<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند، عالمی ایئر لائنز نے پروازیں روک دیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283347/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ہفتے کے روز عالمی ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کے لیے اور وہاں سے پروازیں معطل کر دیں، کیونکہ خطہ ایک نئے فوجی تصادم کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ فضائی نقشوں کے مطابق ایران کی فضائی حدود تقریباً خالی دکھائی دیں جبکہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کی تصدیق کی اور امریکی فوج نے بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے  بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل داغے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کشیدگی میں اضافے سے تہران کے جوہری تنازع پر سفارتی حل کی امیدیں مزید کمزور ہو گئیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث دونوں ممالک کی فضائی حدود پہلے ہی بیشتر ایئرلائنز کے لیے بند ہیں، جس کے بعد یورپ اور ایشیا کے درمیان پروازوں کے لیے مشرق وسطیٰ کی فضائی راہداری کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل، ایران، عراق اور اردن نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ فلائٹ ریڈار کے نقشے پر طیارے ان علاقوں سے گریز کرتے دکھائی دیے۔ قطر ایئرویز کی بعض پروازیں کویت یا سعودی عرب کی فضائی حدود میں چکر لگانے کے بعد واپس قطر لوٹ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے دبئی کے لیے اور وہاں سے پروازیں معطل کر دیں اور تل ابیب، بیروت اور عمان کے روٹس معطل کر دیے۔ ایئر فرانس، آئبیریا اور وِز ایئر نے بھی تل ابیب اور دیگر متاثرہ شہروں کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں۔ روسی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا کہ روسی فضائی کمپنیوں نے ایران اور اسرائیل کے لیے پروازیں روک دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات نے بھی حفاظتی اقدام کے طور پر بعض پروازیں معطل یا فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دیں۔ ورجن اٹلانٹک اور کے ایل ایم سمیت دیگر ایئرلائنز نے بھی اپنے روٹس میں تبدیلی یا عارضی معطلی کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ہفتے کے روز عالمی ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کے لیے اور وہاں سے پروازیں معطل کر دیں، کیونکہ خطہ ایک نئے فوجی تصادم کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ فضائی نقشوں کے مطابق ایران کی فضائی حدود تقریباً خالی دکھائی دیں جبکہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کی تصدیق کی اور امریکی فوج نے بھی مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے  بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے میزائل داغے۔</strong></p>
<p>کشیدگی میں اضافے سے تہران کے جوہری تنازع پر سفارتی حل کی امیدیں مزید کمزور ہو گئیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث دونوں ممالک کی فضائی حدود پہلے ہی بیشتر ایئرلائنز کے لیے بند ہیں، جس کے بعد یورپ اور ایشیا کے درمیان پروازوں کے لیے مشرق وسطیٰ کی فضائی راہداری کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔</p>
<p>اسرائیل، ایران، عراق اور اردن نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں جبکہ فلائٹ ریڈار کے نقشے پر طیارے ان علاقوں سے گریز کرتے دکھائی دیے۔ قطر ایئرویز کی بعض پروازیں کویت یا سعودی عرب کی فضائی حدود میں چکر لگانے کے بعد واپس قطر لوٹ گئیں۔</p>
<p>جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے دبئی کے لیے اور وہاں سے پروازیں معطل کر دیں اور تل ابیب، بیروت اور عمان کے روٹس معطل کر دیے۔ ایئر فرانس، آئبیریا اور وِز ایئر نے بھی تل ابیب اور دیگر متاثرہ شہروں کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں۔ روسی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا کہ روسی فضائی کمپنیوں نے ایران اور اسرائیل کے لیے پروازیں روک دی ہیں۔</p>
<p>کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات نے بھی حفاظتی اقدام کے طور پر بعض پروازیں معطل یا فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دیں۔ ورجن اٹلانٹک اور کے ایل ایم سمیت دیگر ایئرلائنز نے بھی اپنے روٹس میں تبدیلی یا عارضی معطلی کا اعلان کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283347</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Mar 2026 10:07:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/011005237123afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/011005237123afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
