے، وفاقی چیمبر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283411/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں عدم استحکام نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے بلکہ عالمی اور پاکستانی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کررہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پورے خطے کا معاشی اور انسانی مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے، ان کے مطابق اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو عالمی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی، خصوصاً توانائی کے شعبے پر اس کے منفی اثرات فوری طور پر سامنے آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی نے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا تقریباً 30 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، اگر اس اہم گزرگاہ پر تیل کی تجارت متاثر یا معطل ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال کے باعث کروڈ آئل کی قیمت عالمی منڈی میں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہوگا اور پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام کے نتیجے میں تجارتی راستے متاثر ہوں گے، شپنگ لائنز کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور انشورنس پریمیم بھی بڑھ جائیں گے جس سے برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان دونوں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات اور ترسیلاتِ زر بھی بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے فوری اور دیرپا پالیسی تشکیل دی جائےجس میں اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ، متبادل توانائی کےذرائع کا فروغ اور درآمدی تنوع شامل ہو۔انکے مطابق توانائی کے شعبے میں ہنگامی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ممکنہ عالمی جھٹکوں سے معیشت کو محفوظ رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی کاروباری برادری ملک و قوم کے مفاد میں ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی تجارت اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات کا تدارک ممکن ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے میں عدم استحکام نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے سکتا ہے بلکہ عالمی اور پاکستانی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کررہا ہے۔</strong></p>
<p>اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پورے خطے کا معاشی اور انسانی مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے، ان کے مطابق اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو عالمی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی، خصوصاً توانائی کے شعبے پر اس کے منفی اثرات فوری طور پر سامنے آئیں گے۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی نے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا تقریباً 30 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، اگر اس اہم گزرگاہ پر تیل کی تجارت متاثر یا معطل ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ صورتحال کے باعث کروڈ آئل کی قیمت عالمی منڈی میں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جس سے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہوگا اور پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>عاطف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام کے نتیجے میں تجارتی راستے متاثر ہوں گے، شپنگ لائنز کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور انشورنس پریمیم بھی بڑھ جائیں گے جس سے برآمدکنندگان اور درآمدکنندگان دونوں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صنعتی پیداوار، برآمدات اور ترسیلاتِ زر بھی بالواسطہ طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے فوری اور دیرپا پالیسی تشکیل دی جائےجس میں اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ، متبادل توانائی کےذرائع کا فروغ اور درآمدی تنوع شامل ہو۔انکے مطابق توانائی کے شعبے میں ہنگامی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ممکنہ عالمی جھٹکوں سے معیشت کو محفوظ رکھا جاسکے۔</p>
<p>صدر ایف پی سی سی آئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی کاروباری برادری ملک و قوم کے مفاد میں ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی تجارت اور انسانی جانوں کو لاحق خطرات کا تدارک ممکن ہوسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283411</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 15:47:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/021534111968eaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/021534111968eaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
