<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ نے ایران کیخلاف حملوں کیلئے امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283383/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اتوار کو کہا کہ ان کے ملک نے امریکہ کی درخواست قبول کر لی ہے کہ ایرانی میزائلوں کے اسٹوریج ڈپو یا لانچروں کے خلاف دفاعی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارمر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکہ نے اس مخصوص اور محدود دفاعی مقصد کے لیے اجازت مانگی تھی، اور ہم نے یہ فیصلہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے سے روکنے کے لیے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں حصہ نہیں لیا، اور آئندہ حملوں میں بھی شامل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے برطانیہ کے مفادات پر حملے جاری رکھے اور اس کے میزائل ہوائی اڈوں اور ہوٹلز کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں برطانوی شہری مقیم تھے۔ اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کی پالیسی ایران پر حملوں میں حصہ نہ لینے کی تھی تاکہ خطے اور دنیا کے لیے مذاکراتی حل ممکن ہو، جس میں ایران نیوکلئیر ہتھیار بنانے کی خواہش ترک کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کے خلیجی شراکت داروں نے مزید دفاعی اقدامات کی درخواست کی تھی، اور اسٹارمر کے بقول برطانوی شہریوں کی حفاظت ان کا فرض ہے۔ برطانوی لڑاکا طیارے پہلے ہی مشترکہ دفاعی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور ایرانی حملوں کو ناکام بنا چکے ہیں، لیکن خطرے کو مکمل ختم کرنے کا واحد راستہ میزائلوں کو ان کے ذخائر یا لانچروں میں تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی درخواست قبول کرنا دوستانہ تعلقات اور برطانوی شہریوں کی حفاظت کے تحت بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اتوار کو کہا کہ ان کے ملک نے امریکہ کی درخواست قبول کر لی ہے کہ ایرانی میزائلوں کے اسٹوریج ڈپو یا لانچروں کے خلاف دفاعی حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>اسٹارمر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکہ نے اس مخصوص اور محدود دفاعی مقصد کے لیے اجازت مانگی تھی، اور ہم نے یہ فیصلہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے سے روکنے کے لیے کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں حصہ نہیں لیا، اور آئندہ حملوں میں بھی شامل نہیں ہوگا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے برطانیہ کے مفادات پر حملے جاری رکھے اور اس کے میزائل ہوائی اڈوں اور ہوٹلز کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں برطانوی شہری مقیم تھے۔ اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کی پالیسی ایران پر حملوں میں حصہ نہ لینے کی تھی تاکہ خطے اور دنیا کے لیے مذاکراتی حل ممکن ہو، جس میں ایران نیوکلئیر ہتھیار بنانے کی خواہش ترک کرے۔</p>
<p>برطانیہ کے خلیجی شراکت داروں نے مزید دفاعی اقدامات کی درخواست کی تھی، اور اسٹارمر کے بقول برطانوی شہریوں کی حفاظت ان کا فرض ہے۔ برطانوی لڑاکا طیارے پہلے ہی مشترکہ دفاعی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور ایرانی حملوں کو ناکام بنا چکے ہیں، لیکن خطرے کو مکمل ختم کرنے کا واحد راستہ میزائلوں کو ان کے ذخائر یا لانچروں میں تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی درخواست قبول کرنا دوستانہ تعلقات اور برطانوی شہریوں کی حفاظت کے تحت بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283383</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 09:56:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/CBmlp-4DK54/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/CBmlp-4DK54/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=CBmlp-4DK54"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
