<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول: چیلنجز اور کوششیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283281/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین شیخ فیصل بن قاسم الثانی کی قیادت میں قطری بزنس مین ایسوسی ایشن (کیو بی اے) کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پھر کاروباری شخصیات کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی، جن میں انفرااسٹرکچر، زراعت، لاجسٹکس، توانائی، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ سیکٹر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے بارہا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول اس کا ترجیحی گروتھ ماڈل (ترقیاتی نمونہ) ہے اور اسی مقصد کے لیے 20 جون 2023 کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی۔ اس کونسل کو وفاقی اور شعبہ جاتی سطح پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں عسکری قیادت (جو کہ جائز سیکیورٹی خدشات کے باعث کلیدی اہمیت رکھتی ہے) اور وفاقی و صوبائی سطح پر سول انتظامیہ کی اعلیٰ ترین نمائندگی شامل ہے تاکہ تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اب تک کیے گئے غیر ملکی دوروں کی تعداد ان کے پیشروؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 2022 میں 13 دورے، 2023 میں 10 اور 2024 میں 13 دورے کیے۔ واضح رہے کہ 12 اگست 2023 سے 4 مارچ 2024 تک نگران حکومت قائم تھی۔ اس کے بعد 2025 میں دوروں کی تعداد 25 رہی جبکہ جنوری سے فروری 2026 تک وہ پانچ دورے کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دوروں کا محور مختلف مقاصد رہے ہیں جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول، بین الاقوامی فورمز میں شرکت اور قرضوں کے رول اوورز، بجٹ یا مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت کا حصول شامل ہے (جس کا تخمینہ رواں سال کے لیے تقریباً 20 ارب ڈالر لگایا گیا ہے)۔ یہ مالی معاونت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے جاری پروگرام کے تحت رکھی گئی ایک شرط ہے۔ مزید برآں، حال ہی میں واحد ایٹمی طاقت حامل مسلم ملک ہونے کے ناطے، ان دوروں کا مقصد ان مسلم ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھروسہ دلانا بھی ہے جو اسرائیل کے واضح غلبہ پسندانہ علاقائی عزائم پر تشویش میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے 25 سے 30 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی متعدد مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے ہیں، لیکن اس کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، جولائی تا جنوری 2025-26 کے دوران کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 51 فیصد کی بھاری کمی واقع ہوئی ہے، یعنی یہ 1429 ملین ڈالر سے کم ہو کر صرف 694 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ بالکل واضح ہے: غیر ملکی سرمایہ کار خطرے سے پاک سیاسی اور معاشی سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بدقسمتی سے یہ خطرات بدستور بلند سطح پر ہیں۔ اس تناظر میں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تینوں بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کو کبھی بھی انویسٹمنٹ گریڈ (سرمایہ کاری کے لیے موزوں درجہ) نہیں دیا، بلکہ ہماری ریٹنگ ہمیشہ غیر سرمایہ کاری گریڈ سے لے کر انتہائی قیاس آرائی پر مبنی اور جنک اسٹیٹس(ناقص ترین درجے) کے درمیان ہی گھومتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سچ ہے کہ میکرو اکنامک ڈیٹا میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے جس میں جی ڈی پی اور بڑے پیمانے کی صنعتوں  کی ترقی واضح طور پر بہتر نظر آرہی ہے لیکن اس کے باوجود اسے 3 محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے: (1) بڑے پیمانے کی صنعتوں  کی جانب سے انقباضی (سخت) پالیسیوں کو واپس لینے کا مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے، جس کی مثال کثیر القومی کمپنیوں  کے حالیہ خروج اور ملکی کارخانوں کی بندش سے دی جارہی ہے جو بگڑتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں (2) آئی ایم ایف سے کیے گئے اس وعدے کے باعث کہ پیداواری شعبوں کو ترغیبات نہیں دی جائیں گی، حکومت ماضی کی طرح مالی اور مانیٹری مراعات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بشمول زرعی اجناس، پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس اور بلند ٹیرف و نان ٹیرف تحفظ نے مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں پلڑا جھکا کر مسابقت کے میدان کو غیر مساوی کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام مراعات اور تعاون کے باوجود بزنس سیکٹر (کاروباری شعبہ) معاشی ترقی کا انجن بننے میں ناکام رہا ہے اور ان ترغیبات نے آخرکار مقابلے کی فضا کو کمزور کیا اور وسائل کو دائمی طور پر غیر فعال (بشمول مستقل طور پر نو آموز) صنعتوں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے اور (3) آئی ایم ایف کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ان شعبوں کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی  کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار (جی ایف ایس) کی تفصیلات اور ان کی ساکھ کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ (حکومتی) دعووں کے برعکس معیشت بدستور کمزور اور نازک ہے اور اس صورتحال کو ان شدید انقباضی (سخت) مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں نے مزید بگاڑ دیا ہے جن پر حکومت آئی ایم ایف کے احکامات  کے مطابق عمل پیرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک حکومت ایک پھلتی پھولتی اور مستحکم معیشت فراہم نہیں کرتی، تب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول ایک خواب ہی رہے گا؛ تاہم ملک کی بہتر ہوتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی  صورتحال کے پیشِ نظر، شاید آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ مختصر مدت کے لیے قرضوں کی معافی کی درخواست کی جائے جس سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر موجودہ بھاری انحصار کم ہو کر معیشت کو استحکام ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین شیخ فیصل بن قاسم الثانی کی قیادت میں قطری بزنس مین ایسوسی ایشن (کیو بی اے) کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک اشاریوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی۔</strong></p>
