<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی ٹی بی سی ایم کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لٹیریل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) جسے 2019 میں متعارف کروانے کا منصوبہ تھا، بالآخر 2026 میں شکل اختیار کر رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی خصوصی رپورٹ کے مطابق سی ٹی بی سی ایم ماڈل کے تحت 200 میگاواٹ بجلی کی ٹریڈنگ شروع کرنے کے لیے حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو خلاصہ بھیجا جا چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس تاخیر کی سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کی جانب سے عائد کردہ غیر منطقی ویلنگ چارجزتھے کیونکہ حکومت بجلی کے پورے نظام کی نااہلیوں کا بوجھ ان چارجز پر ڈال رہی تھی۔ ان نااہلیوں میں کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کی کپیسٹی پیمنٹس، بوسیدہ انفرااسٹرکچر کی وجہ سے ترسیلی نقصانات  اور ڈسٹری بیوشن کے پورے نظام میں خراب گورننس کی وجہ سے ہونے والی بجلی چوری شامل تھی۔ شروع میں یہ قیمت 22 روپے فی یونٹ تھی جو کراس سبسڈی ختم ہونے کے بعد اب بالآخر 9 روپے فی یونٹ سے نیچے آ گئی ہے۔ حکومت کو اس میں ابتدائی کامیابی مل سکتی ہے اور شروع کی نیلامیوں میں غالباً بڑے صنعتی صارفین ہی اس کے اصل خریدار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبہ یہ ہے کہ 2026 میں 200 میگاواٹ بجلی سے آغاز کیا جائے اور چار نیلامیوں کے ذریعے 2030 تک اسے 800 میگاواٹ تک پہنچایا جائے۔ پائلٹ فیز (ابتدائی مرحلے) کے دوران درپیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کیلئے سست رفتاری سے آغاز کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس ماڈل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ریگولیٹرز مستعد رہیں اور ایک خود مختار ماحول میں کام کریں، جس کی فی الحال کمی ہے۔ سرکاری ٹرانسمیشن کمپنی (این ٹی ڈی سی ) کو پرانے نقصانات اور اخراجات کو پورا کرنے کی ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری بھی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام عمل کے بعد بھی جو کہ کسی صورت آسان کام نہیں ہے،ایک وسیع تر ثانوی توانائی مارکیٹ کی ترقی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ’یکساں اور ریگولیٹڈ قیمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔ دنیا کی کوئی بھی مارکیٹ اس وقت تک مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتی جب قیمتوں کا تعین سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بجلی کی قیمتیں ملک بھر میں یکساں رکھی جاتی ہیں جس میں گھریلو صارفین کے لیے مختلف سلیب اور کمرشل و صنعتی صارفین کے لیے الگ قیمتیں مقرر ہیں۔ یہی ڈھانچہ گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہر شعبے میں قیمتوں کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے جن میں مختلف ٹیکسز اور اضافی اخراجات شامل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات سستی ترین اشیاء میں شمار ہوتی ہیں۔ توانائی کی تقسیم طلب اور رسد کے اصل حقائق کے بجائے من مانے قیمتوں کے ڈھانچے پر مبنی ہے۔ جب تک یکساں قیمتوں کے نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاتا اور توانائی کے مختلف ذرائع کے لیے قیمتوں میں فرق کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک توانائی کی بچت اور ماحول دوست فراہمی میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ توانائی کی قیمتوں کا تعین اس کے پسِ پردہ آنے والے اصل اخراجات  کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپن مارکیٹ میں بجلی (اور یہاں تک کہ ایندھن) کی قیمتیں جنوبی علاقوں میں کم ہونی چاہئیں، جہاں کم اضافی لاگت پر زیادہ پیداواری صلاحیت شامل کی جا رہی ہے۔ اگر بجلی شمال کی طرف منتقل کی جاتی ہے، تو اس کے اضافی اخراجات قیمتوں میں ظاہر ہونے چاہئیں۔ جس طرح کراچی میں درآمدی اشیاء اندرونی فریٹ (بار برداری) کے اخراجات کی وجہ سے لاہور کے مقابلے میں سستی ہوتی ہیں، اسی طرح توانائی کی قیمتوں کو بھی جغرافیائی حقائق کی عکاسی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ماڈل میں کسی قسم کی اضافی سبسڈی شامل نہیں ہونی چاہیے۔ پیٹرولیم کا شعبہ ایسی ’کراس سبسڈیزکے بغیر کام کرتا ہے، اور پاور سیکٹر میں بھی اسی طرح کے برتاؤ کی ضرورت ہے۔ 100 فیصد ریکوری (ادائیگیوں کی وصولی) کے مفروضے کو بھی حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ آپریشنل غلطیوں کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ مزید برآں، بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے پاس واجبات ادا نہ کرنے والوں کے کنکشن کاٹنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار جب قیمتوں کے تعین اور اس سے متعلقہ ڈھانچہ جاتی مسائل کو درست کر لیا جائے گا، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ جنوب میں مزید صنعتی یونٹ قائم ہوں گے، جبکہ شمال میں دیگر مارکیٹیں پروان چڑھیں گی، جس سے بجلی کی منڈی کو استحکام حاصل ہوگا۔ تاہم، یہ تمام سیاسی طور پر مشکل فیصلے ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر، سی ٹی بی سی ایم فریم ورک کے تحت توانائی کی منڈی کی وسیع تر ترقی محض ایک ادھورا خواب ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لٹیریل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) جسے 2019 میں متعارف کروانے کا منصوبہ تھا، بالآخر 2026 میں شکل اختیار کر رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی خصوصی رپورٹ کے مطابق سی ٹی بی سی ایم ماڈل کے تحت 200 میگاواٹ بجلی کی ٹریڈنگ شروع کرنے کے لیے حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو خلاصہ بھیجا جا چکا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اس تاخیر کی سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کی جانب سے عائد کردہ غیر منطقی ویلنگ چارجزتھے کیونکہ حکومت بجلی کے پورے نظام کی نااہلیوں کا بوجھ ان چارجز پر ڈال رہی تھی۔ ان نااہلیوں میں کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کی کپیسٹی پیمنٹس، بوسیدہ انفرااسٹرکچر کی وجہ سے ترسیلی نقصانات  اور ڈسٹری بیوشن کے پورے نظام میں خراب گورننس کی وجہ سے ہونے والی بجلی چوری شامل تھی۔ شروع میں یہ قیمت 22 روپے فی یونٹ تھی جو کراس سبسڈی ختم ہونے کے بعد اب بالآخر 9 روپے فی یونٹ سے نیچے آ گئی ہے۔ حکومت کو اس میں ابتدائی کامیابی مل سکتی ہے اور شروع کی نیلامیوں میں غالباً بڑے صنعتی صارفین ہی اس کے اصل خریدار ہوں گے۔</p>
<p>منصوبہ یہ ہے کہ 2026 میں 200 میگاواٹ بجلی سے آغاز کیا جائے اور چار نیلامیوں کے ذریعے 2030 تک اسے 800 میگاواٹ تک پہنچایا جائے۔ پائلٹ فیز (ابتدائی مرحلے) کے دوران درپیش آنے والے مسائل کو حل کرنے کیلئے سست رفتاری سے آغاز کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس ماڈل کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ریگولیٹرز مستعد رہیں اور ایک خود مختار ماحول میں کام کریں، جس کی فی الحال کمی ہے۔ سرکاری ٹرانسمیشن کمپنی (این ٹی ڈی سی ) کو پرانے نقصانات اور اخراجات کو پورا کرنے کی ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا، جبکہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری بھی ناگزیر ہے۔</p>
<p>اس تمام عمل کے بعد بھی جو کہ کسی صورت آسان کام نہیں ہے،ایک وسیع تر ثانوی توانائی مارکیٹ کی ترقی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ’یکساں اور ریگولیٹڈ قیمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔ دنیا کی کوئی بھی مارکیٹ اس وقت تک مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتی جب قیمتوں کا تعین سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو۔</p>
<p>پاکستان میں بجلی کی قیمتیں ملک بھر میں یکساں رکھی جاتی ہیں جس میں گھریلو صارفین کے لیے مختلف سلیب اور کمرشل و صنعتی صارفین کے لیے الگ قیمتیں مقرر ہیں۔ یہی ڈھانچہ گیس اور پٹرولیم مصنوعات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ہر شعبے میں قیمتوں کو ریگولیٹ کیا جاتا ہے جن میں مختلف ٹیکسز اور اضافی اخراجات شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان میں بجلی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات سستی ترین اشیاء میں شمار ہوتی ہیں۔ توانائی کی تقسیم طلب اور رسد کے اصل حقائق کے بجائے من مانے قیمتوں کے ڈھانچے پر مبنی ہے۔ جب تک یکساں قیمتوں کے نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاتا اور توانائی کے مختلف ذرائع کے لیے قیمتوں میں فرق کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک توانائی کی بچت اور ماحول دوست فراہمی میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ توانائی کی قیمتوں کا تعین اس کے پسِ پردہ آنے والے اصل اخراجات  کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔</p>
<p>اوپن مارکیٹ میں بجلی (اور یہاں تک کہ ایندھن) کی قیمتیں جنوبی علاقوں میں کم ہونی چاہئیں، جہاں کم اضافی لاگت پر زیادہ پیداواری صلاحیت شامل کی جا رہی ہے۔ اگر بجلی شمال کی طرف منتقل کی جاتی ہے، تو اس کے اضافی اخراجات قیمتوں میں ظاہر ہونے چاہئیں۔ جس طرح کراچی میں درآمدی اشیاء اندرونی فریٹ (بار برداری) کے اخراجات کی وجہ سے لاہور کے مقابلے میں سستی ہوتی ہیں، اسی طرح توانائی کی قیمتوں کو بھی جغرافیائی حقائق کی عکاسی کرنی چاہیے۔</p>
<p>اس ماڈل میں کسی قسم کی اضافی سبسڈی شامل نہیں ہونی چاہیے۔ پیٹرولیم کا شعبہ ایسی ’کراس سبسڈیزکے بغیر کام کرتا ہے، اور پاور سیکٹر میں بھی اسی طرح کے برتاؤ کی ضرورت ہے۔ 100 فیصد ریکوری (ادائیگیوں کی وصولی) کے مفروضے کو بھی حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ آپریشنل غلطیوں کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ مزید برآں، بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے پاس واجبات ادا نہ کرنے والوں کے کنکشن کاٹنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔</p>
<p>ایک بار جب قیمتوں کے تعین اور اس سے متعلقہ ڈھانچہ جاتی مسائل کو درست کر لیا جائے گا، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ جنوب میں مزید صنعتی یونٹ قائم ہوں گے، جبکہ شمال میں دیگر مارکیٹیں پروان چڑھیں گی، جس سے بجلی کی منڈی کو استحکام حاصل ہوگا۔ تاہم، یہ تمام سیاسی طور پر مشکل فیصلے ہیں۔ ان مسائل کو حل کیے بغیر، سی ٹی بی سی ایم فریم ورک کے تحت توانائی کی منڈی کی وسیع تر ترقی محض ایک ادھورا خواب ہی رہے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283410</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 15:26:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/021526146fbdcb6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/021526146fbdcb6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
