<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283343/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اتوار کی صبح ان کی شہادت کی تصدیق کی، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا کہ خامنہ ای اس تنازع میں مارے گئے جو ان کی حکمرانی کی پہچان بن چکا تھا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مشترکہ فضائی کارروائی کے بعد خامنہ ای کی لاش برآمد ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس اور تسنیم کے مطابق ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;86 سالہ خامنہ ای گزشتہ 36 برس سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور مغربی دنیا کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے داخلی سطح پر اپوزیشن کو کچلنے اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت کے ذریعے ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی۔ حالیہ برسوں میں انہیں اپنی حکمرانی کے بدترین بحرانوں کا سامنا تھا، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ سے جاری کشیدگی کے باعث۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے آغاز میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں پر سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائی میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ مظاہرین ڈیتھ ٹو دی ڈکٹیٹر کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس سے قبل بھی 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کو سختی سے دبایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال اسرائیل اور پھر امریکہ کی جانب سے 12 روزہ فضائی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کئی کمانڈر اور خامنہ ای کے قریبی ساتھی مارے گئے تھے جبکہ جوہری اور میزائل تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ ان حملوں کا پس منظر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ تھا، جس کے بعد غزہ جنگ شروع ہوئی اور خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد خطے میں ایران کا اثر محدود ہو گیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے ایران سے بیلسٹک میزائل پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا، جسے خامنہ ای نے مسترد کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خامنہ ای نے اپنی طاقت کو مضبوط رکھنے کے لیے اسلامی انقلابی گارڈ کور اور بسیج فورس پر انحصار کیا۔ ان کی حکمرانی میں اہم فیصلے، خاص طور پر امریکہ سے متعلق پالیسی، ان کی منظوری کے بغیر ممکن نہ تھے۔ ابتدا میں انہیں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے جانشین کے طور پر کمزور سمجھا جاتا تھا، مگر وقت کے ساتھ انہوں نے ایک مضبوط سیکیورٹی ڈھانچہ قائم کر کے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے۔</strong></p>
<p>خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اتوار کی صبح ان کی شہادت کی تصدیق کی، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا کہ خامنہ ای اس تنازع میں مارے گئے جو ان کی حکمرانی کی پہچان بن چکا تھا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مشترکہ فضائی کارروائی کے بعد خامنہ ای کی لاش برآمد ہوئی۔</p>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس اور تسنیم کے مطابق ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔</p>
<p>86 سالہ خامنہ ای گزشتہ 36 برس سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور مغربی دنیا کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے داخلی سطح پر اپوزیشن کو کچلنے اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت کے ذریعے ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کی۔ حالیہ برسوں میں انہیں اپنی حکمرانی کے بدترین بحرانوں کا سامنا تھا، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ سے جاری کشیدگی کے باعث۔</p>
<p>رواں سال کے آغاز میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہروں پر سیکیورٹی فورسز کی سخت کارروائی میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ مظاہرین ڈیتھ ٹو دی ڈکٹیٹر کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس سے قبل بھی 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کو سختی سے دبایا گیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ سال اسرائیل اور پھر امریکہ کی جانب سے 12 روزہ فضائی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کئی کمانڈر اور خامنہ ای کے قریبی ساتھی مارے گئے تھے جبکہ جوہری اور میزائل تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ ان حملوں کا پس منظر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ تھا، جس کے بعد غزہ جنگ شروع ہوئی اور خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔</p>
<p>لبنان میں حزب اللہ کی کمزوری اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد خطے میں ایران کا اثر محدود ہو گیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے ایران سے بیلسٹک میزائل پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا، جسے خامنہ ای نے مسترد کر دیا تھا۔</p>
<p>خامنہ ای نے اپنی طاقت کو مضبوط رکھنے کے لیے اسلامی انقلابی گارڈ کور اور بسیج فورس پر انحصار کیا۔ ان کی حکمرانی میں اہم فیصلے، خاص طور پر امریکہ سے متعلق پالیسی، ان کی منظوری کے بغیر ممکن نہ تھے۔ ابتدا میں انہیں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے جانشین کے طور پر کمزور سمجھا جاتا تھا، مگر وقت کے ساتھ انہوں نے ایک مضبوط سیکیورٹی ڈھانچہ قائم کر کے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283343</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Mar 2026 09:16:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/010912401fd04ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/010912401fd04ae.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
