<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے-الیکٹرک کا حکومت سے 47.1 ارب روپے کی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283389/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا  کہ کے الیکٹرک نے مالی سال 2026-27 کے لیے 47.1 ارب روپے کی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) طلب کرلی ہے جبکہ کمپنی نے 100 ارب روپے سے زائد کے زیر التوا ٹی ڈی ایس واجبات کی فوری ادائیگی کی بھی درخواست کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19 فروری 2026 کو ارسال کیے گئے مراسلے میں پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک  جو اپنے نئے تعینات چیف ایگزیکٹو آفیسر کی قیادت میں بجلی کی لاگت کم کرنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے  کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کے تخمینے جمع کرائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹی ڈی ایس معاہدے کی شق 3 کے تحت کے الیکٹرک پر لازم ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے لیے درکار سبسڈی بجٹ کی تفصیلات فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک کے مطابق 30 جون 2026 تک اس کے ٹی ڈی ایس  کلیمز کی صورتحال کچھ یوں ہے: (i) جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے عرصے کے لیے 45 ارب روپے؛ اور (ii) فروری 2026 سے جون 2026 تک کے لیے تخمیناً 35.1 ارب روپے۔ اس طرح مالی سال 2026 کے لیے سبسڈی کی کل تخمینی ضرورت 80.1 ارب روپے بنتی ہے۔ تاہم، مالی سال 2026 کے دوران اب تک کوئی سبسڈی جاری نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے یہ تمام 80.1 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ واضح رہے کہ مالی سال 2026 میں کے-الیکٹرک کے لیے مختص کردہ کل بجٹ 125 ارب روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ٹی ڈی ایس کی مد میں 101.4 ارب روپے کے بقایا واجبات کا ابتدائی بیلنس تاحال ادا نہیں کیا گیا۔ مالی سال 2025 کے بجٹ میں مختص 174 ارب روپے میں سے صرف 3.1 ارب روپے ہی جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی تناظر میں کے الیکٹرک نے پاور ڈویژن سے درخواست کی ہے کہ مالی سال 2025 کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے مالی سال 2026 میں پہلے سے مختص 125 ارب روپے کے علاوہ مزید 56.5 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ واجبات کی مکمل ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی (کے-الیکٹرک) نے مزید بیان کیا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے 27 مئی 2025 کے فیصلے اور 18 جولائی 2025 کے نوٹیفکیشن اور اس میں درج ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار  کی بنیاد پر مالی سال 2027 کے لیے اس کا ٹی ڈی ایس  تخمینہ 47.1 ارب روپے ہے جس کے لیے فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں کے-الیکٹرک  نے اپنی سابقہ درخواست کا اعادہ کیا کہ 31 دسمبر 2023 کے بعد کے عرصے سے متعلق تمام ٹی ڈی ایس ادائیگیاں، ٹی ڈی ایس معاہدے کے مطابق براہِ راست کمپنی کو جاری کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک  نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹی ڈی ایس  کلیمز سے متعلق مذکورہ بالا تخمینوں کے پیشِ نظر، ہم وزارتِ توانائی  سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مالی سال 2026 کے بجٹ کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مالی سال 2027 کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی گردشی قرض کم کرنے اور قابو پانے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کے الیکٹرک نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی ڈی ایس کی مکمل مختص رقم اور بروقت ادائیگی ان بہتریوں کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی  نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے واجب الادا ٹی ڈی ایس  کلیمز کی ادائیگی کے لیے فنڈز جاری اور مختص کیے جائیں اور آنے والے برسوں میں ان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان فنڈز کا بروقت اجراء کے-الیکٹرک کے آپریشنز کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس میں ایندھن فراہم کرنے والے کلیدی اداروں، آئی پی پیز  اور سی پی پی اے-جی  کو ادائیگیوں کی ذمہ داری پوری کرنا، اور بروقت سرمایہ کاری کو ممکن بنانا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا  کہ کے الیکٹرک نے مالی سال 2026-27 کے لیے 47.1 ارب روپے کی ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) طلب کرلی ہے جبکہ کمپنی نے 100 ارب روپے سے زائد کے زیر التوا ٹی ڈی ایس واجبات کی فوری ادائیگی کی بھی درخواست کی ہے۔</strong></p>