<p>انہوں نے پھر کاروباری شخصیات کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی، جن میں انفرااسٹرکچر، زراعت، لاجسٹکس، توانائی، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ سیکٹر شامل ہیں۔</p>
<p>حکومت نے بارہا اس بات کا اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول اس کا ترجیحی گروتھ ماڈل (ترقیاتی نمونہ) ہے اور اسی مقصد کے لیے 20 جون 2023 کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی گئی۔ اس کونسل کو وفاقی اور شعبہ جاتی سطح پر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں عسکری قیادت (جو کہ جائز سیکیورٹی خدشات کے باعث کلیدی اہمیت رکھتی ہے) اور وفاقی و صوبائی سطح پر سول انتظامیہ کی اعلیٰ ترین نمائندگی شامل ہے تاکہ تیز رفتار فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اب تک کیے گئے غیر ملکی دوروں کی تعداد ان کے پیشروؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے: 2022 میں 13 دورے، 2023 میں 10 اور 2024 میں 13 دورے کیے۔ واضح رہے کہ 12 اگست 2023 سے 4 مارچ 2024 تک نگران حکومت قائم تھی۔ اس کے بعد 2025 میں دوروں کی تعداد 25 رہی جبکہ جنوری سے فروری 2026 تک وہ پانچ دورے کر چکے ہیں۔</p>
<p>ان دوروں کا محور مختلف مقاصد رہے ہیں جن میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول، بین الاقوامی فورمز میں شرکت اور قرضوں کے رول اوورز، بجٹ یا مختلف منصوبوں کے لیے مالی معاونت کا حصول شامل ہے (جس کا تخمینہ رواں سال کے لیے تقریباً 20 ارب ڈالر لگایا گیا ہے)۔ یہ مالی معاونت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  کے جاری پروگرام کے تحت رکھی گئی ایک شرط ہے۔ مزید برآں، حال ہی میں واحد ایٹمی طاقت حامل مسلم ملک ہونے کے ناطے، ان دوروں کا مقصد ان مسلم ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا بھروسہ دلانا بھی ہے جو اسرائیل کے واضح غلبہ پسندانہ علاقائی عزائم پر تشویش میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>اب تک شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے 25 سے 30 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی متعدد مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے ہیں، لیکن اس کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، جولائی تا جنوری 2025-26 کے دوران کل غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 51 فیصد کی بھاری کمی واقع ہوئی ہے، یعنی یہ 1429 ملین ڈالر سے کم ہو کر صرف 694 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔</p>
<p>اس کی وجہ بالکل واضح ہے: غیر ملکی سرمایہ کار خطرے سے پاک سیاسی اور معاشی سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بدقسمتی سے یہ خطرات بدستور بلند سطح پر ہیں۔ اس تناظر میں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تینوں بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کو کبھی بھی انویسٹمنٹ گریڈ (سرمایہ کاری کے لیے موزوں درجہ) نہیں دیا، بلکہ ہماری ریٹنگ ہمیشہ غیر سرمایہ کاری گریڈ سے لے کر انتہائی قیاس آرائی پر مبنی اور جنک اسٹیٹس(ناقص ترین درجے) کے درمیان ہی گھومتی رہی ہے۔</p>
<p>یہ سچ ہے کہ میکرو اکنامک ڈیٹا میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے جس میں جی ڈی پی اور بڑے پیمانے کی صنعتوں  کی ترقی واضح طور پر بہتر نظر آرہی ہے لیکن اس کے باوجود اسے 3 محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے: (1) بڑے پیمانے کی صنعتوں  کی جانب سے انقباضی (سخت) پالیسیوں کو واپس لینے کا مسلسل مطالبہ کیا جارہا ہے، جس کی مثال کثیر القومی کمپنیوں  کے حالیہ خروج اور ملکی کارخانوں کی بندش سے دی جارہی ہے جو بگڑتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں (2) آئی ایم ایف سے کیے گئے اس وعدے کے باعث کہ پیداواری شعبوں کو ترغیبات نہیں دی جائیں گی، حکومت ماضی کی طرح مالی اور مانیٹری مراعات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ قیمتوں کے تعین میں مداخلت، بشمول زرعی اجناس، پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس اور بلند ٹیرف و نان ٹیرف تحفظ نے مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں پلڑا جھکا کر مسابقت کے میدان کو غیر مساوی کردیا ہے۔</p>
<p>ان تمام مراعات اور تعاون کے باوجود بزنس سیکٹر (کاروباری شعبہ) معاشی ترقی کا انجن بننے میں ناکام رہا ہے اور ان ترغیبات نے آخرکار مقابلے کی فضا کو کمزور کیا اور وسائل کو دائمی طور پر غیر فعال (بشمول مستقل طور پر نو آموز) صنعتوں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے اور (3) آئی ایم ایف کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ان شعبوں کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل میں اہم خامیاں موجود ہیں جو جی ڈی پی  کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں، جبکہ سرکاری مالیاتی اعدادوشمار (جی ایف ایس) کی تفصیلات اور ان کی ساکھ کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>چنانچہ (حکومتی) دعووں کے برعکس معیشت بدستور کمزور اور نازک ہے اور اس صورتحال کو ان شدید انقباضی (سخت) مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں نے مزید بگاڑ دیا ہے جن پر حکومت آئی ایم ایف کے احکامات  کے مطابق عمل پیرا ہے۔</p>
<p>جب تک حکومت ایک پھلتی پھولتی اور مستحکم معیشت فراہم نہیں کرتی، تب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول ایک خواب ہی رہے گا؛ تاہم ملک کی بہتر ہوتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی  صورتحال کے پیشِ نظر، شاید آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ مختصر مدت کے لیے قرضوں کی معافی کی درخواست کی جائے جس سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر موجودہ بھاری انحصار کم ہو کر معیشت کو استحکام ملے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283281</guid>
      <pubDate>Fri, 27 Feb 2026 12:27:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/02/271206000cefb4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/02/271206000cefb4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
