<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلاتِ زر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283329/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جولائی تا جنوری 2025-26 کے لیے ترسیلاتِ زر  کے اعدادوشمار جاری کردیے ہیں جن کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس بار تقریباً 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، مجموعی طور پر یہ رقم 20,850 ملین ڈالر کے مقابلے میں 23,201.6 ملین ڈالر رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلاتِ ز اور برآمدات غیر ملکی زرِ مبادلہ کمانے کے دو سب سے پسندیدہ ذرائع ہیں، ان میں سے کسی ایک میں بھی اضافہ تجارتی خسارے کو پورا کرنے اور مقامی کرنسی کو سہارا دینے کے لیے بیرونی قرضوں کی ضرورت کو کم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان طویل عرصے سے ایک بوم اینڈ بسٹ چکر کا شکار ہے جس کی وضاحت 10 اکتوبر 2024 کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ان دستاویزات میں کی گئی ہے جو موجودہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت  کی منظوری کے بعد جاری کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق: ’وقت کے ساتھ ساتھ معاشی عدم استحکام میں صرف اضافہ ہی ہوا ہے، جس کا گہرا تعلق پاکستان کے معاشی اتار چڑھاؤ کے نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مالیاتی اور مانیٹری مراعات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بار بار کی جانے والی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں، کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی پائیدار صلاحیت سے زیادہ بڑھ گئی جس کے نتیجے میں مہنگائی اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی جس کی ایک بڑی وجہ مستحکم شرحِ مبادلہ کے لیے مضبوط سیاسی ترجیح تھی۔ ہر آنے والی معاشی مندی نے پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت نے اس بوم اینڈ بسٹ چکر کو توڑنے کا عہد کیا تھا، اگرچہ آغاز میں اس نے وہی طریقہ کار اپنایا جو پچھلے چکروں کے دوران دیکھا گیا تھا؛ خاص طور پر ادائیگیوں کے توازن کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے لیے آئی ایم ایف سے مدد طلب کرنا اور انتظامی اقدامات (جیسے لیٹرز آف کریڈٹ یعنی ایل سیز کھولنے پر پابندی) نافذ کرنا۔ تاہم، حالیہ تجارتی اعداد و شمار خسارے میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں برآمدات 18.195 ملین ڈالر رہیں (جس میں سالانہ بنیادوں پر 7.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی) اور درآمدات 40.233 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں (جو سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پریشان کن صورتحال کے پیشِ نظر، وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے مراعات  کا اعلان کیا  جس میں صنعتوں کی جانب سے ادا کی جانے والی کراس سبسڈی کے خاتمے کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی، ویلنگ چارجز  کو 9 روپے سے کم کرنا، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے چاول کے برآمد کنندگان کے لیے سبسڈی کا اجرا اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح کو 7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنا شامل ہے (جو کہ کل 1,052 ارب روپے بنتے ہیں، جس میں سے 900 ارب روپے پہلے ہی استعمال کیے جا چکے ہیں)۔ یہ مراعات ٹیکس دہندگان کی قیمت پر دی جا رہی ہیں اور اگر ان کی پیشگی ضمانت حاصل نہیں کی گئی، تو ان کے لیے ای ایف ایف کے تحت آئی ایم ایف کی ٹیم سے منظوری درکار ہوگی۔ بزنس ریکارڈر نے ان مراعات کے لیے درکار فنڈز کے ذرائع اور ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں پہلے ہی وضاحت طلب کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مراعات کے باوجود تجارتی برادری مقامی صنعت کو درپیش بلند پیداواری لاگت  پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے جس کا موازنہ ان کے علاقائی حریفوں، خاص طور پر بھارت اور چین سے کیا جارہا ہے۔ وہ 10.5 فیصد شرحِ سود کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بھارت کے 5.25 فیصد اور چین کے 2.9 فیصد کے مقابلے میں انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ مزید برآں آئی ایم ایف کے ساتھ یوٹیلیٹیز (بجلی و گیس) کی مکمل قیمت وصول کرنے کے عہد کے باعث، انتظامیہ نے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.25 ٹریلین روپے کا قرض لیا ہے جو آج کی رائج شرحِ سود سے کہیں زیادہ مہنگے داموں حاصل کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی حکومت کی آمدنی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی پر بڑھتے انحصار کی وجہ سے اشیاء اور عوام، دونوں کے لیے مال برداری اور نقل و حمل کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے لفظوں میں اگرچہ صنعت کو مراعات دی گئی ہیں جنہیں آنے والے دنوں میں تیسرے جائزے کے مذاکرات شروع ہوتے ہی آئی ایم ایف کی ٹیم چیلنج کر سکتی ہے، لیکن علاقائی حریفوں کے مقابلے میں پیداواری لاگت  کا فرق اب بھی برقرار ہے، جو عالمی منڈیوں میں ہماری برآمدات کو غیر مسابقتی بنارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگر حالیہ بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (جس کا اطلاق اگلے سال سے ہوگا اور یہ پاکستانی برآمد کنندگان کو حاصل جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی برتری ختم کر دے گا) اور بھارتی اشیاء پر ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کرنے کے امریکی فیصلے (جبکہ پاکستانی اشیاء پر 19 فیصد ٹیرف لاگو ہے) کو مدِنظر رکھا جائے، تو ہمیں اپنی صنعتی حکمتِ عملی پر فوری نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ ہماری موجودہ حکمتِ عملی اب بھی موجودہ صنعتوں کو مالیاتی اور مانیٹری مراعات دینے تک ہی محدود ہے، وہ پالیسیاں جن کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہماری صنعت کو اب تک ابتدائی مرحلے میں ہی رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جولائی تا جنوری 2025-26 کے لیے ترسیلاتِ زر  کے اعدادوشمار جاری کردیے ہیں جن کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس بار تقریباً 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، مجموعی طور پر یہ رقم 20,850 ملین ڈالر کے مقابلے میں 23,201.6 ملین ڈالر رہی۔</strong></p>
<p>ترسیلاتِ ز اور برآمدات غیر ملکی زرِ مبادلہ کمانے کے دو سب سے پسندیدہ ذرائع ہیں، ان میں سے کسی ایک میں بھی اضافہ تجارتی خسارے کو پورا کرنے اور مقامی کرنسی کو سہارا دینے کے لیے بیرونی قرضوں کی ضرورت کو کم کردیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان طویل عرصے سے ایک بوم اینڈ بسٹ چکر کا شکار ہے جس کی وضاحت 10 اکتوبر 2024 کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ان دستاویزات میں کی گئی ہے جو موجودہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت  کی منظوری کے بعد جاری کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق: ’وقت کے ساتھ ساتھ معاشی عدم استحکام میں صرف اضافہ ہی ہوا ہے، جس کا گہرا تعلق پاکستان کے معاشی اتار چڑھاؤ کے نتائج اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مالیاتی اور مانیٹری مراعات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بار بار کی جانے والی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکیں، کیونکہ ملکی طلب پاکستان کی پائیدار صلاحیت سے زیادہ بڑھ گئی جس کے نتیجے میں مہنگائی اور زرمبادلہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی جس کی ایک بڑی وجہ مستحکم شرحِ مبادلہ کے لیے مضبوط سیاسی ترجیح تھی۔ ہر آنے والی معاشی مندی نے پاکستان کی پالیسی سازی کی ساکھ اور سرمایہ کاری کے رجحان کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p>موجودہ حکومت نے اس بوم اینڈ بسٹ چکر کو توڑنے کا عہد کیا تھا، اگرچہ آغاز میں اس نے وہی طریقہ کار اپنایا جو پچھلے چکروں کے دوران دیکھا گیا تھا؛ خاص طور پر ادائیگیوں کے توازن کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے لیے آئی ایم ایف سے مدد طلب کرنا اور انتظامی اقدامات (جیسے لیٹرز آف کریڈٹ یعنی ایل سیز کھولنے پر پابندی) نافذ کرنا۔ تاہم، حالیہ تجارتی اعداد و شمار خسارے میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں برآمدات 18.195 ملین ڈالر رہیں (جس میں سالانہ بنیادوں پر 7.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی) اور درآمدات 40.233 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں (جو سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں)۔</p>
