<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کرکٹ کی خامیوں کا اعتراف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283407/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جلد اخراج نے پاکستان کرکٹ کے فرسودہ نظام اور جدید تقاضوں سے دوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کپتان سلمان آغا کی کمزور قیادت، سست بیٹنگ ریٹ اور اوسط درجے کے آل راؤنڈرز پر انحصار نے ٹیم کو عالمی معیار سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سابق کرکٹر کامران اکمل کے مطابق دیگر ٹیمیں  چاند پر پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان ابھی تک زمین پر جدوجہد کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف کامیابی کے باوجود میگا ایونٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا غلط فیصلہ اور اہم اسپنر عثمان طارق کو باؤلنگ دینے میں تاخیر شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ باسط علی اور کامران اکمل نے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حکمتِ عملی اور سلیکٹرز کی پسند و ناپسند کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ بحث بابر اعظم کی فارم اور سست بیٹنگ پر ہوئی، جنہوں نے نمبر چار پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا ردھم متاثر کیا۔ اگرچہ آخری میچ میں انہیں ڈراپ کرنے کے بعد ٹیم نے 200 کا ہندسہ عبور کیا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور نیوزی لینڈ رن ریٹ کی بنیاد پر آگے نکل گیا۔ شائقینِ کرکٹ اس مسلسل ناکامی پر نہ صرف مایوس ہیں بلکہ تبدیلی کی امید بھی کھو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے جلد اخراج نے پاکستان کرکٹ کے فرسودہ نظام اور جدید تقاضوں سے دوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کپتان سلمان آغا کی کمزور قیادت، سست بیٹنگ ریٹ اور اوسط درجے کے آل راؤنڈرز پر انحصار نے ٹیم کو عالمی معیار سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سابق کرکٹر کامران اکمل کے مطابق دیگر ٹیمیں  چاند پر پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان ابھی تک زمین پر جدوجہد کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف کامیابی کے باوجود میگا ایونٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا غلط فیصلہ اور اہم اسپنر عثمان طارق کو باؤلنگ دینے میں تاخیر شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ باسط علی اور کامران اکمل نے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حکمتِ عملی اور سلیکٹرز کی پسند و ناپسند کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>سب سے زیادہ بحث بابر اعظم کی فارم اور سست بیٹنگ پر ہوئی، جنہوں نے نمبر چار پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا ردھم متاثر کیا۔ اگرچہ آخری میچ میں انہیں ڈراپ کرنے کے بعد ٹیم نے 200 کا ہندسہ عبور کیا، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور نیوزی لینڈ رن ریٹ کی بنیاد پر آگے نکل گیا۔ شائقینِ کرکٹ اس مسلسل ناکامی پر نہ صرف مایوس ہیں بلکہ تبدیلی کی امید بھی کھو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283407</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 14:31:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0214212771d5d1a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0214212771d5d1a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
