<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جغرافیائی کشیدگی کے اسٹاک ایکسچینج پر منفی اثرات، 100 انڈیکس میں 16 ہزار پوائنٹس کی تاریخی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283382/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خطے میں بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی ریکارڈ کی گئی، پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 10 فیصد تک گرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آغاز سے ہی اسٹاک ایکسچینج  فروخت کے شدید دباؤ کی لپیٹ میں آگئی۔ صبح 9 بج کر 22 منٹ تک بینچ مارک انڈیکس 15,071.01 پوائنٹس یا 8.97 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 152,991.15 پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 9 فیصد کی اس بڑی گراوٹ کے بعداسٹاک ایکسچینج میں تجارتی سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے معطل کردی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا کہ تمام ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام کے مقابلے میں کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5 فیصد کمی کی وجہ سے مارکیٹ ریگولیشنز کے تحت مارکیٹ ہالٹ (کاروبار کی معطلی) کا نفاذ کر دیا گیا ہے اور تمام ایکویٹی مارکیٹس کو اسی کے مطابق معطل کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح 10 بجکر 22 منٹ کے قریب جب ٹریڈنگ دوبارہ شروع ہوئی تو مارکیٹ میں بحالی دیکھی گئی جس نے انڈیکس کو تیزی سے 6 ہزار پوائنٹس سے اوپر دھکیل دیا اور یہ دن کی بلند ترین سطح 159,328.59 تک جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کاروبار کے آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ میں دوبارہ شدت آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 16,089.17 پوائنٹس یا 9.57 فیصد کی بڑی گراوٹ سے 151,972.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ حصص کی قیمتوں میں اس شدید گراوٹ کی وجہ عالمی سطح پر بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ ہیں جس نے ہر طرف غیر یقینی صورتحال  پیدا کی اور تمام شعبوں میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کے ایس ای 100 انڈیکس کی تاریخ میں ایک دن کے دوران ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0214021724b930d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0214021724b930d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے فروخت کے اس شدید دباؤ کی وجہ علاقائی کشیدگی کو قرار دیا جس سے ملک پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے خدشات پیدا ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی بڑھتی  قیمتیں پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں میں بھرپور فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔ انڈیکس کے بھاری وزن رکھنے والے اسٹاک جیسے ایچ بی ایل، ایم سی بی،ایم ای بی ایل،ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل،حبکو، اے آر ایل بھی مندی کی لپیٹ میں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم پیشرفت کے طور پر وزارتِ خزانہ نے پیر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن کے ساتھ ایک ابتدائی اجلاس شروع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ پر مسلسل دباؤ رہا کیونکہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور ملکی سکیورٹی خدشات نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر منفی اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں انڈیکس جنوری کی بلند سطح سے تصحیح کے دوران جزوی بہتری کے باوجود نیچے رہا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 5,107.53 پوائنٹس یا 2.9 فیصد کی کمی کے ساتھ 168,062.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو آل شیئرز انڈیکس میں حصص کی خرید و فروخت کا حجم گزشتہ سیشن کے 536.24 ملین سے بڑھ کر 809.55 ملین تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 25.54 ارب روپے سے بڑھ کر 48.51 ارب روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ  163.35 ملین حصص کے ساتھ ٹریڈنگ کے حجم  میں سرفہرست رہی جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام  82.60 ملین حصص اور فرسٹ نیشنل ایکویٹیز  41.85 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے صرف 21 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 413 میں کمی اور 49 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور حصص میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں جیسے ڈالر اور سونے کی جانب منتقل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی قیمت 4.5 فیصد اضافے کے ساتھ 76.07 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی کروڈ 69.59 ڈالر فی بیرل تک پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کی قیمت 1 فیصد اضافے کے ساتھ 5,327 ڈالر فی اونس ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں کمی کے آثار نہیں جبکہ ایران نے خطے میں میزائل حملوں سے جواب دیا جس سے پڑوسی ممالک بھی کشیدگی میں شامل ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیلی میل کو بتایا کہ یہ تنازعہ مزید چار ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے اور حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکی اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔ تمام نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں، جہاں سے دنیا کے تیل کی تقریباً پانچواں اور مائع قدرتی گیس کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک پانی کا راستہ بند نہیں ہوا لیکن بحری ٹریکننگ سائٹس نے ٹینکروں کے جمع ہونے کی نشاندہی کی، جو حملے یا انشورنس کے مسائل کے سبب سفر سے گریز کر رہے ہیں۔ طویل مدتی تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ کر سکتا ہے اور کاروبار اور صارفین کے لیے بوجھ پیدا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک پلس نے اتوار کو اپریل کے لیے یومیہ 206,000 بیرل کی پیداوار میں اضافہ منظور کیا، تاہم اس کی ترسیل کے لیے ابھی بھی زیادہ تر تیل مشرقِ وسطیٰ سے ٹینکروں کے ذریعے باہر جانا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی بلیو چِپس مستحکم رہیں، جبکہ ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک انڈیکس جاپان کے علاوہ 1.2 فیصد نیچے گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خطے میں بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی ریکارڈ کی گئی، پیر کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 10 فیصد تک گرگیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے آغاز سے ہی اسٹاک ایکسچینج  فروخت کے شدید دباؤ کی لپیٹ میں آگئی۔ صبح 9 بج کر 22 منٹ تک بینچ مارک انڈیکس 15,071.01 پوائنٹس یا 8.97 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 152,991.15 پر آگیا۔</p>