<p>اس پریشان کن صورتحال کے پیشِ نظر، وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کے لیے مراعات  کا اعلان کیا  جس میں صنعتوں کی جانب سے ادا کی جانے والی کراس سبسڈی کے خاتمے کے ذریعے بجلی کے نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی، ویلنگ چارجز  کو 9 روپے سے کم کرنا، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے چاول کے برآمد کنندگان کے لیے سبسڈی کا اجرا اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح کو 7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنا شامل ہے (جو کہ کل 1,052 ارب روپے بنتے ہیں، جس میں سے 900 ارب روپے پہلے ہی استعمال کیے جا چکے ہیں)۔ یہ مراعات ٹیکس دہندگان کی قیمت پر دی جا رہی ہیں اور اگر ان کی پیشگی ضمانت حاصل نہیں کی گئی، تو ان کے لیے ای ایف ایف کے تحت آئی ایم ایف کی ٹیم سے منظوری درکار ہوگی۔ بزنس ریکارڈر نے ان مراعات کے لیے درکار فنڈز کے ذرائع اور ٹیکس دہندگان پر پڑنے والے بوجھ کے بارے میں پہلے ہی وضاحت طلب کر لی ہے۔</p>
<p>ان مراعات کے باوجود تجارتی برادری مقامی صنعت کو درپیش بلند پیداواری لاگت  پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے جس کا موازنہ ان کے علاقائی حریفوں، خاص طور پر بھارت اور چین سے کیا جارہا ہے۔ وہ 10.5 فیصد شرحِ سود کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بھارت کے 5.25 فیصد اور چین کے 2.9 فیصد کے مقابلے میں انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ مزید برآں آئی ایم ایف کے ساتھ یوٹیلیٹیز (بجلی و گیس) کی مکمل قیمت وصول کرنے کے عہد کے باعث، انتظامیہ نے گردشی قرضے کی ادائیگی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.25 ٹریلین روپے کا قرض لیا ہے جو آج کی رائج شرحِ سود سے کہیں زیادہ مہنگے داموں حاصل کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی حکومت کی آمدنی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی پر بڑھتے انحصار کی وجہ سے اشیاء اور عوام، دونوں کے لیے مال برداری اور نقل و حمل کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>دوسرے لفظوں میں اگرچہ صنعت کو مراعات دی گئی ہیں جنہیں آنے والے دنوں میں تیسرے جائزے کے مذاکرات شروع ہوتے ہی آئی ایم ایف کی ٹیم چیلنج کر سکتی ہے، لیکن علاقائی حریفوں کے مقابلے میں پیداواری لاگت  کا فرق اب بھی برقرار ہے، جو عالمی منڈیوں میں ہماری برآمدات کو غیر مسابقتی بنارہا ہے۔</p>
<p>اور اگر حالیہ بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (جس کا اطلاق اگلے سال سے ہوگا اور یہ پاکستانی برآمد کنندگان کو حاصل جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی برتری ختم کر دے گا) اور بھارتی اشیاء پر ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کرنے کے امریکی فیصلے (جبکہ پاکستانی اشیاء پر 19 فیصد ٹیرف لاگو ہے) کو مدِنظر رکھا جائے، تو ہمیں اپنی صنعتی حکمتِ عملی پر فوری نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ ہماری موجودہ حکمتِ عملی اب بھی موجودہ صنعتوں کو مالیاتی اور مانیٹری مراعات دینے تک ہی محدود ہے، وہ پالیسیاں جن کے بارے میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہماری صنعت کو اب تک ابتدائی مرحلے میں ہی رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283329</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Feb 2026 16:19:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/281618183fa128b.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/281618183fa128b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
