<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی اور دوحہ میں مسلسل دوسرے دن دھماکے، عمان کی دقم بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں پڑوسی خلیجی ریاستوں پر تلافی کے طور پر کیے جانے والے حملوں کا سلسلہ وسعت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کو مسلسل دوسرے دن دبئی اور قطری دارالحکومت دوحہ میں زوردار دھماکے سنے گئے، جبکہ عمان کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے کہا تھا کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا  لیکن اس نے خلیجی شہروں میں مختلف دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔دبئی میڈیا آفس کے ایک بیان کے مطابق ڈرون گرائے جانے کے بعد ان کا ملبہ دو گھروں پر گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔ دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، مشہورِ زمانہ ہوٹل برج العرب اور مصنوعی جزیرہ پام جمیرا سب ان حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبل علی پورٹ کے علاقے سے سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جہاں اتوار کو ناکارہ بنائے گئے میزائل کے ملبے سے ایک برتھ  میں آگ لگ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پڑوسی ملک عمان، جو ہفتے کے روز جوابی کارروائی سے محفوظ رہا تھا وہاں کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق  دقم  کی تجارتی بندرگاہ کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک کارکن زخمی ہوا۔ دبئی مشرقِ وسطیٰ میں سیاحت اور تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اس کا ہوائی اڈہ دنیا کے مصروف ترین سفری مراکز میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر کی وزارتِ داخلہ نے اتوار کو بتایا کہ وہ ایک صنعتی علاقے میں لگنے والی محدود آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جو ناکارہ بنائے گئے میزائل کا ملبہ گرنے کی وجہ سے لگی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں پڑوسی خلیجی ریاستوں پر تلافی کے طور پر کیے جانے والے حملوں کا سلسلہ وسعت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں اتوار کو مسلسل دوسرے دن دبئی اور قطری دارالحکومت دوحہ میں زوردار دھماکے سنے گئے، جبکہ عمان کو پہلی بار نشانہ بنایا گیا۔</strong></p>
<p>ایران نے کہا تھا کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا  لیکن اس نے خلیجی شہروں میں مختلف دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔دبئی میڈیا آفس کے ایک بیان کے مطابق ڈرون گرائے جانے کے بعد ان کا ملبہ دو گھروں پر گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔ دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ، مشہورِ زمانہ ہوٹل برج العرب اور مصنوعی جزیرہ پام جمیرا سب ان حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>جبل علی پورٹ کے علاقے سے سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جہاں اتوار کو ناکارہ بنائے گئے میزائل کے ملبے سے ایک برتھ  میں آگ لگ گئی۔</p>
<p>پڑوسی ملک عمان، جو ہفتے کے روز جوابی کارروائی سے محفوظ رہا تھا وہاں کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق  دقم  کی تجارتی بندرگاہ کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک کارکن زخمی ہوا۔ دبئی مشرقِ وسطیٰ میں سیاحت اور تجارت کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اس کا ہوائی اڈہ دنیا کے مصروف ترین سفری مراکز میں سے ایک ہے۔</p>
<p>قطر کی وزارتِ داخلہ نے اتوار کو بتایا کہ وہ ایک صنعتی علاقے میں لگنے والی محدود آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جو ناکارہ بنائے گئے میزائل کا ملبہ گرنے کی وجہ سے لگی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283368</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Mar 2026 15:51:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0115415815f7959.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0115415815f7959.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
