<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاشی زائچہ: پاکستان دہانے پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283328/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر قوموں کے بھی زائچے ہوتے، تو 2026 سے 2031 تک پاکستان کا زائچہ ستاروں میں نہیں لکھا جاتا۔ یہ قرضوں کے کھاتوں، مہنگائی کے چارٹس اور غربت کی لکیر میں درج ہوتا۔ سیاروں کی ترتیب پہلے ہی واضح ہے: سست رفتار نمو ایک کمزور مالیاتی مرکز کے گرد گردش کر رہی ہے، مہنگائی ملکی استحکام کو کھا رہی ہے اور پھیلتی ہوئی غربت کی پٹی لاکھوں افراد کو معاشی کمزوری کی طرف دھکیل رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش گوئی میں کوئی راز نہیں۔ عوامل قابلِ پیمائش ہیں۔ خطرات دستاویزی ہیں۔ نتائج قابلِ اندازہ ہیں۔ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان یا تو استحکام حاصل کر کے اصلاحات کرے گا، یا پھر بتدریج زوال کی جانب بڑھتا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) عارضی طور پر حالات کو سنبھال سکتا ہے اور میکرو استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان لیکویڈیٹی کو سخت یا نرم کر سکتا ہے۔ مگر یہ ادارے نمو پیدا نہیں کر سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استحکام کے پروگرام وقتی مہلت تو دیتے ہیں، مگر خوشحالی پیدا نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نہ پیداواری صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں، نہ سیاسی عزم اور نہ ہی ادارہ جاتی ہم آہنگی، یہ ذمہ داری براہِ راست ریاست پر عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ پانچ سال اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا پاکستان اپنے پرانے چکر، بحران، بیل آؤٹ، وقتی سکون اور پھر دوبارہ تنزلی، سے نکل پاتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اصلاحات سنجیدگی سے آگے بڑھیں تو غربت کی رفتار رک سکتی ہے اور بتدریج کمی آ سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ عمل سست پڑ گیا تو غربت صرف بڑھے گی نہیں بلکہ مستقل شکل اختیار کر لے گی۔ اور جب غربت جڑ پکڑ لیتی ہے تو معاشرے پہلے خاموشی سے دراڑوں کا شکار ہوتے ہیں اور پھر کھل کر بکھر جاتے ہیں۔ زائچہ واضح ہے: اب تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں—اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2031 تک پاکستان یا تو اپنی بنیادی کمزوریوں، محدود ٹیکس دائرہ، توانائی کی عدم کارکردگی، کمزور طرزِ حکمرانی اور اشرافیہ کی گرفت، کا سامنا کر چکا ہوگا، یا پھر اسے ایک زیادہ کمزور معیشت اور بکھرتی سماجی ہم آہنگی کا سامنا ہوگا۔ یہ پیش گوئی نہیں، سیدھا سادہ حساب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی صورتحال خود دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان اس پانچ سالہ مرحلے میں کم شرح نمو، بھاری قرضوں کی ادائیگی، نہ ہونے کے برابر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، محدود زرِ مبادلہ کے ذخائر اورکم ٹیکس بنیاد کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ مہنگائی وقتی طور پر کم ضرور ہو سکتی ہے، مگر بنیادی دباؤ، توانائی ٹیرف، کرنسی کی کمزوری اور بالواسطہ ٹیکس، برقرار رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اصلاحات نیم دلانہ رہیں تو آئندہ پانچ برسوں میں جی ڈی پی کی اوسط شرح نمو 2 سے 3 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، جو آبادی میں اضافے سے معمولی ہی زیادہ ہے۔ فی کس بنیاد پر یہ سیدھا جمود ہے۔ اور ایک نوجوان آبادی والے ملک میں جمود خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برسوں میں غربت آہستہ آہستہ بڑھی ہے، چاہے وہ سرکاری اعداد و شمار میں پوری طرح نظر نہ آئے، مگر گھریلو قوتِ خرید میں کمی، بڑھتے قرض اور ادھورے روزگار سے اس کے آثار واضح ہیں۔ محنت کش غریب، یعنی وہ افراد جو روزگار رکھنے کے باوجود حقیقی آمدن میں کمی کا شکار ہیں،ان کی تعداد حفاظتی پروگراموں کی رفتار سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ حکومتی غیر پیداواری اخراجات بدستور بے قابو ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگرام فوری سہارا تو دیتے ہیں، مگر نقد امداد پائیدار اور پیداواری روزگار کا متبادل نہیں بن سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 2027-28 تک مہنگائی کے حساب سے آمدن میں واضح بہتری نہ آئی تو غربت وقتی اتار چڑھاؤ کے بجائے ایک بلند سطح پر مستقل ہو سکتی ہے،اور یہی تبدیلی پاکستان کے سماجی معاہدے کی نوعیت بدل دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ہر سال اپنی لیبر فورس میں لاکھوں افراد کا اضافہ کر رہا ہے۔ آئندہ پانچ برس طے کریں گے کہ یہ آبادیاتی رجحان ایک موقع بنتا ہے یا عدم استحکام کا سبب۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں نمایاں اضافہ اور صنعتی تنوع کے بغیر روزگار کے مواقع زیادہ تر غیر رسمی خدمات اور کم پیداواری ریٹیل تک محدود رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مینوفیکچرنگ کی نمو توانائی پر زیادہ انحصار کرتی ہے اور پیداواری لاگت میں اچانک اضافوں سے متاثر ہوتی ہے، جبکہ زراعت کو موسمیاتی تغیر اور پانی کی قلت جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر روزگار کا ڈھانچہ کمزور رہا تو بیرونِ ملک ہجرت میں تیزی آئے گی۔ ترسیلاتِ زر وقتی سہارا تو دے سکتی ہیں، مگر برین ڈرین خاموشی سے ملک کی داخلی صلاحیت کو کھوکھلا کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال واضح ہے: کیا پاکستان بڑے پیمانے پر ہنرمند روزگار پیدا کر سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو وہ اپنی نوجوان افرادی قوت کو برآمد کرے گا، اور مایوسی درآمد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کی بنیادی ناکامی پالیسیوں کی کمی نہیں رہی، بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور اشرافیہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے سیاسی عزم کی کمی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کم رہی اور آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوتا رہا تو ترقیاتی اخراجات محدود ہی رہیں گے۔ صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے شعبے مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریونیو نظام میں اصلاحات اور غیر ہدفی سبسڈیز کے خاتمے کے بغیر مالی گنجائش مسلسل تنگ رہے گی۔ ہر بیرونی جھٹکا، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، موسمیاتی آفات یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معیشت کو دوبارہ ہنگامی مالی سہارا لینے پر مجبور کرے گا۔ مستقل استحکام کی کیفیت میں جکڑی معیشت پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کا شعبہ بدستور معاشی اور سیاسی کمزوری کی ایک بڑی لکیر بنا ہوا ہے۔ گردشی قرضہ، کیپیسٹی پیمنٹس اور درآمدی ایندھن پر انحصار صنعتی لاگت کو بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان نے قابلِ تجدید توانائی کو تیزی سے فروغ نہ دیا، ٹیرف کو معقول نہ بنایا اور غیر مؤثر معاہدوں پر نظرثانی نہ کی، تو توانائی بدستور ترقی پر بوجھ بنی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقت صرف بجلی تک محدود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی سطح پر ڈیجیٹلائزیشن غیر یکساں ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تاخیر، صوابدیدی فیصلوں اور بدعنوانی کا شکار رہتی ہیں۔ شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامی نظام کے بغیر سرمایہ کاری محتاط ہی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان آئندہ دو برسوں میں ٹیکس اصلاحات، ریونیو کلیکشن کی ڈیجیٹلائزیشن، توانائی قیمتوں کی درست ترتیب اور برآمدات پر مبنی شعبوں کو ترجیح دینے میں سنجیدگی دکھائے، تو 2029-30 تک شرح نمو بتدریج 4 سے 5 فیصد تک بحال ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی سروسز، ویلیو ایڈڈ زراعت، فارماسیوٹیکلز اور لائٹ انجینئرنگ میں حکمتِ عملی کے تحت سرمایہ کاری برآمدات کو زیادہ مضبوط بنا سکتی ہے، جبکہ علاقائی منڈیوں سے تجارتی روابط خطرات کو متنوع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اداروں میں اصلاحات اور شفاف نجکاری یا تنظیمِ نو مالی خسارے کو کم کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منظرنامے میں 2031 تک غربت میں محدود مگر معنی خیز کمی ممکن ہے، اتنی کہ اعتماد بحال ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر اصلاحات تعطل کا شکار رہیں اور سیاسی ترجیحات معاشی نظم و ضبط پر حاوی رہیں، تو پاکستان بتدریج زوال کے دائرے میں پھنسا رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح نمو 2 فیصد کے آس پاس جھولتی رہے، مہنگائی وقفے وقفے سے بڑھتی رہے، بیرونی قرض دہندگان پر انحصار برقرار رہے، ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ اور ادارہ جاتی ساکھ میں بتدریج کمی—یہ سب اسی منظرنامے کا حصہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی صورت میں غربت میں اچانک اضافہ نہیں ہوگا، مگر اس میں کمی بھی نہیں آئے گی، بلکہ یہ ایک معمول بن جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غربت کا معمول بن جانا کسی بحران سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ یہ فوری اصلاحات کے بجائے خاموش مایوسی کو جنم دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر، آئندہ پانچ برسوں کا دارومدار عالمی حالات سے زیادہ طرزِ حکمرانی کی یکسوئی پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قوموں کا زائچہ ستاروں میں نہیں لکھا جاتا، یہ بجٹ، پالیسیوں اور سیاسی جرات میں تشکیل پاتا ہے۔ پانچ سال بعد فیصلہ واضح ہوگا: یا پاکستان نے اپنی ساختی کمزوریوں کا سامنا کیا، یا غربت کو اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگر قوموں کے بھی زائچے ہوتے، تو 2026 سے 2031 تک پاکستان کا زائچہ ستاروں میں نہیں لکھا جاتا۔ یہ قرضوں کے کھاتوں، مہنگائی کے چارٹس اور غربت کی لکیر میں درج ہوتا۔ سیاروں کی ترتیب پہلے ہی واضح ہے: سست رفتار نمو ایک کمزور مالیاتی مرکز کے گرد گردش کر رہی ہے، مہنگائی ملکی استحکام کو کھا رہی ہے اور پھیلتی ہوئی غربت کی پٹی لاکھوں افراد کو معاشی کمزوری کی طرف دھکیل رہی ہے۔</strong></p>
<p>اس پیش گوئی میں کوئی راز نہیں۔ عوامل قابلِ پیمائش ہیں۔ خطرات دستاویزی ہیں۔ نتائج قابلِ اندازہ ہیں۔ آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان یا تو استحکام حاصل کر کے اصلاحات کرے گا، یا پھر بتدریج زوال کی جانب بڑھتا جائے گا۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) عارضی طور پر حالات کو سنبھال سکتا ہے اور میکرو استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان لیکویڈیٹی کو سخت یا نرم کر سکتا ہے۔ مگر یہ ادارے نمو پیدا نہیں کر سکتے۔</p>
<p>استحکام کے پروگرام وقتی مہلت تو دیتے ہیں، مگر خوشحالی پیدا نہیں کرتے۔</p>