<p>19 فروری 2026 کو ارسال کیے گئے مراسلے میں پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک  جو اپنے نئے تعینات چیف ایگزیکٹو آفیسر کی قیادت میں بجلی کی لاگت کم کرنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے  کو ہدایت کی کہ وہ مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کے تخمینے جمع کرائے۔</p>
<p>ٹی ڈی ایس معاہدے کی شق 3 کے تحت کے الیکٹرک پر لازم ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے لیے درکار سبسڈی بجٹ کی تفصیلات فراہم کرے۔</p>
<p>کے-الیکٹرک کے مطابق 30 جون 2026 تک اس کے ٹی ڈی ایس  کلیمز کی صورتحال کچھ یوں ہے: (i) جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے عرصے کے لیے 45 ارب روپے؛ اور (ii) فروری 2026 سے جون 2026 تک کے لیے تخمیناً 35.1 ارب روپے۔ اس طرح مالی سال 2026 کے لیے سبسڈی کی کل تخمینی ضرورت 80.1 ارب روپے بنتی ہے۔ تاہم، مالی سال 2026 کے دوران اب تک کوئی سبسڈی جاری نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے یہ تمام 80.1 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ واضح رہے کہ مالی سال 2026 میں کے-الیکٹرک کے لیے مختص کردہ کل بجٹ 125 ارب روپے تھا۔</p>
<p>مزید برآں ٹی ڈی ایس کی مد میں 101.4 ارب روپے کے بقایا واجبات کا ابتدائی بیلنس تاحال ادا نہیں کیا گیا۔ مالی سال 2025 کے بجٹ میں مختص 174 ارب روپے میں سے صرف 3.1 ارب روپے ہی جاری کیے گئے۔</p>
<p>اسی تناظر میں کے الیکٹرک نے پاور ڈویژن سے درخواست کی ہے کہ مالی سال 2025 کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے مالی سال 2026 میں پہلے سے مختص 125 ارب روپے کے علاوہ مزید 56.5 ارب روپے مختص کیے جائیں تاکہ واجبات کی مکمل ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p>کمپنی (کے-الیکٹرک) نے مزید بیان کیا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے 27 مئی 2025 کے فیصلے اور 18 جولائی 2025 کے نوٹیفکیشن اور اس میں درج ایڈجسٹمنٹ کے طریقہ کار  کی بنیاد پر مالی سال 2027 کے لیے اس کا ٹی ڈی ایس  تخمینہ 47.1 ارب روپے ہے جس کے لیے فنڈز مختص کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>مزید برآں کے-الیکٹرک  نے اپنی سابقہ درخواست کا اعادہ کیا کہ 31 دسمبر 2023 کے بعد کے عرصے سے متعلق تمام ٹی ڈی ایس ادائیگیاں، ٹی ڈی ایس معاہدے کے مطابق براہِ راست کمپنی کو جاری کی جائیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک  نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹی ڈی ایس  کلیمز سے متعلق مذکورہ بالا تخمینوں کے پیشِ نظر، ہم وزارتِ توانائی  سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مالی سال 2026 کے بجٹ کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور مالی سال 2027 کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے جائیں۔</p>
<p>حکومت کی گردشی قرض کم کرنے اور قابو پانے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کے الیکٹرک نے اس بات پر زور دیا کہ ٹی ڈی ایس کی مکمل مختص رقم اور بروقت ادائیگی ان بہتریوں کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔</p>
<p>کمپنی  نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے واجب الادا ٹی ڈی ایس  کلیمز کی ادائیگی کے لیے فنڈز جاری اور مختص کیے جائیں اور آنے والے برسوں میں ان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان فنڈز کا بروقت اجراء کے-الیکٹرک کے آپریشنز کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس میں ایندھن فراہم کرنے والے کلیدی اداروں، آئی پی پیز  اور سی پی پی اے-جی  کو ادائیگیوں کی ذمہ داری پوری کرنا، اور بروقت سرمایہ کاری کو ممکن بنانا شامل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283389</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 11:07:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/02105108321954e.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/02105108321954e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