<p>تقریباً 9 فیصد کی اس بڑی گراوٹ کے بعداسٹاک ایکسچینج میں تجارتی سرگرمیاں ایک گھنٹے کے لیے معطل کردی گئیں۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا کہ تمام ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام کے مقابلے میں کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5 فیصد کمی کی وجہ سے مارکیٹ ریگولیشنز کے تحت مارکیٹ ہالٹ (کاروبار کی معطلی) کا نفاذ کر دیا گیا ہے اور تمام ایکویٹی مارکیٹس کو اسی کے مطابق معطل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>صبح 10 بجکر 22 منٹ کے قریب جب ٹریڈنگ دوبارہ شروع ہوئی تو مارکیٹ میں بحالی دیکھی گئی جس نے انڈیکس کو تیزی سے 6 ہزار پوائنٹس سے اوپر دھکیل دیا اور یہ دن کی بلند ترین سطح 159,328.59 تک جاپہنچا۔</p>
<p>تاہم کاروبار کے آخری گھنٹوں میں فروخت کے دباؤ میں دوبارہ شدت آگئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 16,089.17 پوائنٹس یا 9.57 فیصد کی بڑی گراوٹ سے 151,972.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ حصص کی قیمتوں میں اس شدید گراوٹ کی وجہ عالمی سطح پر بڑھتے جغرافیائی سیاسی تناؤ ہیں جس نے ہر طرف غیر یقینی صورتحال  پیدا کی اور تمام شعبوں میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا۔</p>
<p>یہ کے ایس ای 100 انڈیکس کی تاریخ میں ایک دن کے دوران ہونے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0214021724b930d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/0214021724b930d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تجزیہ کاروں نے فروخت کے اس شدید دباؤ کی وجہ علاقائی کشیدگی کو قرار دیا جس سے ملک پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے خدشات پیدا ہوگئے۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی بڑھتی  قیمتیں پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔</p>
<p>اہم شعبوں میں بھرپور فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جن میں آٹوموبائل اسمبلی، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔ انڈیکس کے بھاری وزن رکھنے والے اسٹاک جیسے ایچ بی ایل، ایم سی بی،ایم ای بی ایل،ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل،حبکو، اے آر ایل بھی مندی کی لپیٹ میں رہے۔</p>
<p>اہم پیشرفت کے طور پر وزارتِ خزانہ نے پیر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن کے ساتھ ایک ابتدائی اجلاس شروع کیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ پر مسلسل دباؤ رہا کیونکہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور ملکی سکیورٹی خدشات نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر منفی اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں انڈیکس جنوری کی بلند سطح سے تصحیح کے دوران جزوی بہتری کے باوجود نیچے رہا۔ کے ایس ای-100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 5,107.53 پوائنٹس یا 2.9 فیصد کی کمی کے ساتھ 168,062.17 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>پیر کو آل شیئرز انڈیکس میں حصص کی خرید و فروخت کا حجم گزشتہ سیشن کے 536.24 ملین سے بڑھ کر 809.55 ملین تک جا پہنچا۔</p>
<p>شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 25.54 ارب روپے سے بڑھ کر 48.51 ارب روپے ہو گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ  163.35 ملین حصص کے ساتھ ٹریڈنگ کے حجم  میں سرفہرست رہی جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام  82.60 ملین حصص اور فرسٹ نیشنل ایکویٹیز  41.85 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے صرف 21 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 413 میں کمی اور 49 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور حصص میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں جیسے ڈالر اور سونے کی جانب منتقل ہوئے۔</p>
<p>برینٹ کروڈ کی قیمت 4.5 فیصد اضافے کے ساتھ 76.07 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی کروڈ 69.59 ڈالر فی بیرل تک پہنچا۔</p>
<p>سونے کی قیمت 1 فیصد اضافے کے ساتھ 5,327 ڈالر فی اونس ہوگئی۔</p>
<p>امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں کمی کے آثار نہیں جبکہ ایران نے خطے میں میزائل حملوں سے جواب دیا جس سے پڑوسی ممالک بھی کشیدگی میں شامل ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیلی میل کو بتایا کہ یہ تنازعہ مزید چار ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے اور حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک امریکی اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔ تمام نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں، جہاں سے دنیا کے تیل کی تقریباً پانچواں اور مائع قدرتی گیس کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔</p>
<p>اب تک پانی کا راستہ بند نہیں ہوا لیکن بحری ٹریکننگ سائٹس نے ٹینکروں کے جمع ہونے کی نشاندہی کی، جو حملے یا انشورنس کے مسائل کے سبب سفر سے گریز کر رہے ہیں۔ طویل مدتی تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ کر سکتا ہے اور کاروبار اور صارفین کے لیے بوجھ پیدا کر سکتا ہے۔</p>
<p>اوپیک پلس نے اتوار کو اپریل کے لیے یومیہ 206,000 بیرل کی پیداوار میں اضافہ منظور کیا، تاہم اس کی ترسیل کے لیے ابھی بھی زیادہ تر تیل مشرقِ وسطیٰ سے ٹینکروں کے ذریعے باہر جانا باقی ہے۔</p>
<p>چینی بلیو چِپس مستحکم رہیں، جبکہ ایم ایس سی آئی کا ایشیا-پیسیفک انڈیکس جاپان کے علاوہ 1.2 فیصد نیچے گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283382</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Mar 2026 14:54:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0209431225f491f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0209431225f491f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