<p>یہ نہ پیداواری صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں، نہ سیاسی عزم اور نہ ہی ادارہ جاتی ہم آہنگی، یہ ذمہ داری براہِ راست ریاست پر عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>آئندہ پانچ سال اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا پاکستان اپنے پرانے چکر، بحران، بیل آؤٹ، وقتی سکون اور پھر دوبارہ تنزلی، سے نکل پاتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>اگر اصلاحات سنجیدگی سے آگے بڑھیں تو غربت کی رفتار رک سکتی ہے اور بتدریج کمی آ سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ عمل سست پڑ گیا تو غربت صرف بڑھے گی نہیں بلکہ مستقل شکل اختیار کر لے گی۔ اور جب غربت جڑ پکڑ لیتی ہے تو معاشرے پہلے خاموشی سے دراڑوں کا شکار ہوتے ہیں اور پھر کھل کر بکھر جاتے ہیں۔ زائچہ واضح ہے: اب تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں—اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔</p>
<p>2031 تک پاکستان یا تو اپنی بنیادی کمزوریوں، محدود ٹیکس دائرہ، توانائی کی عدم کارکردگی، کمزور طرزِ حکمرانی اور اشرافیہ کی گرفت، کا سامنا کر چکا ہوگا، یا پھر اسے ایک زیادہ کمزور معیشت اور بکھرتی سماجی ہم آہنگی کا سامنا ہوگا۔ یہ پیش گوئی نہیں، سیدھا سادہ حساب ہے۔</p>
<p>ابتدائی صورتحال خود دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان اس پانچ سالہ مرحلے میں کم شرح نمو، بھاری قرضوں کی ادائیگی، نہ ہونے کے برابر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، محدود زرِ مبادلہ کے ذخائر اورکم ٹیکس بنیاد کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ مہنگائی وقتی طور پر کم ضرور ہو سکتی ہے، مگر بنیادی دباؤ، توانائی ٹیرف، کرنسی کی کمزوری اور بالواسطہ ٹیکس، برقرار رہیں گے۔</p>
<p>اگر اصلاحات نیم دلانہ رہیں تو آئندہ پانچ برسوں میں جی ڈی پی کی اوسط شرح نمو 2 سے 3 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، جو آبادی میں اضافے سے معمولی ہی زیادہ ہے۔ فی کس بنیاد پر یہ سیدھا جمود ہے۔ اور ایک نوجوان آبادی والے ملک میں جمود خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ برسوں میں غربت آہستہ آہستہ بڑھی ہے، چاہے وہ سرکاری اعداد و شمار میں پوری طرح نظر نہ آئے، مگر گھریلو قوتِ خرید میں کمی، بڑھتے قرض اور ادھورے روزگار سے اس کے آثار واضح ہیں۔ محنت کش غریب، یعنی وہ افراد جو روزگار رکھنے کے باوجود حقیقی آمدن میں کمی کا شکار ہیں،ان کی تعداد حفاظتی پروگراموں کی رفتار سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ حکومتی غیر پیداواری اخراجات بدستور بے قابو ہیں۔</p>
<p>بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگرام فوری سہارا تو دیتے ہیں، مگر نقد امداد پائیدار اور پیداواری روزگار کا متبادل نہیں بن سکتی۔</p>
<p>اگر 2027-28 تک مہنگائی کے حساب سے آمدن میں واضح بہتری نہ آئی تو غربت وقتی اتار چڑھاؤ کے بجائے ایک بلند سطح پر مستقل ہو سکتی ہے،اور یہی تبدیلی پاکستان کے سماجی معاہدے کی نوعیت بدل دے گی۔</p>
<p>پاکستان ہر سال اپنی لیبر فورس میں لاکھوں افراد کا اضافہ کر رہا ہے۔ آئندہ پانچ برس طے کریں گے کہ یہ آبادیاتی رجحان ایک موقع بنتا ہے یا عدم استحکام کا سبب۔</p>
<p>برآمدات میں نمایاں اضافہ اور صنعتی تنوع کے بغیر روزگار کے مواقع زیادہ تر غیر رسمی خدمات اور کم پیداواری ریٹیل تک محدود رہیں گے۔</p>
<p>مینوفیکچرنگ کی نمو توانائی پر زیادہ انحصار کرتی ہے اور پیداواری لاگت میں اچانک اضافوں سے متاثر ہوتی ہے، جبکہ زراعت کو موسمیاتی تغیر اور پانی کی قلت جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔</p>
<p>اگر روزگار کا ڈھانچہ کمزور رہا تو بیرونِ ملک ہجرت میں تیزی آئے گی۔ ترسیلاتِ زر وقتی سہارا تو دے سکتی ہیں، مگر برین ڈرین خاموشی سے ملک کی داخلی صلاحیت کو کھوکھلا کر دے گا۔</p>
<p>اصل سوال واضح ہے: کیا پاکستان بڑے پیمانے پر ہنرمند روزگار پیدا کر سکتا ہے؟ اگر نہیں، تو وہ اپنی نوجوان افرادی قوت کو برآمد کرے گا، اور مایوسی درآمد کرے گا۔</p>
<p>ریاست کی بنیادی ناکامی پالیسیوں کی کمی نہیں رہی، بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور اشرافیہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے سیاسی عزم کی کمی رہی ہے۔</p>
