<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی وزیرِ تجارت سےٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کی ملاقات، برآمدی نمو کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283313/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی برآمدات پر مبنی صنعت نے پیشگی ٹیکسوں  کے غیر ضروری بوجھ، بجلی و گیس کے مہنگے نرخ اور ایکسپورٹ فنانس اسکییم (ای ایف سی) کے تحت ناکافی کریڈٹ لمٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی وزیرِ تجارت سے تعاون مانگ لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے چیئرمینوں اور نمائندوں کے ساتھ ہائبرڈ موڈ  میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کا مقصد ویلیو ایڈڈ ملبوسات  اور ٹیکسٹائل  شعبے کو درپیش کلیدی چیلنجوں کا تفصیلی جائزہ لینا اور عالمی سطح پر اس کی مسابقت کو مضبوط بنانے اور برآمدی نمو  کو تیز کرنے کے لیے تزویراتی اقدامات وضع کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی نمائندوں نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی جس میں برآمدات میں وسعت کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان رکاوٹوں میں پیشگی ٹیکسوں کا بھاری بوجھ، بنیادی ڈھانچے کی کمی کے ساتھ  توانائی کے بڑھے نرخ، ریفنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث لیکویڈٹی کے مسلسل مسائل، عارضی درآمدی اسکیم کے تحت عائد پابندیاں بشمول استعمال کی مدت میں کمی، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت قرض کی ناکافی حد جس سے کاروباری سرمائے تک رسائی محدود ہو رہی ہے، اور پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں جو برآمدی نمو کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے حکومت کے تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل شعبے کو پاکستان کی برآمدات اور روزگار کی فراہمی کا سنگِ میل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکسٹائل کی سپلائی چین مکمل طور پر مربوط  ہے جو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت اس شعبے کے استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تجارت نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایات کے مطابق، ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے جو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت محدود استعمال کے ادوار کے مسئلے کا جائزہ لے گی اور ان رکاوٹوں کے فوری حل کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے نمائندوں نے تجویز پیش کی کہ اسٹیٹ بینک  اور ایگزم  بینک واضح ریگولیٹری ہدایات جاری کریں تاکہ کمرشل بینکوں کی جانب سے غیر ملکی ماسٹر لیٹر آف کریڈٹ کو بیک ٹو بیک ایل سیز کھولنے کے لیے بطور ضمانت  یکساں طور پر قبول کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس اقدام سے برآمد کنندگان کی کاروباری سرمائے  تک رسائی بہتر ہوگی اور وہ عالمی سطح پر کاروبار کے مزید مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ویلیو ایڈڈ برآمد کنندگان کے نمائندوں کو سمیڈا بورڈ اور دیگر متعلقہ فورمز میں شامل کرنے کی بھی حمایت کی تاکہ شمولیت کو فروغ دیا جا سکے اور پالیسی سازی کے عمل میں فعال شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے برآمد کنندگان بشمول مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے وزارتِ تجارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ بیک ٹو بیک ایل سیز سے متعلق مسائل کو متعلقہ حکام کے ساتھ فعال طور پر اٹھایا جائے گا تاکہ ان کے ہموار اور زیادہ مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی برآمدات پر مبنی صنعت نے پیشگی ٹیکسوں  کے غیر ضروری بوجھ، بجلی و گیس کے مہنگے نرخ اور ایکسپورٹ فنانس اسکییم (ای ایف سی) کے تحت ناکافی کریڈٹ لمٹ کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی وزیرِ تجارت سے تعاون مانگ لیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان ٹیکسٹائل کونسل ، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپ ہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن  کے چیئرمینوں اور نمائندوں کے ساتھ ہائبرڈ موڈ  میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔</p>
<p>وزارتِ تجارت میں منعقد ہونے والے اس اجلاس کا مقصد ویلیو ایڈڈ ملبوسات  اور ٹیکسٹائل  شعبے کو درپیش کلیدی چیلنجوں کا تفصیلی جائزہ لینا اور عالمی سطح پر اس کی مسابقت کو مضبوط بنانے اور برآمدی نمو  کو تیز کرنے کے لیے تزویراتی اقدامات وضع کرنا تھا۔</p>
<p>صنعتی نمائندوں نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی جس میں برآمدات میں وسعت کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان رکاوٹوں میں پیشگی ٹیکسوں کا بھاری بوجھ، بنیادی ڈھانچے کی کمی کے ساتھ  توانائی کے بڑھے نرخ، ریفنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث لیکویڈٹی کے مسلسل مسائل، عارضی درآمدی اسکیم کے تحت عائد پابندیاں بشمول استعمال کی مدت میں کمی، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت قرض کی ناکافی حد جس سے کاروباری سرمائے تک رسائی محدود ہو رہی ہے، اور پالیسیوں میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں جو برآمدی نمو کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔</p>
<p>جام کمال خان نے حکومت کے تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ ملبوسات اور ٹیکسٹائل شعبے کو پاکستان کی برآمدات اور روزگار کی فراہمی کا سنگِ میل قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکسٹائل کی سپلائی چین مکمل طور پر مربوط  ہے جو ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت اس شعبے کے استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔</p>
<p>وزیرِ تجارت نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایات کے مطابق، ایک خصوصی تکنیکی کمیٹی پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے جو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت محدود استعمال کے ادوار کے مسئلے کا جائزہ لے گی اور ان رکاوٹوں کے فوری حل کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔</p>
<p>مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے نمائندوں نے تجویز پیش کی کہ اسٹیٹ بینک  اور ایگزم  بینک واضح ریگولیٹری ہدایات جاری کریں تاکہ کمرشل بینکوں کی جانب سے غیر ملکی ماسٹر لیٹر آف کریڈٹ کو بیک ٹو بیک ایل سیز کھولنے کے لیے بطور ضمانت  یکساں طور پر قبول کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس اقدام سے برآمد کنندگان کی کاروباری سرمائے  تک رسائی بہتر ہوگی اور وہ عالمی سطح پر کاروبار کے مزید مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوسکیں گے۔</p>
<p>انہوں نے ویلیو ایڈڈ برآمد کنندگان کے نمائندوں کو سمیڈا بورڈ اور دیگر متعلقہ فورمز میں شامل کرنے کی بھی حمایت کی تاکہ شمولیت کو فروغ دیا جا سکے اور پالیسی سازی کے عمل میں فعال شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے برآمد کنندگان بشمول مائیکرو، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے وزارتِ تجارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ بیک ٹو بیک ایل سیز سے متعلق مسائل کو متعلقہ حکام کے ساتھ فعال طور پر اٹھایا جائے گا تاکہ ان کے ہموار اور زیادہ مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283313</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Feb 2026 11:49:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2811454820c5bf3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2811454820c5bf3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
