<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:09:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان کشیدگی: گزشتہ چار ماہ کا ایک جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283300/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک افغان تعلقات میں گزشتہ چند ماہ سے شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے، جس کا نتیجہ جمعہ کی علی الصبح افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد اسلام آباد کی جانب سے آپریشن غضبِ حق کے آغاز کی صورت میں نکلا۔ سیکیورٹی کے پے در پے واقعات اور افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں پر اسلام آباد کی تشویش کے باعث یہ تناؤ بڑھتا گیا۔ یہاں ان اہم واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جو افغان طالبان کے خلاف پاکستان کے اس  فوری اور موثر جواب کا سبب بنے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;11 اکتوبر 2025&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے سرحدی علاقوں میں شہریوں کو ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گردانہ خطرات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہیں۔ تناؤ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب افغان افواج نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد طالبان و دیگر دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پاک فوج نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور کابل میں دہشت گردوں کے کیمپوں اور سرحدی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔دونوں فریقین نے بعد ازاں 48 گھنٹے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے اپنی سرحد بھی بند کر دی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;19 اکتوبر 2025&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوحہ، قطر میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26 اکتوبر 2025&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان امن چاہتا ہے، لیکن استنبول مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کا مطلب  کھلی جنگ ہوگا۔ ان مذاکرات کا مقصد دوحہ جنگ بندی کو طویل مدت تک نافذ کرنے کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;14 نومبر 2025&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات نے کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور ہدایات افغانستان سے دی گئیں اور اس میں وہاں مقیم  خوارج نیٹ ورک کے دہشت گرد مکمل طور پر ملوث تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;28 نومبر 2025&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت کو موثر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین سے حملے جاری ہیں۔ اسلام آباد نے واضح کیا کہ یہ دو ریاستوں کے درمیان روایتی جنگ بندی نہیں تھی بلکہ ایک مفاہمت تھی کہ افغان سرپرستی میں کام کرنے والے گروہ پاکستان میں حملے بند کر دیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر افغان شہری مسلسل حملے کر رہے ہیں تو ہم جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہو سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;19 فروری 2026&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اسلام آباد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے اندر فضائی آپریشن شروع کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ انہوں نے علاقائی عدم استحکام کو ان فیصلوں کی قیمت قرار دیا جو 1980 کی دہائی اور نائن الیون کے بعد کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;22 فروری 2026&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کہا کہ اس کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق  اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں رمضان المبارک کے دوران ہونے والے خودکش حملوں کے قطعی ثبوت موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر  خوارج نے کیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک افغان تعلقات میں گزشتہ چند ماہ سے شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے، جس کا نتیجہ جمعہ کی علی الصبح افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے بعد اسلام آباد کی جانب سے آپریشن غضبِ حق کے آغاز کی صورت میں نکلا۔ سیکیورٹی کے پے در پے واقعات اور افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں پر اسلام آباد کی تشویش کے باعث یہ تناؤ بڑھتا گیا۔ یہاں ان اہم واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جو افغان طالبان کے خلاف پاکستان کے اس  فوری اور موثر جواب کا سبب بنے۔</strong></p>
<p><strong>11 اکتوبر 2025</strong></p>
<p>پاکستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے سرحدی علاقوں میں شہریوں کو ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گردانہ خطرات سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہیں۔ تناؤ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب افغان افواج نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید اور 200 سے زائد طالبان و دیگر دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ پاک فوج نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور کابل میں دہشت گردوں کے کیمپوں اور سرحدی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔دونوں فریقین نے بعد ازاں 48 گھنٹے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے اپنی سرحد بھی بند کر دی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردوں کی آمد و رفت کو روکا جا سکے۔</p>
<p><strong>19 اکتوبر 2025</strong></p>
<p>دوحہ، قطر میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام پر اتفاق کیا۔</p>
<p><strong>26 اکتوبر 2025</strong></p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان امن چاہتا ہے، لیکن استنبول مذاکرات میں کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کا مطلب  کھلی جنگ ہوگا۔ ان مذاکرات کا مقصد دوحہ جنگ بندی کو طویل مدت تک نافذ کرنے کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔</p>
<p><strong>14 نومبر 2025</strong></p>
<p>وزارتِ اطلاعات نے کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی تفصیلی رپورٹ جاری کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور ہدایات افغانستان سے دی گئیں اور اس میں وہاں مقیم  خوارج نیٹ ورک کے دہشت گرد مکمل طور پر ملوث تھے۔</p>
<p><strong>28 نومبر 2025</strong></p>
<p>پاکستان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمت کو موثر نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین سے حملے جاری ہیں۔ اسلام آباد نے واضح کیا کہ یہ دو ریاستوں کے درمیان روایتی جنگ بندی نہیں تھی بلکہ ایک مفاہمت تھی کہ افغان سرپرستی میں کام کرنے والے گروہ پاکستان میں حملے بند کر دیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگر افغان شہری مسلسل حملے کر رہے ہیں تو ہم جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پرامید نہیں ہو سکتے۔</p>
<p><strong>19 فروری 2026</strong></p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اسلام آباد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان کے اندر فضائی آپریشن شروع کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ انہوں نے علاقائی عدم استحکام کو ان فیصلوں کی قیمت قرار دیا جو 1980 کی دہائی اور نائن الیون کے بعد کیے گئے تھے۔</p>
<p><strong>22 فروری 2026</strong></p>
<p>پاکستان نے کہا کہ اس کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق  اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں رمضان المبارک کے دوران ہونے والے خودکش حملوں کے قطعی ثبوت موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر  خوارج نے کیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283300</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 17:50:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/2717402950d7e3a.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/2717402950d7e3a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