<p>اگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کم رہی اور آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوتا رہا تو ترقیاتی اخراجات محدود ہی رہیں گے۔ صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر جیسے شعبے مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکیں گے۔</p>
<p>ریونیو نظام میں اصلاحات اور غیر ہدفی سبسڈیز کے خاتمے کے بغیر مالی گنجائش مسلسل تنگ رہے گی۔ ہر بیرونی جھٹکا، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، موسمیاتی آفات یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معیشت کو دوبارہ ہنگامی مالی سہارا لینے پر مجبور کرے گا۔ مستقل استحکام کی کیفیت میں جکڑی معیشت پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔</p>
<p>توانائی کا شعبہ بدستور معاشی اور سیاسی کمزوری کی ایک بڑی لکیر بنا ہوا ہے۔ گردشی قرضہ، کیپیسٹی پیمنٹس اور درآمدی ایندھن پر انحصار صنعتی لاگت کو بڑھاتے ہیں۔</p>
<p>اگر پاکستان نے قابلِ تجدید توانائی کو تیزی سے فروغ نہ دیا، ٹیرف کو معقول نہ بنایا اور غیر مؤثر معاہدوں پر نظرثانی نہ کی، تو توانائی بدستور ترقی پر بوجھ بنی رہے گی۔</p>
<p>مسابقت صرف بجلی تک محدود نہیں۔</p>
<p>صوبائی سطح پر ڈیجیٹلائزیشن غیر یکساں ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تاخیر، صوابدیدی فیصلوں اور بدعنوانی کا شکار رہتی ہیں۔ شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامی نظام کے بغیر سرمایہ کاری محتاط ہی رہے گی۔</p>
<p>اگر پاکستان آئندہ دو برسوں میں ٹیکس اصلاحات، ریونیو کلیکشن کی ڈیجیٹلائزیشن، توانائی قیمتوں کی درست ترتیب اور برآمدات پر مبنی شعبوں کو ترجیح دینے میں سنجیدگی دکھائے، تو 2029-30 تک شرح نمو بتدریج 4 سے 5 فیصد تک بحال ہو سکتی ہے۔</p>
<p>آئی ٹی سروسز، ویلیو ایڈڈ زراعت، فارماسیوٹیکلز اور لائٹ انجینئرنگ میں حکمتِ عملی کے تحت سرمایہ کاری برآمدات کو زیادہ مضبوط بنا سکتی ہے، جبکہ علاقائی منڈیوں سے تجارتی روابط خطرات کو متنوع کریں گے۔</p>
<p>سرکاری اداروں میں اصلاحات اور شفاف نجکاری یا تنظیمِ نو مالی خسارے کو کم کر سکتی ہے۔</p>
<p>اس منظرنامے میں 2031 تک غربت میں محدود مگر معنی خیز کمی ممکن ہے، اتنی کہ اعتماد بحال ہو سکے۔</p>
<p>لیکن اگر اصلاحات تعطل کا شکار رہیں اور سیاسی ترجیحات معاشی نظم و ضبط پر حاوی رہیں، تو پاکستان بتدریج زوال کے دائرے میں پھنسا رہ سکتا ہے۔</p>
<p>شرح نمو 2 فیصد کے آس پاس جھولتی رہے، مہنگائی وقفے وقفے سے بڑھتی رہے، بیرونی قرض دہندگان پر انحصار برقرار رہے، ترسیلاتِ زر پر بڑھتا ہوا انحصار، غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ اور ادارہ جاتی ساکھ میں بتدریج کمی—یہ سب اسی منظرنامے کا حصہ ہوں گے۔</p>
<p>ایسی صورت میں غربت میں اچانک اضافہ نہیں ہوگا، مگر اس میں کمی بھی نہیں آئے گی، بلکہ یہ ایک معمول بن جائے گی۔</p>
<p>غربت کا معمول بن جانا کسی بحران سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ یہ فوری اصلاحات کے بجائے خاموش مایوسی کو جنم دیتا ہے۔</p>
<p>بالآخر، آئندہ پانچ برسوں کا دارومدار عالمی حالات سے زیادہ طرزِ حکمرانی کی یکسوئی پر ہوگا۔</p>
<p>قوموں کا زائچہ ستاروں میں نہیں لکھا جاتا، یہ بجٹ، پالیسیوں اور سیاسی جرات میں تشکیل پاتا ہے۔ پانچ سال بعد فیصلہ واضح ہوگا: یا پاکستان نے اپنی ساختی کمزوریوں کا سامنا کیا، یا غربت کو اپنے مستقبل کی سمت متعین کرنے دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283328</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Feb 2026 16:45:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/28160725ba12b18.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/28160725ba12b18.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
